اسلام آباد کی ایک دہشت گردی عدالت نے ملک سے مفرور متعدد صحافیوں، تجزیہ نگاروں، یوٹیوبرز اور ایک سابق آرمی افسر کو دو بار عمر قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔ ان لوگوں کو یہ سزائیں سانحہ 9 مئی سے متعلق مقدموں میں دی گئی ہیں۔ استغاثہ کا موقف تھا کہ ان لوگوں نے ڈیجیٹل دہشت گردی کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلائی اور لوگوں کو حملوں پر اکسایا۔
ماضی میں چونکہ ایسی صورت حال مشاہدہ کی جا چکی ہے، اس لیے اس امکان کو مسترد نہیں دیا جا سکتا کہ آج عمران خان اور تحریک انصاف کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے والے کسی آنے والے پاکستان میں ’ہیرو‘ اور آزادی رائے کے چیمپئن کے طور پر پیش کیے جائیں۔ البتہ فی الوقت ملک میں موجود صورت حال میں ایسا امکان موجود نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ملک کو دو انتہاؤں میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور دونوں اپنے اپنے ہتھیار اٹھائے ایک دوسرے پر الزامات کے تیر برسانے میں مستعد ہیں۔ اسے عام طور سے سوشل میڈیا پر جاری مہم جوئی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حکومت انہی حالات پر قابو پانے کے لیے زیریں عدالتوں سے ایسے لوگوں کو بھی سزائیں دلانے کا اہتمام کر رہی ہے جو بظاہر نہ تو اس کی دسترس میں ہیں اور نہ ہی اس بات کا امکان ہے کہ انہیں کسی عالمی طریقہ کار کے تحت ملک واپس لاکر جیلوں میں بھیجا جا سکے گا۔
پھر انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کو ملک کے متعدد نامور اور جانے پہنچانے صحافیوں کو طویل المدت یا دوسرے لفظوں میں عبرت ناک سزائیں دے کر کیا حاصل ہو گا؟ عدالت کی حد تک تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس نے قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے اپنا فریضہ نبھایا ہے۔ اب یہ اس کے سوچنے کا معاملہ نہیں ہے کہ سزائیں پانے والے لوگ ملک میں موجود نہیں ہیں یا وہ کبھی جیل نہیں بھیجے جا سکیں گے۔ انگریزی محاورے کے الفاظ میں ’کتاب کے مطابق‘ ہونے والی اس کارروائی کے بارے میں اگر یہ سو فیصد سچائی ہوتی تو اس پر تشویش یا پریشانی کی کوئی بات نہیں تھی۔ بدقسمتی سے ملکی عدالتی نظام کے بارے میں جو تاثر عام ہے اور جیسے یہ نظام حکومت مخالفین و حامیوں کے بارے میں فیصلے کرتے ہوئے دو مختلف پیمانے استعمال کرتا ہے، اس کی روشنی میں یہ معمول کی عدالتی کارروائی سے بڑھ کر معاملہ کہا اور سمجھا جائے گا۔ اسے اسی طرح بیان بھی کیا جائے گا۔ اس تاثر کے حوالے سے ان سزاؤں پر غور کرتے ہوئے یہ سوال اٹھانا پڑتا ہے کہ حکومت یا ملک کے طاقت ور ادارے، سانحہ 9 مئی کے دو اڑھائی سال بعد محض زبانی یا تحریری طور پر حکومت یا ریاست مخالف موقف اختیار کرنے والوں کو سزائیں دلا کر کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟
یہ سزائیں دینے سے ممکنہ طور سے یہ مقصد حاصل کرنے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے کہ جن لوگوں کو سزائیں دی گئی ہیں، وہ ان کی سنگینی اور پاکستان میں اپنے تمام راستے مسدود ہونے کے خوف میں درپردہ حکومت سے یا بعض با اثر اداروں کے ساتھ معاملات طے کرنے کی کوشش کریں گے۔ یا وہ پروپیگنڈا اور نفرت کی مزید مہم جوئی کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اور دوسرے شاید حکومت کے ساتھ ’ڈیل‘ کے نتیجے میں ایک بار پھر انہیں اداروں کے زیر سایہ آنے کی کوشش کریں جن کی آغوش التفات میں پرورش پاکر وہ مائیکروفون کو ہتھیار بنانے کے قابل ہوئے تھے۔ انسداد دہشت گردی عدالت کا یہ فیصلہ اگر سوشل میڈیا کے ذریعے امریکہ و برطانیہ میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف مہم جوئی کرنے والے عناصر کے لب و لہجہ پر اثر انداز ہوتا ہے یا مستقبل میں یہ لوگ اپنی زہر ناکی سے تائب ہو جاتے ہیں تو بھی کہا جائے گا کہ حکومت کسی حد تک اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی ہے۔ حکومت اور ریاستی ادارے ایک حد تک یہ واضح کرنے اور تسلیم کرانے میں کامیاب ہوچکے ہیں کہ موجودہ نظام مستحکم ہے اور نفرت انگیز مہموں یا سیاسی مظاہروں سے اسے تبدیل کرنے کا امکان نہیں ہے۔ یہ صورت حال بعض لوگوں کے حوصلے کمزور کرنے کا سبب ضرور بن سکتی ہے۔ لیکن دوسری طرف سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے والے لوگ ان ذرائع سے بے شمار مالی وسائل حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس کشش کے ہوتے ہوئے ایک عدالتی فیصلہ شاید ان لوگوں کو ’راہ راست‘ پر لانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
اس بارے میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایک طرف ملک میں میڈیا کو پابہ زنجیر کیا جا رہا ہے تو دوسری طرف بیرون ملک بیٹھے بعض عناصر تمام صحافتی و اخلاقی اقدار کے برعکس جھوٹ اور شر پسندی پھیلا کر ماحول خراب کرتے ہیں۔ عوام کے پاس چونکہ جھوٹ سچ کو جانچنے کا کوئی آلہ نہیں ہوتا، اس لیے وہ اپنی سیاسی سوچ یا پسند و ناپسند کے مطابق جھوٹ کو بھی دنیا کی سب سے بڑی سچائی سمجھنے لگتے ہیں۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے ذریعے ففتھ جنریشن وار کے نام پر یہ مہم جوئی انہی ریاستی اداروں نے ایک خاص سیاسی ایجنڈا نافذ کرنے کے لیے شروع کی تھی جو اس وقت خود سے ’باغی‘ ہو جانے والے ان عناصر کی زد پر ہیں۔ ملکی اداروں کے لیے ماضی قریب کا یہ سبق بھی عبرت ناک ہونا چاہیے اور اس سے سیکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ البتہ میڈیا کے مفرور لوگوں کو سزائیں دلا کر سیکھنے کا یہ عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

