پشاور میں خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے کے پی سائنس ایجنڈے کے تحت جدید ترین الیکٹرک رکشہ متعارف کرا دیا ہے، جس کا مقصد ایندھن پر انحصار کم کرنا، ٹرانسپورٹ کے اخراجات گھٹانا اور ماحول دوست سفری سہولیات کو فروغ دینا ہے۔
حکام کے مطابق الیکٹرک رکشوں سے مرمت اور دیکھ بھال کے اخراجات نمایاں طور پر کم ہوں گے جبکہ ڈرائیور روایتی رکشوں کے مقابلے میں دو گنا تک آمدنی حاصل کر سکیں گے۔
صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ الیکٹرک رکشے فضائی آلودگی کا سبب نہیں بنیں گے اور شہروں میں صاف اور محفوظ ٹرانسپورٹ کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گے۔ منصوبہ پائیدار ترقی، کم کاربن اخراج اور عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ہاؤس میں ہائی اینڈ ٹیکنالوجی اور پروڈکٹ ڈیولپمنٹ کی نمائش کا انعقاد کیا گیا، جہاں ہیپاٹائٹس بی اور سی، ایچ آئی وی سمیت دیگر بیماریوں کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ پی سی آر کٹس بھی پیش کی گئیں۔ اس نمائش میں صحت، بایومیڈیسن اور جدید ٹیکنالوجی کے متعدد منصوبوں کو اجاگر کیا گیا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت انوویشن پر مبنی ترقی اور خود انحصاری کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان منصوبوں کا مقصد قدرتی وسائل میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ویلیو ایڈیشن، مقامی صنعت کی حوصلہ افزائی اور معاشی ترقی کو تیز کرنا ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ بایومیڈیسن اور ایڈوانسڈ میٹیریلز کے شعبے میں ابھرتی ٹیکنالوجیز پر کام جاری ہے، جبکہ مصنوعی جلد کی تیاری کا پاکستان کا پہلا منصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ برن کیئر کے لیے یہ مصنوعی جلد پاک آسٹریا فخہ شولے یونیورسٹی کے تعاون سے تیار کی گئی ہے، جبکہ پی سی آر کٹس کا منصوبہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی کو سونپا گیا ہے۔
سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ ای رکشہ منصوبے کے ذریعے فیول پر انحصار کم ہوگا اور جدید ٹرانسپورٹ کو فروغ ملے گا، جبکہ ای اسٹڈی کارڈ کے ذریعے طلبہ کو ای بکس، جدید فیچرز اور اے آئی ٹیوٹرز جیسی سہولیات فراہم کی جائیں گی، جو تعلیم کے شعبے میں بھی ایک اہم پیش رفت ثابت ہوں گی۔




