سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے – ڈاکٹر سعدیہ بشیر

شیئر کریں

جھوٹ اور سچ دو متضاد حقیقتیں ہیں۔ دنیا کے ہر قانون میں سچ کو اخلاقی قوت اور جھوٹ کو دھوکا اور فریب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ کہانیوں فلموں اور روایات کے ذریعے سچ کو ایسی قوت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جو حق کی علامت اور بہادری کا نشان ہے۔ یہ بھی سمجھا جاتا ہے.کہ سچائی فاتح اور جھوٹ ذلیل و رسوا ہوتا ہے۔ اس بات کی تردید ممکن ہی نہیں کہ جھوٹ ایک برائی ہے اور سچ اخلاقی معیار کی بلندی۔ دنیا کے تیزی سے بدلتے منظر نامے میں جھوٹ اور سچ کے لبادے اتنی صفائی سے تبدیل ہوئے ہیں کہ بے ساختہ دل سے نکلتا ہے۔

دوست دوست نہ رہا پیار پیار نہ رہا

زندگی ہمیں ترا اعتبار نہ رہا

جھوٹ کا بازار سجا ہے اور

جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں

ایک چینی کہاوت ہے کہ جھوٹ ساری دنیا کا سفر کر لیتا ہے جب کہ سچ ابھی تسمے باندھ رہا ہوتا ہے۔ یہ بات زمانہ حال کی منافقت پر بھی صادق آتی ہے۔

جھوٹ والے کہیں سے کہیں بڑھ گئے

اور میں تھا کہ سچ بولتا رہ گیا

(وسیم بریلوی)

جھوٹ کے ذریات میں فریب، دھوکا، وعدہ خلافی، استحصال سب شامل ہیں۔ نہ تم آئے نہ شب انتظار گزری ہے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے جھوٹ کا محبت سے گہرا تعلق ہے۔ تبھی تو شاعر کہتا ہے کہ غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا۔ خاندانی مسائل، مذہبی تعصب، دوسروں کے تنکوں کو شہتیر بنانے میں مصروف عمل ایک بے ترتیب ہجوم کو دیکھیں تو ہیر رانجھا سسی پنوں اور اردو شاعری کے عاشق و محبوب کے مسائل اپنے اپنے معلوم ہوتے ہیں۔ وفا کے دعوی جھوٹ کے پل پر تعمیر کیے جاتے ہیں۔اور نتیجہ کے طور پر جھوٹ الزامات کا ہتھیار لیے دلوں میں شک کا بیج بو ہی دیتا ہے۔ اور ہم وہ قوم ہیں جن کی نظر گری ہوئی اخلاقیات سے زیادہ نظر گرے ہوئے سکوں پر ہوتی ہے۔ اپنے معاشرہ پر نظر ڈالیں تو ایسے لگتا ہے کہ ہم لوگ شطرنج کے کھلاڑی ہیں اور کوئی بھی مہرہ اٹھانا۔ گرانا ہمارے لیے کی بورڈ کے بٹن پریس کرنے جتنی مہارت کا متقاضی ہے۔ ٹائپنگ کی اغلاط کی کوئی اہمیت نہیں۔ معروضی منظر نامے میں لکھنے کی اہمیت تیزی سے ختم ہو رہی ہے۔محبوب کی بے وفائی ہر شعبہ کی طرح سیاست میں بھی نہ صرف گھس آئی ہے بلکہ چلن بن چکی ہے اور یہی بے پروائی و بے احتیاطی عوام کے رویے بنا رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وقت کا دیو اپنے نرم ہاتھوں سے تھپکی کے ساتھ یہ بھی پکار رہا ہے۔

کیوں پشیماں ہو اگر وعدہ وفا ہو نہ سکا

کہیں وعدے بھی نبھانے کے لیے ہوتے ہیں

(عبرت مچھلی شہری)

وقت کے معیار ہی نہیں صورتیں بھی بدل چکی ہیں۔ جھوٹ اپنی عالی ظرفی پہ ناز کرتا کہ وہ کسی کے آنکھوں کے خواب ڈھانے میں مددگار نہ بن بیٹھا۔ سچ کے گلے کے ہار جھوٹ کی قبر پر چادر بن جاتے ہیں۔ اور کہیں سچ کی حسین صورت پہ دھول اور جھوٹ کی دل ربائی عروج پر نظر آتی ہے۔ جھوٹ فن کار بنتا ہے تو سچ کا ماتم مناتا ہے۔ اور سچ اگر دار پر ہو تو جھوٹ کی فن کاری پر مسکراتا ہے۔ یہ چلن صدیوں سے رائج ہے۔ جھوٹ اور سچ کا یہ رشتہ محبت سے بندھا رہے تو وقار قائم رہتا ہے جس طرح محبوب کی بے وفائی پر بھی اسے خوش رہنے کی دعا دی جاتی ہے۔ جھوٹ یہی حقیقت ہے کہ

مری زباں کے موسم بدلتے رہتے ہیں

میں آدمی ہوں مرا اعتبار کم کرنا

(عاصم واسطی)

لیکن ضابطہ طے کیے بنا بھان متی کا یہ کنبہ چیخ و پکار میں بدل جاتا ہے۔جھوٹ کی چیخ اتنی تیزی اور دیدہ دلیری سے پھیلتی ہے کہ تاب نظارہ نہیں اور تاب جواب تک نہیں۔سچ بولتے کھردرے ہاتھ اور امید سے خالی آنکھوں کی کیا قیمت ہو سکتی ہے جہاں برانڈڈ جھوٹ سج سنور کر دہائی دے رہا ہو اور چہرے اور آواز کا تضاد بھی نہ پہچانا جا سکے۔مانا جھوٹ کی کاری گری مثالی ہے لیکن کیاسچ بھی صرف یونیورسٹی کا تحقیقی مقالہ بن چکا ہے اور اپنے خلوص کا بھونڈا جواز پیش کرنے کے ہی قابل ہے۔یہ زمانہ آئینوں کا نہیں، اسکرینوں کا ہے۔یہاں عکس سچ نہیں مانا جاتا، صرف قابلِ فروخت ہونا شرط ہے۔ سچ اگر ننگا ہو تو اسے فریم نہیں ملتا۔اور جھوٹ اگر میک اپ میں ہو تو ہیڈ لائن بن جاتا ہے۔جھوٹ اب بیان نہیں، "پیکج "ہے۔یہ وہ جھوٹ ہے جو آنکھوں سے پہلے دل کو قائل کرتا ہے۔اور دل سے پہلے الگورتھم کو۔اور سچ؟سچ اب قطار میں کھڑا ہے۔ ہاتھ میں فائل۔ آنکھوں میں تھکن،اور زبان پر دلیل۔لیکن یہاں دلیل نہیں دیکھی جاتی۔صرف "ریچ” دیکھی جاتی ہے۔جھوٹ نے اب چیخنا چھوڑ دیا ہے۔وہ مسکراتا ہے۔مہذب ہے۔ڈیزائنر ہے۔اور درست وقت پر درست جملہ بولتا ہے۔سچ اب بدتمیز لگتا ہے۔ کیونکہ وہ وقت پر آ جاتا ہے۔اور بات پوری کہہ دیتا ہے۔چرواہا اب شیر کے انتظار میں نہیں۔وہ خود شیر کی آواز چلا رہا ہے۔ویوز کے لیے۔چرواہے کی طرح شیر آیا شیر آیا کی صدا لگاتے ہم اس سے بے نیاز ہیں کہ جنگل درندوں سے بھرا ہوا ہے۔وہ سب کہانیاں نصاب سے خارج ہو چکی ہے جو کسی بھی طرح اخلاقی تربیت میں معاون تھیں۔سچ کہو ہمیشہ سچ، ہے بھلے مانسوں کا پیشہ سچ کی آواز تک نہیں سرگوشی بن چکی ہے۔یہاں سچ اگر چائے میں گر جائے تو ذائقہ خراب کر دیتا ہے اور جھوٹ اگر زہر ہو تو تسلی کے نام پر پلا دیا جاتا ہے۔ ہمارے دل بہلانے کے لیے ایسا جھوٹ سحرانگیز ہے یعنی تسلی دل کو ترا نام بہت ہے۔جھوٹ ہر ضابطے سے بے نیاز ہے تو سچ کے پیٹ پر پتھر باندھنے کے لیے تاریخی مثالیں کیوں؟جھوٹ کے مگر مچھ کے آنسو سیلاب لا سکتے ہیں تو سچ کی محروم آنکھوں پر بیل کی پٹی کیوں۔سچ کی تصویر میں ہاتھی اور دیو ہوں تو جھوٹ کی کہانی سے حوصلہ بلند کرنا عین دانائی ہے۔فرض کرنے سے نئی روح پھونکی جا سکے تو ایسی پھونکیں ماریے۔ جھوٹ کی پٹاری اژدھے برآمد کرتی جارہی ہے اور ہم زہر سے نیلے بدن لیے دوا تک نہیں لے سکتے۔بس محو سفر ہیں۔پرواز کا تو سوال ہی نہیں۔ آلکس کی تند تلوار ہمارے پر مفلوج کر چکی ہے بالکل ویسے ہی جس طرح سچ کی سانس رک چکی ہے تو پھر یہاں زندہ کون ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق اگر لوگ آکسی ٹاؤسن نامی ہارمون سونگھ لیں تو وہ جھوٹ بولنے میں طاق ہو جاتے ہیں۔ ہمارے تو پورے معاشرے کی فضا میں لگتا ہے یہ کرونائی ہارمون رچ بس گیا ہے جو ہم دیدہ دلیری سے صرف جھوٹ کی پرورش ہی نہیں کرتے۔ اس پر قائم بھی رہتے ہیں اور اس کا دفاع بھی کرتے ہیں۔

زبان نئی بنانا ہوگی۔ تاکہ لوگ کم از کم اسے دیکھ تو لیں، کیونکہ اس عہد بے حصول کی سب سے بڑی شکست یہ نہیں کہ وہ ہار گیا بلکہ یہ ہے کہ وہ دکھائی نہیں دیا اور بازار ابھی تک کھلا ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے