امید کی خوشبو ہے، یادوں کے دیئے روشن – ڈاکٹر سعدیہ بشیر

شیئر کریں

جنگل اْس روز غیر معمولی طور پر سنجیدہ تھا۔ ہوا میں نہ وہ پرانی سی گھن گرج تھی. نہ ہی پتوں کی سرسراہٹ میں کوئی جوش۔ پرانے برگد کے نیچے جانوروں کی وہ مجلس جمی ہوئی تھی جو عام طور پر کسی بحران، کسی نئے قانون، یا کسی بزرگ جانور کی بے دخلی یا پھر کسی بڑے اعلان پر منعقد ہوتی تھی۔    پرانے برگد کے نیچے غیر اعلامیہ پارلیمنٹ لگی تھی۔آج موضوع نہ شکار تھا۔ نہ قحط. بلکہ جنگل کے کٹتے درخت اور تباہ حال  تہذیب تھی۔ صدر اجلاس ہاتھی اپنی جگہ جمے بیٹھے تھے۔ جسم ویسا ہی مضبوط۔ مگر لہجے میں وہ اعتماد نہیں تھا جو کبھی ان کی چال کا حصہ ہوا کرتا تھا۔سب نے ہاتھی کی طرف دیکھا۔ہاتھی متانت سے گویا ہوا۔میں نے اس جنگل کو دیکھا ہے۔جب راستے پنجوں سے بنتے تھے۔جب طاقت کا مطلب ذمہ داری ہوتا تھا۔اور شکار ضرورت تھا۔ تماشا نہیں۔مگر اب کہا جاتا ہے کہ میں بومر ہوں۔ اس لیے میں اس جنگل کی نئی لڑائیوں کے قابل نہیں رہا۔لومڑ  اپنی دم سنبھالے مسکرایا۔ جیسے بات سنجیدہ ہو مگر لہجہ بدستور طنزیہ تھا۔ یہ وہی مسکراہٹ تھی جو ہمیشہ کسی نئے فتنہ کی ابتدا ہوتی ہے۔ جناب! یہ ذاتیات نہیں۔یہ جنریشنل گیپ ہے۔ آپ کا تجربہ قیمتی سہی۔مگر اب جنگل "فیلڈ” میں نہیں "فیڈ” میں چلتا ہے۔ زمانہ کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ بیانیہ سب کچھ کھا جاتا ہے۔جو چمکتی دکان لگا سکتا ہے۔ پھیکا پکوان بیچ سکتا ہے۔ وہی بچ سکتا ہے۔ بندر نے شاخ سے چھلانگ لگائی اور مجلس کے درمیان آ کر ہاتھ اٹھائے۔ اس کے ہاتھ خالی تھے۔مگر حرکات میں خود اعتمادی بھری ہوئی تھی۔اس نے کہا۔ہم نے نئے طریق سے چھلانگیں لگانا سیکھ لیا ہے۔ہم نے مناظر کو دکھانا سیکھ لیا ہے۔ میں روزانہ پانچ ویڈیوز بناتا ہوں۔ ایک درخت پر چڑھنے کی۔ایک کودنے کی۔ ایک دوسرے درخت پر جانے کی۔ایک صرف اپنی شکل دکھانے کی اور ایک بغیر وجہ کے چیخنے کی۔روز ادھر ادھر چھلانگیں لگا کر اپنی "آنیاں جانیاں ” دکھانا ہی فن کی معراج ہے۔یہ فن ہی مصروفیت اور کارکردگی کا ٹیگ ہے۔ اسی سے جنگل میں میری ریچ بڑھی ہے۔ یہ مصروفیت ہی میری سب سے بڑی اہلیت ہے۔ہاتھی نے حیرانی سے پوچھا.تو کیا اب طاقت نہیں۔ تماشا بکتا ہے۔ طوطا فوراً بول پڑا۔ جیسے کسی ٹاک شو کا اینکر ہو۔بریکنگ نیوز۔ طاقت اب اوورریٹڈ  ہے۔اگر آپ بولنا جانتے ہیں، بار بار بولنا جانتے ہیں۔ اور وہی بات دہرانا جانتے ہیں تو آپ کامیاب ہیں۔ شیر جو اب تک خاموش بیٹھا تھا، اپنی ایال جھاڑتے ہوئے بو۔میں جنگل کا بادشاہ ہوں۔ مگر سچ پوچھو تو اب مجھ سے بھی پوچھا جاتا ہے کہ آپ کا موقف کیا ہے۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی جنگل کا پرانا عکس تھا۔

اس نے دھیرے سے کہا۔ہمیں کبھی اپنی حیثیت ثابت نہیں کرنی پڑی۔

خاموشی ہماری پہچان تھی۔مگر اب خاموشی کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔لومڑ فوراً لپکا۔یہی تو مسئلہ ہے حضور! اب پینل کا دور ہے۔آپ کو ہر مسئلے پر رائے دینی ہے۔چاہے مسئلہ آپ کا ہو یا نہ ہو۔طوطا فوراً بول پڑا۔جیسے خاموشی اسے ذاتی توہین لگی ہو۔خاموشی کا دور ختم ہو چکا ہے۔جناب عالی!اب وہی سچ ہے جو سب سے زیادہ دہرایا جائے۔سچ بھی اب الگورتھم سے گزر کر آتا ہے۔ مظلوم کردار ہرن آہستگی سے آگے بڑھا۔ اس کے لہجے میں خوف کم اور تجربہ زیادہ تھا۔پہلے ہم شکاریوں سے بچتے تھے۔اب بیانیوں سے بچتے ہیں۔ایک جملہ۔ایک بیانیہ پورے سماج پر کالک تھوپ سکتا ہے۔میں تو بس یہ جانتا ہوں کہ پہلے شکار ہونے سے ڈرتا تھا۔اب کینسل ہونے سے ڈرتا ہوں۔الو، جو دانائی کی علامت تھا۔ عینک درست کرتے ہوئے بولا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ پرانے جانور ناکارہ ہو گئے ہیں۔مسئلہ یہ ہے کہ نئی نسل نے سننا چھوڑ دیا ہے۔دانائی وقت مانگتی ہے۔

اور وقت اب کسی کے پاس نہیں۔علم اب کتاب میں نہیں، تھریڈ میں ہے۔

جو ریل جتنی مختصر ہو۔ اتنی ہی سچی سمجھی جاتی ہے۔ سانپ جو ہمیشہ کنارے رہتا تھا۔ دھیمی سرسراہٹ کے ساتھ بولا۔اب زہر حملے میں نہیں۔ لہجے میں ہوتا ہے۔جو اوچھا لہجہ رکھتا ہے، وہ زیادہ خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ہاتھی نے نظریں جھکا لیں۔  آواز اب بھی مضبوط تھی۔ مگر اس میں تھکن شامل ہو چکی تھی۔ہم نے جنگل کو سنبھالا۔اس کے اچھے برے موسموں کی گرد صاف کی۔اب درختوں نے ہمیں سمجھانا شروع کر دیا ہے۔

ہم نے بنیاد رکھی۔انہوں نے ہمیں فہرست سے نکال دیا ہے۔لومڑ نے اس بار مسکراہٹ کے بغیر آخری بات کہی۔جناب! آپ بومر اس لیے نہیں کہ آپ بوڑھے ہیں۔بلکہ اس لیے ہیں  کہ آپ سوال نہیں پوچھتے۔شور نہیں مچاتے۔اور خود کو ہر لمحہ ثابت کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔اور آج کے جنگل میں یہی سب سے بڑا جرم ہے۔ اجلاس برخاست ہوا۔بندر لائیو چلا گیا۔ طوطا ہیڈ لائن بنانے لگا۔ لومڑ نے نئی حکمتِ عملی سوچ لی۔اور ہاتھی۔۔ آہستہ آہستہ برگد کے سائے سے نکل کر چل دیا۔شکار پر نہیں۔بلکہ اس سوال کے ساتھ کہ کیا جنگل واقعی بدل گیا ہے،یا صرف شور مچانے والے جانور بڑھ گئے ہیں۔ یہ جنگل کا قصہ نہیں،یہ ہر اْس معاشرے کی کہانی ہے۔ جہاں تجربہ بومر کہلاتا ہے۔خاموشی حکمت۔مصلحت کمزوری۔اور شور کو فہم کا نعم البدل بنا دیا گیا ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے