دہرادُون: بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے شہر ریشکیش میں ہندوتوا کے جنونی غنڈوں نے مسلم اقلیت کے خلاف ظلم و جبر کی انتہا کردی۔ مودی سرکار کی حمایت میں یہ مشتعل ہجوم نہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو نشانہ بناتا ہے بلکہ انسانیت کی تمام حدود کو پامال کرتا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ریشکیش میں ایک بزرگ کا مزار جو امن و محبت کا پیغام پھیلانے والا تھا، جنونی ہندوؤں کے حملے سے تباہ ہو گیا۔ مشتعل ہجوم نے مزار کے متولی اور مقامی مسلمانوں کی درخواستوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ہتھوڑوں اور راڈوں سے مزار کو مکمل طور پر منہدم کر دیا۔ جب ان کی تعصب و نفرت کی پیاس نہ بجھ سکی، تو انہوں نے مزار کے باقی حصے کو آگ لگا دی۔
وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندوتوا کے غنڈے جے شی رام کے نعرے لگا رہے ہیں اور مزار کو بچانے کی کوشش کرنے والے مسلمانوں کو بدزبانی کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
مقامی مسلم کمیونٹی نے پولیس کے بے حسی پر شدید افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ حملہ دن دہاڑے ہوا، مگر پولیس نے نہ صرف ہمارے شکوے کو نظر انداز کیا بلکہ کوئی بھی ہماری مدد کو نہیں آیا۔
اس واقعے نے بھارت میں اقلیتوں کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات اور مذہبی تعصب کے بڑھتے ہوئے مظاہرہ کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔




