ہمارے انگلش میڈیم اسکول اور ٹیوشن کلچر – لیفٹیننٹ کرنل (ر) غلام جیلانی

شیئر کریں

اقبال کی وفات 1938ء میں ہوئی۔ اس وقت تک برصغیرتقسیم نہیں ہوا تھا لیکن صرف 9 سال بعد جب ہماری نئی مملکتِ خداداد وجود میں آئی تو فوراً اقبال کی شاعری کی تجسیم و ترویج اس شد و مد اور کثرت سے ہونے لگی کہ پانچ دس سال کے اندر اندر اقبال کو مفکرِ پاکستان کہا جانے لگا۔ ان کی شاعری کے وہ حصے جن میں ایک نئی مسلم مملکت کے ظہور کی خوش خبری دی گئی تھی، زبانِ زدِ خاص و عام ہو گئے۔

پاکستان کے اسکولوں اور کالجوں میں جو اساتذہ 1947ء کے بعد کے اولین عشرے میں درس و تدریس کا فریضہ انجام دے رہے تھے ان کو اقبال کی اس اچانک شہرت بلکہ تشہیر کی کچھ خبر نہ تھی۔ 1947ء میں، میں خود پانچویں کلاس کا طالب علم تھا۔ مجھے یاد نہیں کہ ہمارے ہائی اسکول کی کوئی مڈل کلاس تک بھی اقبال کے کسی درسی سبق (Lesson) سے آشنا تھی۔ 1947ء میں ہمارے ہائی اسکولوں میں شیکسپیئر اور ورڈزورتھ وغیرہ کی منظومات شامل تھیں لیکن اردو یا فارسی نصاب میں کلامِ اقبال کا ذکر واجبی سا تھا۔

کہا جا سکتا ہے کہ انگریز نے جان بوجھ کر برصغیر کے اردو اور فارسی شعراء کو  ہائی کلاسوں کے نصاب سے باہر رکھا۔ لیکن جب پاکستان وجود میں آ چکا تو پھر بھی اقبال کی منظومات کی وہ پذیرائی نہ کی گئی کہ جو اس کا حق تھا۔ وجہ شاید یہ ہو کہ اس دور کے جن اساتذہ نے ہنوز فکرِ اقبال کا کماحقہ ادراک نہیں کیا تھا۔ وہ بھلا کس طرح اپنے شاگردوں کو کلامِ اقبال کے گہرے معانی و مفاہیم سے آگاہ کر سکتے تھے!

لیکن قابلِ تشویش بات یہ ہے کہ آج بھی انگلش میڈیم اسکولوں میں انگلش نصاب میں انگریزی شعراء کی نظمیں تو ملتی ہیں لیکن اردو نصاب میں اقبال کی منظومات کا حجم افسوسناک حد تک کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔امید ہے کہ کبھی نہ کبھی کوئی ایسا پاکستانی وزیرِ تعلیم ضرور آئے گا جو کم از کم پنجاب کے اسکولوں کے اردو نصاب میں اقبال کی منظومات کے حجم میں وہ جگہ دے گا کہ جس کی حقدار یہ زبان ہے اور خود اقبال کا کلام ہے۔

کالجوں کے اختیاری اور لازمی فارسی نصاب میں بھی کلامِ اقبال کے وہ حصے شامل نہیں کئے گئے جو اقتضائے وقت تھے۔ اقبال کے اردو اور فارسی اشعار میں آج تک نجانے ان حصوں کو وہ مقام کیوں نہیں دیا گیا جو آج کے ہی نہیں بلکہ آنے والے ادوار کا تقاضا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ کلامِ اقبال کو باقی پاکستانی زبانوں (پشتو، سندھی، بلوچی اور پنجابی) کے شعراء کے کلام کے ساتھ محض مسابقے یا مقابلے کی نظر سے نہیں دیکھا جائے گا…… اگر اردو ہماری واحد قومی زبان ہے تو اقبال ہمارا واحد قومی شاعر ہے!

صوبائی اور فیڈرل سطح کے وزرائے تعلیم کو کسی ایک جگہ اکٹھا کرکے یہ فیصلہ کر لینا چاہیے کہ اردو زبان کا مقام باقی صوبائی زبانوں کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے۔ صرف زبانی کلامی یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ اردو ہماری قومی زبان ہے۔ سوال یہ ہے کہ انگلش میڈیم اسکولوں میں جو مقام انگلش کو حاصل ہے کیا وہ اردو کو بھی ہے؟


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے