ہمارے ہاں ایک آسان سا جملہ ہے جو ہر ناکامی، ہر بدتہذیبی اور ہر اخلاقی زوال پر بلا جھجک دہرایا جاتا ہے : ”معاشرہ بہت جاہل ہو چکا ہے۔“ یہ جملہ اتنا مقبول ہو چکا ہے کہ اب دلیل کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی جاتی۔ گویا معاشرہ کوئی الگ مخلوق ہے جو کہیں باہر بیٹھی ہمیں بگاڑ رہی ہے، اور ہم سب معصوم تماشائی ہیں۔
یہ ماننا کہ ہمارے اردگرد شور ہے، بدتہذیبی ہے، شورش زدہ گفتگو ہے، مگر ہر شور انسان کو بہرا نہیں کر دیتا۔ وہ انسان جس کی بچپن میں اچھی تربیت ہوئی ہو، جسے والدین نے صرف نصیحت نہیں بلکہ وقت دیا ہو، جس کی محفلیں دیکھی گئی ہوں اور خاموشی سے درست کی گئی ہوں، وہ انسان پھر جہالت کے ہجوم میں بھی اجنبی سا لگتا ہے۔ اس کی زبان، لباس، نشست و برخاست اور طرزِ زندگی خود ایک سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔
تاریخ ہمیں یہ سادہ مگر کڑوا سبق دیتی ہے کہ عظیم انسان کبھی مثالی معاشروں کی پیداوار نہیں ہوتے۔ سقراط کا ایتھنز علم و فلسفہ کا مرکز تھا، مگر اسی شہر نے اسے زہر کا پیالہ پلایا۔ سوال یہ نہیں کہ معاشرہ کتنا مہذب تھا، سوال یہ ہے کہ سقراط کی تربیت، اس کا شعور اور اس کی فکری پختگی اسے ہجوم سے الگ کیوں کر گئی؟ اس لیے کہ فرد اگر مضبوط ہو تو معاشرہ اس کی سوچ کو قید نہیں کر سکتا، چاہے اسے سزا ہی کیوں نہ دے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم بچوں کو بولنا تو سکھاتے ہیں، مگر بات کرنا نہیں سکھاتے۔ انہیں جیتنے کے گر تو پڑھاتے ہیں، مگر ہارنے کی تہذیب نہیں۔ پھر شکوہ کرتے ہیں کہ نئی نسل بدتمیز ہے، سوال زیادہ کرتی ہے اور احترام نہیں جانتی۔ شاید اس لیے کہ ہم نے انہیں جواب دینے سے زیادہ چپ کرانا سکھایا، سمجھانے سے زیادہ ڈانٹنا سکھایا۔
ایک تربیت یافتہ انسان کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے کہ وہ جہالت سے لڑتا نہیں، اسے نظرانداز کر دیتا ہے۔ وہ گالی کا جواب مسکراہٹ سے دیتا ہے، الزام کا جواب خاموش کردار سے، اور شور کا جواب وقار سے۔ ایسا انسان معاشرے کی گندگی میں کھڑا ہو کر بھی اپنے دامن کو صاف رکھتا ہے۔ اور یہی اصل کامیابی ہے۔


