سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ نظر سے گذری جو اراضی ریکارڈ سنٹر ملتان کی ایک ویڈیو پر مشتمل تھی۔ بتایا گیا تھا کہ اراضی سنٹر کا انچارج مین گیٹ پر ایک گھنٹے سے کھڑا ڈپٹی کمشنر ملتان کا انتظار کر رہا ہے جو اراضی سنٹر کے دورے پر آ رہے تھے، اس کی وجہ سے اراضی سنٹر کا کام رُکا ہوا ہے اور سائلین جن میں خواتین بھی شامل ہیں، پریشان ہو رہے ہیں۔یعنی ضلع کے صاحب بہادر کا دورہ جو شاید عوام کو ریلیف پہنچانے کے لئے رکھا گیا ہو،اُلٹا تکلیف کا باعث بن گیا۔اسی ویڈیو میں ایک عورت بھی دکھائی گئی جو پچھلے پندرہ دِنوں سے اراضی ریکارڈ سنٹر میں رجسٹری کے مطابق ولدیت درست کرانے کے لئے آ رہی تھی اور روزانہ اُس کا رکشہ کا کرایہ پانچ چھ سو روپے بن رہا تھا اسے جب کہا گیا ڈی سی صاحب آ رہے ہیں تم اُن سے شکایت کرنا تو اُس نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا میں ایسی غلطی نہیں کروں گی، کیونکہ ڈی سی تو ایک دو گھنٹے بعد چلے جائیں گے پیچھے یہی لوگ ہوں گے میرا کام مزید بگاڑ دیں گے،پھر اسی ویڈیو میں دکھایا گیا ڈی سی کا قافلہ اراضی ریکارڈ سنٹر متی تل روڈ پہنچا، وہ صاحب بہادر گاڑی سے اُترے تو اُسی اے ڈی ایل آر نے اُن کا پُرتپاک استقبال کیا، جس کے ہوتے خلق خدا اراضی ریکارڈ سنٹر میں پریشان ہو رہی تھی۔ اس کے بعد یہ ویڈیو ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد میری چشم تصور بیدار ہوئی اور میں نے دیکھا ڈپٹی کمشنر اے ڈی ایل آر کی کرسی پر بیٹھے معلومات لے رہے ہیں جو ظاہر ہے انہیں سب اچھا کی رپورٹ ہی دے رہا ہوگا۔ہر سرکاری دفتر کا انچارج اپنے افسروں کو راوی کے چین ہی چین لکھنے کی کہانی سناتا ہے،ویسے بھی کوئی افسر ایک دن پہلے ہی اپنے دورے کا شیڈول بھجوا دیتا ہے تو وہاں سب اچھا کی رپورٹ کے سوا کچھ ملتا ہی نہیں،پھر وہ افسر جس کی شکایات پر بڑے افسر کو معائنہ کرنے کی ضرورت پیش آئی بنفس ِ نفیس اُس کے استقبال کی خاطر موجود ہو تو ایسے دورے بیوور کریسی کے خانہ پُری نظام کا پیٹ بھرنے کے سوا کچھ نہیں دیتے۔ مجھے ماضی میں کئی بار اراضی ریکارڈ سنٹر جانے کی ضرورت پیش آ چکی ہے،میرا تجربہ کچھ اچھا نہیں۔ یہ اراضی ریکارڈ سنٹرز اس لئے بنائے گئے تھے کہ عوام کو پٹواری نظام سے نجات ملے مگر جہاں کرپشن اور بے ایمانی خون میں سرایت کر چکی ہو تو ہر اچھا کام بھی پٹ کر رہ جاتا ہے۔ان اراضی سنٹروں کا سب سے بڑا حربہ یہ ہے کہ ان میں رجسٹری کے مطابق کوائف نہیں لکھے گئے جب یہ سنٹرز بن رہے تھے تو پٹواریوں، تحصیلداروں کو حکم دیا گیا تھا وہ دن رات کام کر کے زمینوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کرائیں،اس چھینا جھپٹی میں کوائف کی صحت کا خیال نہیں رکھا گیا اور آگے چل کر یہی اراضی ریکارڈ سنٹر والوں کی کمائی کا بڑا ذریعہ بن گیا۔ اب خلق ِ خدا اپنی فرد ملکیت کے لئے خوار ہوتی ہے،جو پتہ نہیں کہاں کہاں سے تصحیح و تصدیق کرانے کا کہا جاتا ہے حالانکہ بڑا سادہ سا حل ہے کہ جو زمین کی رجسٹری میں لکھا ہوا ہے،اُس کے مطابق کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ میں تبدیلی کر دی جائے مگر نہیں صاحب، پھر وہی چکر چلتا ہے،پٹواری کے پاس جاؤں، تحصیلدار سے تصدیق کراؤ، پھر اے سی ریونیو سے منظوری لوخ تب جا کے اراضی ریکارڈ سنٹر آ سکتے ہو، جس کے بعد اے ڈی ایل آر کی مرضی ہے، مانے یا نہ مانے۔
خیر یہ تو ایک دفتر ایک محکمے کی کہانی ہے۔ ہم جیسے سادہ لوحوں کو معلوم نہیں یہاں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے۔ ہماری سادہ لوحی یہ بھی ہے کہ بڑے افسر کو شکایت کریں گے تو مسئلہ حل ہو جائے گا، حالانکہ بڑے افسروں کی افسری اور کمائی کا دارو مدار اپنے دفاتر اور محکموں کے انہی نچلے افسروں اور اہلکاروں پر ہوتا ہے،جیسے تھانے ضلعی افسر کے لئے کمائی کا ذریعہ ہوتے ہیں اُسی طرح ہر محکمے کے ماتحت درحقیقت شکاری کا وہ جال ہوتے ہیں جو افسر اعلیٰ کے لئے شکار پھانستا ہے۔میرے ایک ایماندار افسر نے بہت عرصے پہلے مجھے کہا اِس ملک میں ایمانداری سے کام کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ میں سمجھا وہ کہہ رہے ہیں ایمانداری سے کام کریں گے تو عام لوگ اُن کے دشمن بن جائیں گے مگر نہیں انہوں نے بتایا ایمانداری کا مطلب یہ ہے آپ اپنے ماتحت اور اعلیٰ افسروں کو ناراض کر لیں کیونکہ جس نظام کا یہاں دور دورہ ہے،اُس میں کوئی بھی ایماندار اُس طرح کی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے،جو سیوریج کے پائپ کو بند کر دیتی ہے۔پولیس کے محکمے میں تو ”واردات“ اور بھی زیادہ خطرناک طریقے سے ڈالی جاتی ہے اگر کسی ضلع میں ایماندار افسر آ جائے تو اسے بڑی صفائی سے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ظاہر کوئی ایماندار افسر آتا ہے تو تھانوں میں کرپشن کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اُس کی اِس کوشش کو ناکام بنانے کے لئے اُس کے ضلع میں کرائم ریٹ بڑھا دیا جاتا ہے۔مجھے یہ بات خود میرے دو تین قریبی پولیس افسروں نے بتائی،انہوں نے کہا جب وارداتیں بڑھتی ہیں تو میڈیا آسمان سر پر اُٹھا لیتا ہے۔اعلیٰ افسر رپورٹیں منگوانا شروع کر دیتے ہیں، ضلع کا ڈی پی او زیادہ سے زیادہ تھانوں کے ایس ایچ او تبدیل کر سکتا ہے۔ کرائم پر کنٹرول تو انہی ایس ایچ اوز نے کرنا ہے جو سب ایک جیسے خمیر سے بنے ہوتے ہیں نتیجہ یہ نکلتا ہے،یا تو حکومت ڈی پی او کو تبدیل کر دیتی ہے یا پھر ایماندار افسر مصلحت کا شکار ہو جاتا ہے۔
ہر افسر کی محکمانہ حدود کا دائرہ کچھ زیادہ بڑا نہیں ہوتا، مثلاً کسی ضلع کے ڈی پی او کے تھانوں کی حدود دو چار یا چھ کلو میٹر کے اندر ہوتی ہے۔ وہ جب چاہے بغیر اطلاع کے معائنہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح کسی ضلع کا ڈپٹی کمشنر بھی کسی بحرہئ اوقیانوس پر افسر نہیں کر رہا ہوتا۔ اب یہ ملتان کی مثال ہی دیکھئے، اراضی ریکارڈ سنٹر ضلع کچہری سے صرف چار کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ڈپٹی کمشنر کو کیا ضرورت ہے کہ وہ پہلے اعلان کرے کہ وہ آ رہا ہے اور پھر پروٹوکول کے ساتھ، دفتر میں چند فائلیں دیکھ کر اپنی راہ لے۔اُسے تو کسی وقت بھی بغیر بتائے اپنے ضلع کے کسی بھی دفتر میں اچانک پہنچ جانا چائے اور دیکھنا چاہئے عام حالات میں مخلوقِ خدا پر اِن دفاتر میں کیا گزرتی ہے، مگر نہیں جناب اس طرح تو وہ تمام سسٹم ناکارہ ہو جائے گا، جو اس کرپٹ دفتری نظام کو سہارا دیئے ہوئے ہے۔عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے اس نظام کے درجہ بدرجہ سہولت کاروں نے یہ راہ نکالی کے کھلی کچہریوں کا ڈرامہ رچانا شروع کر دیا۔

