سردیوں میں انگیٹھی جلانے کے خطرات: ماہرین صحت نے دھوئیں سے بچاؤ کی ہدایات جاری کر دیں

شیئر کریں

سردیوں کے موسم میں دھند اور ٹھنڈی ہوائیں شدت اختیار کر لیتی ہیں، جس کے باعث آگ سینکنا بہت سے لوگوں کے لیے ایک معمول بن جاتا ہے۔

سڑکوں کے کنارے، گھروں کے صحن، دکانوں یا کمروں میں انگیٹھی یا لکڑی جلانا بظاہر وقتی سکون فراہم کرتا ہے، لیکن ماہرین صحت کے مطابق یہ عادت جسم کے لیے خاموش مگر خطرناک نتائج بھی پیدا کر سکتی ہے۔

لکڑی اور کوئلے کے جلنے سے نکلنے والا دھواں نہ صرف ماحول کو آلودہ کرتا ہے بلکہ اس کے طویل عرصے تک اثرات انسان کے صحت پر بھی شدید ہو سکتے ہیں۔

خاص طور پر بند کمروں میں آگ جلانے سے زہریلی گیسیں جیسے کاربن مونو آکسائیڈ جمع ہو جاتی ہیں، جو سر درد، چکر، متلی اور شدید صورت میں دماغی نقصان یا جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ پھیپھڑوں کے لیے یہ دھواں انتہائی نقصان دہ ہے، جس سے کھانسی، سانس کی تنگی، دمہ یا برونکائٹس جیسے امراض میں شدت آ سکتی ہے۔

دھوئیں میں موجود باریک ذرات آنکھوں اور جلد پر بھی منفی اثرات مرتب کرتے ہیں، جس سے آنکھوں میں جلن، پانی آنا، سرخی اور خارش پیدا ہو سکتی ہے جبکہ جلد پر خشکی، سوزش اور الرجی جیسی شکایات بڑھ جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ، دھوئیں کے ذرات خون کے ذریعے دل تک پہنچ کر دل پر دباؤ ڈالتے ہیں، جس سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے اور دل کے دورے یا فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے سے دل کے مریض ہیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ آگ سینکتے وقت ہمیشہ کھلی جگہ کا انتخاب کریں اور دھوئیں کے رخ پر نہ بیٹھیں۔ کم از کم تین سے پانچ فٹ کا فاصلہ رکھنا ضروری ہے اور بند کمروں میں انگیٹھی یا کوئلہ ہرگز نہ جلائیں۔ صرف خشک اور صاف لکڑی استعمال کریں اور پلاسٹک یا ربڑ جلانے سے گریز کریں۔ طویل وقت تک آگ کے قریب نہ بیٹھیں اور وقفے وقفے سے تازہ ہوا میں جائیں۔ بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کو دھوئیں سے دور رکھنا بہت ضروری ہے۔

سردی سے بچاؤ کے لیے گرم کپڑے، محفوظ ہیٹر اور دیگر محفوظ طریقے زیادہ مؤثر اور صحت بخش ہیں۔ وقتی سکون کے لیے اگر آگ سینکنے کے عمل میں احتیاط نہ برتی جائے تو یہ عادت صحت کے لیے مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔

 


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے