آج پاکستان کو جس سب سے بڑے خطرے کا سامنا ہے وہ صرف معاشی یا انتظامی نہیں، بلکہ سیاسی نفرت، انتقام اور عدم برداشت کا وہ ماحول ہے جس نے قومی مکالمے کو مفلوج کر دیا ہے۔ اختلاف رائے اب اختلافِ دشمنی میں بدل چکا ہے، اور سیاست خدمت کے بجائے توڑ پھوڑ کا ہتھیار بنتی جا رہی ہے ۔ ایسے میں پاکستان کو ایک بار پھر ان سیاسی افکار کی طرف لوٹنے کی ضرورت ہے جو برداشت، مصالحت اور اصولی جدوجہد پر مبنی تھیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خواجہ سعد رفیق اور نوابزادہ نصراللہ خان کی سیاسی سوچ ایک دوسرے سے جڑ کر ایک واضح قومی راستہ دکھاتی ہے
نوابزادہ نصراللہ خان:
نوابزادہ نصراللہ خان پاکستانی سیاست میں ضمیر کی آواز سمجھے جاتے تھے۔ وہ اقتدار میں کم اور جدوجہد میں زیادہ نظر آئے، مگر کبھی انتقام، ذاتی انا یا نفرت کی سیاست کا حصہ نہیں بنے۔ان کا بنیادی اصول تھا سیاست کا مقصد مخالف کو کچلنا نہیں، نظام کو درست کرنا ہے۔ انہوں نے آمریت کے خلاف اتحاد بنائے، مگر ذاتی دشمنیاں نہیں پالیں۔ اختلاف رکھا، مگر احترام کے ساتھ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مختلف الخیال جماعتوں کو ایک میز پر بٹھانے میں کامیاب ہوتے رہے۔ آج پاکستان کو اسی سوچ کی شدید ضرورت ہے۔
خواجہ سعد رفیق:
خواجہ سعد رفیق کی سیاست ، اگرچہ ایک مختلف دور میں پروان چڑھی ، مگر اس کی جڑیں بھی جمہوری تسلسل ، اداروں کے احترام اور مکالمے میں پیوست ہیں۔ وہ بارہا اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ:
• ریاست افراد سے نہیں، اداروں سے چلتی ہے
• سیاسی اختلاف کا علاج سیاسی انتقام نہیں
• جمہوریت کا حسن برداشت اور مکالمہ ہے
یہ سوچ دراصل نوابزادہ نصراللہ خان کی روایت کا جدید اظہار ہے یعنی نظام بچاؤ، انا نہیں، دانشوروں اور محب وطن سیاست دانوں کی اجتماعی ذمہ داری قوم کو متحد کرنا ، یہ وقت محض بیانات کا نہیں بلکہ فوری اور اجتماعی فیصلے کا ہے۔ ملک کے جید دانشور، سینئر سیاست دان، سابق پارلیمنٹرینز اور فکری رہنما اگر خاموش رہے تو تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔ان سب کو مل کر یہ کردار ادا کرنا ہوگا:
• سیاسی نفرت کے بیانیے کو علمی اور اخلاقی طور پر چیلنج کرنا
• انتقام کی سیاست کو غیر جمہوری اور غیر اخلاقی قرار دینا
• نوجوان نسل کو یہ باور کرانا کہ سیاست کا مقصد خدمت ہے، دشمنی نہیں
• ذاتی مفادات، وقتی مقبولیت اور جماعتی تعصب کو بالائے طاق رکھنا
یہ کوئی آسان راستہ نہیں، مگر واحد قابلِ نجات راستہ ضرور ہے توڑ پھوڑ کی سیاست ریاست کے لیے زہرِ قاتل ہے جب سیاست میں صرف یہ سوال رہ جائے کہ کون جیتے گا اور کون تباہ ہوگا تو ریاست ہار جاتی ہے۔
• ادارے کمزور ہوتے ہیں
• معیشت عدم استحکام کا شکار ہوتی ہے
• عوام مایوس ہو کر سیاست سے دور ہو جاتے ہیں
نوابزادہ نصراللہ خان نے ہمیشہ خبردار کیا تھا کہ ریاست کو کمزور کرنے والی سیاست، چاہے کسی کے نام پر ہو، غداری کے مترادف ہے۔ یہ انتباہ آج پہلے سے زیادہ سچ ثابت ہو رہا ہے۔
فوری فیصلہ: تاریخ کسی کا انتظار نہیں کرتی اب وقت آ گیا ہے کہ:
• سیاسی قیادت نفرت کے بیانیے سے واضح لاتعلقی کا اعلان کرے
• قومی مفاہمت کو کمزوری نہیں، دانشمندی سمجھا جائے
اقتدار نہیں، ریاست کو مقدم رکھا جائے
یہ فیصلہ کل پر نہیں چھوڑا جا سکتا، کیونکہ ملک کے حالات مزید تجربات کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔سیاست کو عبادت بنانا ہوگا اگر سیاست عبادت نہیں تو کم از کم امانت ضرور ہونی چاہیے۔
نوابزادہ نصراللہ خان کی دیانت، اور خواجہ سعد رفیق جیسے سیاست دانوں کی مصالحتی سوچ اگر ان دونوں کو قومی سطح پر اپنایا جائے تو پاکستان نفرت اور انتقام کے دائرے سے نکل سکتا ہے۔ یہ پیغام، اور یہ اپیل کسی ایک جماعت یا شخصیت کے لیے نہیں، بلکہ پاکستان کے لیے ہے۔کیونکہ یا ہم آج ذاتی مفادات سے اوپر اٹھ جائیں، یا کل تاریخ ہمیں اٹھا کر ایک طرف رکھ دے گی یہ وقت ٹھہراؤ کا نہیں، بہاؤ کا ہے۔ وہی بہاؤ جو دریا کو جمود سے بچاتا ہے اور وہی بہاؤ جو قوموں کو سڑنے نہیں دیتا۔ سیاست جب رک جائے، نفرت میں جم جائے اور انتقام کی دلدل میں اتر جائے تو وہ دریا نہیں رہتی، بدبودار تالاب بن جاتی ہے۔ پاکستان آج اسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں بہتا دریا بننا ہے یا ٹھہرا ہوا پانی۔
اقبال نے بہت پہلے خبردار کر دیا تھا کہ:
’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
سکون محال ہے قدرت کے کارخانے میں‘‘
یہ شعر محض فلسفہ نہیں، ایک قومی ہدایت نامہ ہے۔ جو قومیں تبدیلی، مکالمے اور ارتقا سے انکار کرتی ہیں، تاریخ انہیں پیچھے چھوڑ دیتی ہے۔ سیاست میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ نفرت، انتقام اور توڑ پھوڑ کی سیاست دراصل اس تغیر سے فرار ہے جو اصلاح کا تقاضا کرتا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں نوابزادہ نصراللہ خان کی سیاسی سوچ ایک چراغ کی مانند نظر آتی ہے۔ وہ سیاست کو دریا سمجھتے تھے جس میں مختلف دھارائیں آتی ہیں، مگر مقصد ایک ہی رہتا ہے: منزل تک پہنچنا۔ وہ جانتے تھے کہ اختلاف دریا کی موجیں ہیں، دشمنی اس کا زہر۔ اسی لیے وہ آمریت کے خلاف سخت تھے، مگر مخالف سیاست دان کے لیے دل میں کدورت نہیں رکھتے تھے۔ اسی روایت کا جدید عکس ہمیں خواجہ سعد رفیق کی سیاسی فکر میں دکھائی دیتا ہے جہاں بات انا کی نہیں، نظام کی ہوتی ہے؛ جہاں زور تصادم پر نہیں، تسلسل پر ہوتا ہے اور جہاں سیاست کو انتقام کے بجائے مکالمے سے جوڑا جاتا ہے۔ یہ وہ سیاست ہے جو شور نہیں مچاتی، بلکہ راستہ بناتی ہے
پاکستان کو آج ایسے ہی بہاؤ کی ضرورت ہے ایسا بہاؤ جو دانشوروں کو خاموش تماشائی نہ رہنے دے ایسا بہاؤ جو محب وطن سیاست دانوں کو مجبور کرے کہ وہ ذاتی مفادات، وقتی مقبولیت اور جماعتی تعصبات کو بالائے طاق رکھ کر ایک قدم پیچھے ہٹیں تاکہ ملک دو قدم آگے بڑھ سکے
فیض نے اسی اجتماعی شعور کی طرف اشارہ کیا تھا
’’نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘‘
یہ شعر آج بھی سوال بن کر کھڑا ہے کیا ہم نے اختلاف کو اتنا زہریلا بنا دیا ہے کہ سچ بولنا، مکالمہ کرنا اور مصالحت کی بات کرنا جرم سمجھا جانے لگا ہے
احمد فراز نے سیاست اور سماج دونوں کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا تھا
’’سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں‘‘
پاکستان کو بھی آج آنکھ بھر کے دیکھنے کی ضرورت ہے تعصب کی عینک اتار کر، نفرت کے شور سے نکل کر، حقیقت کے ساتھ، توڑ پھوڑ کی سیاست، اداروں کو کمزور کرتی ہے انتقام کی سیاست ، انصاف کو مشکوک بناتی ہے اور نفرت کی سیاست، قوم کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے دریا جب کنارے توڑتا ہے تو تباہی آتی ہے، مگر جب راستہ بناتا ہے تو زندگی پھوٹتی ہے۔ سیاست کو بھی کنارے توڑنے کے بجائے راستہ بنانا ہوگا۔
اقبال پھر یاد آتے ہیں
’’افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ‘‘
یہ شعر صرف نوجوانوں کے لیے نہیں، سیاسی قیادت کے لیے بھی ہے۔ اگر ستارے آپس میں ٹکرا جائیں تو آسمان روشن نہیں ہوتا، جل جاتا ہے آج فوری ضرورت اس فیصلے کی ہے کہ سیاست کو نفرت کے اندھیرے سے نکال کر قومی مصالحت کے اْجالے میں لایا جائے۔ یہ کمزوری نہیں، سب سے بڑی دانشمندی ہے۔ نوابزادہ نصراللہ خان کی دیانت، اقبال کی خودی، فیض کی انسان دوستی اور فراز کی سچائی اگر یہ سب مل جائیں تو سیاست عبادت نہ سہی، امانت ضرور بن سکتی ہے
پاکستان کو نعرے نہیں چاہئیں، نیت چاہیے۔
انتقام نہیں، انصاف چاہیے۔
توڑ پھوڑ نہیں، تعمیر چاہیے۔
اور سب سے بڑھ کر ایک ایسا بہتا ہوا دریا چاہیے جو سب کو ساتھ لے کر آگے بڑھے۔
نفرت ، انتقام بھلانے کے وعدے سے ہی 2026 کا آغاز کریں – محمد اکرم چوہدری

