برآمدی تجارت کے تمام شعبہ جات میں عالمی معیار حاصل کرنا تو درکنار پاکستان ٹیکسٹائل کے اہم ترین شعبہ میں بھی علاقائی ممالک کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے عاری ہے، ٹیکسٹائل میں علاقائی ممالک کی مصنوعات کا معیار آج بھی پاکستان سے کئی گنا بہتر ہے، معاشی ماہرین

https://www.linkedin.com/pulse/can-pakistan-achieve-60-billion-exports-2029-governments-gy7jf
برآمدی مینو فیکچررز نے عالمی سطح کی مطابقت کیلئے اپنی استعداد نہیں بڑھائی’ خادم حسین
برآمد کنندگان کوعالمی معیارات اور تقاضوں پر پورا اترنے کیلئے معاونت فراہم کی جائے، حکومت پیداواری لاگت کم ،اسٹیک ہولڈرز کی تربیت کرے ،رکن بورڈ آف ڈائریکٹرز پاکستان اسٹون ڈویلپمنٹ کمپنی
لاہور: فائونڈر ز گروپ کے سرگرم رکن ،پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ، سینئر نائب صدر فیروز پور روڈ بورڈاورسابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس خادم حسین نے کہا ہے کہ پیچیدہ اور مسلسل بدلتے ہوئے ٹیرف ، ریگولیٹری اورتوانائی کے شعبے کے ناقص انتظام نے کاروباری لاگت کو ناقابل برداشت سطح تک پہنچا دیا ہے، جس سے برآمدات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، دوسری جانب برآمدی مینو فیکچررز نے بھی بین الاقوامی سطح پر مطابقت، جدت اور مقابلہ کرنے کی صلاحیت کیلئے اپنی استعداد کو اس طرح نہیں بڑھایا جو بدلتے وقت کی ضرورت ہے۔
اپنے دفتر میں ملاقات کیلئے آنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے خادم حسین نے کہا کہ ورلڈ بینک کا یہ انتباہ کہ پاکستان کی 70 فیصد سے زائد مصنوعات کی برآمدات اہم مارکیٹوں تک رسائی کھو سکتی ہیں بہت تشویشناک ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ برآمدی مینو فیکچررز یورپی یونین اور دیگر بڑے تجارتی شراکت داروں کی سپلائی چین ٹریس ایبیلٹی اور معیار کی رپورٹنگ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالیں تاکہ کسی طرح کی غیر معمولی صورتحال پیدا نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ غیر دستاویزی معیشت ،کسانوں کی ڈیجیٹل میں مہارت نہ ہونا ٹریس ایبیلٹی جیسے مرکزی مطالبے میں بڑی رکاوٹ ہے اس لئے حکومت اس پر توجہ مرکوز کرے اور ایسا پروگرام ترتیب دے جس سے پاکستانی برآمد کنندگان عالمی معیارات اور تقاضوں پر پورا اتر سکیں،
اس کے لئے حکومت اپنے وسائل سے برآمدی مینو فیکچررز سے جڑے اسٹیک ہولڈرز کی تربیت کرے اور انہیں ایک سسٹم میں لے کر آئے ۔خادم حسین نے کہا کہ بد قسمتی سے ہماری برآمدات ایک سطح پر بر قرار ہیں،
پاکستان ٹیکسٹائل شعبے میں بھی اعلی قیمت والی مصنوعات کی طرف پیشرفت نہیں کر سکا جبکہ ویتنام اور بنگلہ دیش نے خود کو تیزی سے اعلیٰ معیار کی حامل برآمدات کے لئے تیار کیا ہے۔




