پر خار رہ گزر پہ ہی چلنا نہیں سدا – صغری صدف

شیئر کریں

پر خار رہ گزر پہ ہی چلنا نہیں سدا
خوشیوں کو پاؤں پاؤں مسلنا نہیں سدا

وہ دن کبھی تو آئیں گے جو میرے نام ہوں
تیرے ہی روز و شب کو بدلنا نہیں سدا

ملنا ہے عمر بھر کے لئے ہم کو ایک دن
جاتی رتوں کے طور بچھڑنا نہیں سدا

ترک تعلقات سے پہلے یہ سوچ لے
دل کو ترے ہی دم سے مچلنا نہیں سدا

قسمت تری بھی روٹھ تو سکتی ہے ایک دن
تقدیر کو مری ہی بگڑنا نہیں سدا


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے