ایران میں ابھرتا بحران، عالمی دھمکیاں اور ممکنہ انقلاب – سعد مکی شاہ

شیئر کریں

8 اپریل 2025 کو میں ایران میں اپنے کئی برسوں سے زیر تکمیل سفرنامے ”مشاہدات ایران“ ، کچھ مزید جہان گردی، اپنی طبیعت کی بحالی اور کچھ سلسلہ روزگار کے سلسلے میں وارد ایران ہوا۔ 2019 کے بعد کرونا کی وجہ سے ویزہ بندش اور بعد ازاں بھی بوجوہ میں ایران نہ جا سکا۔ نئے قارئین کو بتاتا چلوں کہ میں قبل ازیں چھ مسلسل سال بسلسلہ روزگار ایران میں مقیم رہا ہوں۔ میں نے ایران کے تقریباً تمام شہر کھنگالے ہوئے ہیں۔ ان کی تہذیب و معاشرت، خیالات و روایات، مذہب و مسلک، سیاست و معیشت وغیرہ کو کافی حد تک بخوبی جانا اور پرکھا ہوا ہے۔

پانچ سال کے وقفے کے بعد ایران کی ایک ماہ کے لئے سیاحت اس مرتبہ میرے لئے کافی معاملات میں حیرت و استعجاب لئے ہوئے تھی۔ ایران میں ورود کے پہلے ہی روز ایک جھٹکا لگا کہ مشہد میں جس ٹیکسی میں ہم سوار ہوئے اس کے بزرگ ڈرائیور نے ہمیں بے دھڑک یہ بتایا کہ وہ بے دین (ملحد) ہے۔ اس سے قبل 2014 سے 2015 تک میرے ذاتی سروے کے مطابق ایران میں الحاد کی شرح 40 فیصد تک تھی اور یہ سروے بایں وجہ ممکن ہوتے کہ میرا وہاں کام ڈور ٹو ڈور (در بہ در) مارکیٹنگ تھا اور میں روزانہ کم از کم بھی تیس چالیس افراد بلا تخصیص مرد و زن ملتا تھا۔ نت نئے روابط بنتے اور میں اپنی متجسسانہ طبیعت کے پیشِ نظر مختلف النوع معلومات کشید کرتا رہتا۔

اس مرتبہ بھی میں ہر طبقہ فکر سے متعلق سینکڑوں لوگوں سے ملا مختلف معاملات میں ان کی آراء سے آگاہی لیتا رہا۔ اس مرتبہ کے سفر میں ایرانی قوم میں شدید مذہب بیزاری، الحاد، آخوند و ملائیت سے نفرت، سیاسی و معاشی نظام سے مایوسی کی انتہا پہلے سے بدرجہا زیادہ نوٹ کی۔

اس وقت ایران پر امریکی اور اسرائیلی جنگ کے سائے بھرپور انداز سے نوشتہ دیوار نظر آ رہے تھے۔ لوگ برملا یہاں تک کہہ رہے تھے کہ اگر ایران پر امریکہ یا اسرائیل نے حملہ کیا تو ہم ایرانی حکومت کے خلاف ان کا ساتھ دیں گے اور میری حماقت در حماقت دیکھئے کہ میں اس نازک اور خطرناک وقت میں اپنے یوٹیوب چینل کے لئے عامیانہ انداز سے سیاحتی وڈیوز بھی بنا رہا تھا اور لوگوں کی آرا بھی اکٹھی کر رہا تھا اس پر مستزاد سوالوں کی نوعیت بھی حماقت ہی کی حد تک خطرناک تھی۔ اگر میں کسی شبے میں دھر لیا جاتا، موبائل سکین ہو جاتا تو یقیناً آپ یہ تحریر نہ پڑھ رہے ہوتے۔ امریکہ اور اسرائیل نے اس وقت ایران میں رجیم چینج کی بھرپور کوشش کی اور ایرانی عوام کے ساتھ ساتھ وہاں اقامت پذیر افغانیوں کی بھی ایک بڑی تعداد نے ایران کے خلاف جاسوسی کی۔

ذرا اپنی یادداشت پر زور دیجئے کہ پہلے ہی ہلے میں ایران کی سیاسی و عسکری بالائی قیادت ایک ہی دن اڑا دی گئی۔ پورے ایران میں سینکڑوں دشمن آتش بردار ڈرون پہنچ جانا اندرونی غداروں کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ ایران کی طرف سے مضبوط جوابی کارروائی شاید اسرائیل کے لئے غیر متوقع تھی لہٰذا بادل نخواستہ دس بارہ دنوں میں جنگ بندی ہو گئی۔ ایران نے پہلے نمبر پر بے دریغ لاتعداد مشتبہ ایرانیوں بشمول کچھ سنی بلوچوں، دوسرے نمبر پر افغانیوں کو لٹکا دیا۔ افغانیوں کو لاکھوں کی تعداد میں ملک بدر کر دیا۔ غیر مصدقہ شنید ہے کہ جاسوسی کے الزام میں چند انڈین بھی پکڑے گئے تھے۔ (میری یہ متجسسانہ حرکات و سکنات بھی ایرانی قانون کے ذیل میں جاسوسی ہی شمار ہوتی ہیں اور خود میرے دو تین دوست بے گناہ چار چار ماہ لاپتہ، تفتیش کے مراحل سے گزر کر آئے ہوئے ہیں )

میں ایران اسرائیل جنگ جون 2025 سے قبل اپنا سفر تمام کر کے واپس آ چکا تھا مگر جنگ کے لمحے لمحے کی رپورٹ رکھی۔ کچھ دوستوں سے بھی معلومات ملتی رہیں۔ میں اب تک از حد متعجب ہوں کہ بطور ایک عام سیاح میں نے بہت ساری معلومات اکٹھی کیں اور ایران جس کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی شاید صحیح تعداد کا اندازہ لگانے سے قاصر ہوں، وہ کیسے بے شمار معاملات و معلومات سے بے خبر رہ گئیں؟

متاسفانہ، یہ میرا ناقص تجزیہ سمجھ لیں کہ شاید ایرانی انٹیلی جنس کے بھی کافی اہلکار غداری میں ملوث تھے وگرنہ اتنی تعداد میں ہائی ویلیو خفیہ ٹارگٹس کی نشاندہی عوام کے بس کی بات تو نہیں تھی۔ ایران سے واپسی پر میں شدید متاسف اور ملول تھا کہ ایرانی شاید بہت سی حدیں ایسی بھی کراس کرنا چاہ رہے ہیں جو بحیثیت قوم خود ان کے حق میں بھی نقصان دہ ہوں۔

اور آج ایران ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ آج 3 جنوری 2026 کو، دسمبر 2025 کے آخر میں شروع ہونے والے معاشی، سماجی، مذہبی، سیاسی بحران نے ملک بھر میں احتجاج کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے جو اب پانچویں سے چھٹے دن میں داخل ہو چکی ہے۔ افراط زر، کرنسی کی قدر میں ریکارڈ کمی اور بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ نے عام شہریوں کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ احتجاج تہران کے ”بازار بزرگ“ سے شروع ہوئے اور اب 20 صوبوں اور 70 سے زائد شہروں تک پھیل چکے ہیں، جن میں شمالی، مغربی اور جنوب مشرقی علاقے شامل ہیں۔ یہ نہ صرف ایران کی داخلی سیاست کو ہلا رہے ہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں، امریکہ اور اسرائیل کی ممکنہ فوجی کارروائیوں کی افواہیں اور ایرانی سیستان و بلوچستان کی جیش العدل اور جنداللہ جیسی علیحدگی پسند تنظیموں کی دھمکیاں اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ دوسری طرف مذہب بیزاری، الحاد کی شرح محتاط تخمینوں کے مطابق 70 فیصد کے لگ بھگ ہو چکی ہے نیز یہ میری ذاتی رائے ہے آپ اس سے اختلاف کا حق رکھتے ہیں (میں نے وہاں مستقل رہائش پذیر پاکستانی شیعہ و سنی کمیونٹی کے متعدد افراد سے بھی ایران میں الحاد سے متعلق اعداد و شمار کی بابت رائے طلب کی، یقین کیجئے ان کے دیے گئے اعداد و شمار کے مقابلے میں، میں نے کافی اعتدال کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کی ہے)۔ ہمدان میں قرآن مجید اور دیگر مقدس مذہبی کتب جلانے کے قابل افسوس واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ زن زندگی آزادی کے نعرے دوبارہ بہ شدت لگ رہے ہیں۔ حجاب تو کب کا ہوا ہو چکا، تہران میں نیکر شرٹ میں ملبوس جوان خواتین کو میں دیکھ آیا ہوں۔ ان کی مطلوبہ کپڑوں سے باہر آزادی کے مظاہرے بھی ایران میں اب روزمرہ بازاروں میں عام ہیں۔ انہیں اس سے بھی زیادہ آزادی درکار ہے جو یقین کیجئے قابلِ مذمت ہے۔

ایرانی اب اسے زائد از ضرورت مذہبی جبر کہیں یا شدید آمریت، میرے مشاہدات کے مطابق تو وہ انقلاب کے شروع کے چند سالوں کے بعد سے آزاد ہی چلے آ رہے ہیں۔ ہاں ان کے معاشی برابری یا حصول معاش کے مطالبات سراسر جائز ہیں۔ ایران کی معیشت گزشتہ کئی سالوں سے مشکلات کا شکار ہے لیکن 2025 کے آخر میں یہ بحران ایک نئی سطح پر پہنچ گیا۔ ایرانی ریال کی قدر میں ریکارڈ کمی نے درآمدات کی قیمتوں کو آسمان چھونے پر مجبور کر دیا جبکہ افراط زر کی شرح 50 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستانی 2240 روپے کے بدلے ایرانی دس لاکھ تمان تک کرنسی گر چکی ہے۔

دکانداروں اور تاجروں نے کرنسی کی گراوٹ کے خلاف احتجاج شروع کیا، جو تیزی سے ملک بھر میں پھیل گیا۔ یہ احتجاج اب تک کے سب سے بڑے سمجھے جا رہے ہیں جو 2022 کے مہسا امینی احتجاجوں کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔

(میں یہاں سے بطور زاد سفر چھ سات سو ڈالرز لے گیا تھا کہ ایران کی کرنسی سے روپے کی نسبت بہتر ایکسچینج ہو جائیں گے۔ پاکستان سے 283 روپے کا ڈالر لیا وہاں جا کر دس بارہ دنوں بعد 243 اور آخری دنوں میں آخری 100 ڈالر کا نوٹ 228 روپے پاکستانی کے برابر بیچا۔ ایران میں ڈالر کی یہ ناقدری بھی تعجب انگیز اور کمال تھی کہ مجھے مالی نقصان دے گئی۔ (وجہ اس کی یہ تھی کہ ایرانیوں نے ڈالرز کی خرید و فروخت کا بائیکاٹ کر رکھا تھا)

ابتدائی طور پر یہ احتجاج معاشی مطالبات پر مبنی تھے، جیسے قیمتوں میں کمی، کرنسی کی قدر میں استحکام اور حکومتی امداد، لیکن جلد ہی یہ حکومت مخالف نعروں میں تبدیل ہو گئے، جیسے ڈکٹیٹر کو موت، یہ آخری جنگ ہے، جاوید رضا پہلوی واپس آئے گا اور ”غربت، کرپشن، افراط زر، ہم حکومت کے خاتمے کی طرف جا رہے ہیں، مرگ بر خامنہ ای، مرگ بر آخوند و ملائیت وغیرہ۔ یہ نعرے ایران کی داخلی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں عوام نہ صرف معاشی مسائل بلکہ بالکلیہ نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ امام خمینی اور راہبر خامنہ ای کے مجسمے بھی گرائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

انٹرنیٹ کی مکمل بندش ہے جو عوام کو مزید غصے اور غیظ و غضب میں مبتلا کرتی جا رہی ہے۔ احتجاج اب 70 سے زائد شہروں تک پھیل چکے ہیں، جن میں تہران، قم، اصفہان، قزوین، مرودشت، ہمدان، خرمشہر، فیروز آباد، سبزوار، نیشاپور، نہاوند، یزد، رشت، اراک، خرم آباد، ازنا، خوزستان، اہواز، چہارمحل و بختیاری، نجف آباد، کرمان، جزیرہ قشم، جزیرہ کیش، شیراز، تبریز، مشہد، بابل، بندر عباس، گرگان، زاہدان اور لورستان جیسے علاقے شامل ہیں۔ شمالی ایران، جیسے مازندران اور گلستان صوبوں میں احتجاج تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ بابل میں مظاہرین نے سیکورٹی فورسز پر حملے کیے ہیں جبکہ لورستان میں پولیس سٹیشن پر حملے کر کے جلائے گئے ہیں۔ یہ احتجاج اب دیہی علاقوں تک بھی پہنچ چکے ہیں جہاں لر قوم کی اکثریت ہے اور وہاں ہلاکتیں بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔

یہ احتجاج پر امن شروع ہوئے لیکن سیکورٹی فورسز کی طرف سے تشدد، آنسو گیس اور فائرنگ نے انہیں خونی بنا دیا ہے۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 8 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ سیکورٹی فورسز میں سے بھی کئی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ بندہ کو موصولہ اطلاعات کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد درجنوں میں ہے۔ یکم جنوری تک لورستان میں 3 مظاہرین ہلاک ہوئے جبکہ لوردیگان میں 2 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں جبکہ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔

گرفتاریوں کا سلسلہ اپنی بھرپور ہولناکیوں سے جاری ہے۔ سرکاری و آزاد ذرائع کے مبینہ طور پر تہران میں 30 افراد کو گرفتار کیا گیا، جبکہ کوہ دشت میں 20 اور دیگر شہروں میں مزید گرفتاریاں ہوئیں نیز لاپتہ افراد کی تعداد بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق احتجاجوں میں 119 گرفتاریاں، 7 ہلاکتیں اور 33 زخمی ریکارڈ کیے گئے۔ یہ اعداد و شمار تیزی سے تبدیل ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ احتجاج جاری ہیں اور سیکورٹی فورسز کا کریک ڈاؤن شدید ہے۔

یہ بحران صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ 2025 میں ایران میں 2200 سے زائد افراد کو پھانسی دی گئی جو ایک ریکارڈ ہے۔ یہ اعداد حکومتی دباؤ کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں جو احتجاجوں کو مزید ہوا دے رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے احتجاجوں کے دوران ایران کو شدید دھمکی دی ہے انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ اگر ایران پرامن مظاہرین کو مارے گا تو امریکہ ان کی مدد کرے گا۔ ”ہم حملے کے لئے تیار ہیں“ ۔ یہ دھمکی احتجاجوں کے پانچویں دن سامنے آئی ہے جب ہلاکتیں بڑھنے لگی ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہوا ہے کہ اگر ایران اپنا نیوکلیئر پروگرام دوبارہ شروع کرے گا تو امریکہ ”انہیں جہنم میں بھیج دے گا“ ۔

ٹرمپ کی یہ دھمکیاں نئی نہیں ہیں۔ 2025 میں بھی انہوں نے ایران کو متنبہ کیا تھا اور اب 2026 میں یہ تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ یہ بیانات امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤ کو عروج پر لے جا رہے ہیں جو احتجاجوں کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی ملاقات میں ایران پر ممکنہ حملوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ جون 2025 کی جنگ کے بعد ایران اپنے میزائل اور نیوکلیئر پروگرام کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اسرائیل اور امریکہ کے لیے یقینی خطرہ ہے۔ ٹرمپ نے کہا ہوا ہے کہ اگر ایران میزائل پروگرام بحال کرے گا تب بھی حملہ کیا جائے گا۔

اسرائیلی انٹیلی جنس کا خیال ہے کہ ایران کا میزائل پروڈکشن 2026 کے آخر تک ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جواب میں کہا کہ کسی بھی حملے کا جواب ”شدید اور افسوسناک“ ہو گا۔ یہ تناؤ 2026 کو ایک جنگی سال بنا سکتا ہے جہاں ایران کی بے شمار داخلی کمزوریاں خارجی حملوں کو دعوت دے رہی ہیں۔ جیش العدل، ایک بلوچ جہادی گروپ، ایران کے جنوب مشرقی علاقوں میں فعال ہے۔ 2025 میں اس نے متعدد حملے کیے، جن میں سیکورٹی فورسز پر حملے شامل ہیں۔ نومبر 2025 میں جیش العدل نے دیگر بلوچ گروپس کے ساتھ مل کر ”مبارزین پاپولر فرنٹ“ (ایم پی ایف) بنایا جو ایران میں ”گہری سیاسی تبدیلی“ کا مطالبہ کرتا ہے۔

یہ اتحاد ایران کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے کیونکہ یہ ایرانی سیکورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔ دسمبر 2025 میں انہوں نے زاہدان میں IRGC کے 4 ارکان کو ہلاک کیا۔ جیش العدل نے احتجاجوں کا فائدہ اٹھانے کی دھمکی دی ہے جو ایران کی داخلی سیکورٹی کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔  جنداللہ جو جیش العدل کا پیشرو ہے، بھی ایران میں فعال رہا ہے۔ یہ گروپ بلوچ حقوق کا دعویدار ہے لیکن ایران اسے دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ 2025 میں، جنداللہ سے وابستہ گروپس نے بھی حملے کیے جن میں سیستان و بلوچستان میں پولیس اسٹیشن پر حملہ شامل ہے۔ یہ گروپ ایران کی سرحد پر فعال ہیں۔

یہ دھمکیاں ایران کی سرحدی سیکورٹی کو چیلنج کر رہی ہیں۔ 2026 میں یہ گروپ احتجاجوں کا فائدہ اٹھا کر ایران کو مزید غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔ ایران کا بحران صرف داخلی نہیں بلکہ بین الاقوامی بھی ہے۔ معاشی مسائل، احتجاج، ہلاکتیں اور گرفتاریاں حکومتی کمزوری کو ظاہر کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کی دھمکیاں اور امریکہ، اسرائیل کے ممکنہ حملے ایران کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ جیش العدل اور جنداللہ جیسی تنظیمیں داخلی دھمکیاں ہیں۔

میرا خیال ہے کہ 2026 ایران کے لیے مزید خطرات سے بھرا ہوا ہے اگر احتجاج جاری رہے تو حکومت گر سکتی ہے یا خارجی حملے ہو سکتے ہیں۔ ایران کو سفارتی حل تلاش کرنا چاہیے ورنہ علاقائی جنگ کا خطرہ ہے۔ یہ بحران ایران کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جو اس کے مستقبل کی سمت کا تعین کرے گا۔ متاسفانہ پہلو یہ ہے کہ ایران کو تنہا ہشت پہلو لڑنا پڑ رہا ہے۔ کوئی بھی مسلمان ملک اس کی اور کچھ نہیں تو مالی معاملات میں دست تعاون تو بڑھا ہی سکتا ہے۔ اگر ایران بین الاقوامی معاشی پابندیوں میں جکڑا ہوا نہ ہوتا تو اس جیسا شاندار ملک میری نظر میں کوئی ہو ہی نہیں سکتا ہے۔

ایران اگر ان حالیہ داخلی بحرانوں پر کنٹرول حاصل کر بھی لیتا ہے تب بھی جلد یا بدیر رجیم چینج نوشتہ دیوار ہے۔ بایں وجہ کہ حکومت معاشی اصلاحات کے وعدے کر رہی ہے مگر اب عوام رجیم چینج کے اپنے دیرینہ خواب و خواہش سے پیچھے ہٹنے پر آمادہ نظر نہیں آ رہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے