یوں تو ہمارے ملک کا آئینی نام”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تونہ تو یہاں پر اسلامی نظام قائم ہے اور نہ ہی ڈھنگ کی جمہوریت ہے۔ ویسے بھی ہمارے جیسے ملک لئے جہاں شرح خواندگی اتنی کم ہو وہاں پر مغربی جمہوریت کا کامیاب ہونا ایک خواب سے کم نہیں ہے۔شاعر مشرق علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ نے سچ ہی تو کہا تھا:”جمہوریت اک طرز حکومت ہے جس میں۔۔ بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے“۔ یہاں پر بس نہیں ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ میں موصوف فرماتے ہیں:”تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام۔۔چہرہ روشن، اندرون چنگیز سے تاریک ترا“۔دوسری طرف مغرب والے ابراہیم لنکن کے اس بیان کو جمہوریت کہتے ہیں: ”عوام کی حکومت، عوام میں سے حکومت اور عوام پر حکومت“ لیکن پاکستان کی 78 سالہ تاریخ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ مغربی جمہوریت کے صدقے سے یہاں پر نہ تو کبھی عوام کی حکومت بنی ہے، نہ ہی عوام کے لئے بنی ہے اور البتہ عوام کالانعام پر ضرور حکومت ہوتی رہی ہے۔عام آدمی کا کوئی پرسان حال نہ ماضی میں تھا نہ اب ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں پر ”گڈ گورننس“ ہمیشہ سے ہی عنقا رہی ہے۔ہمیں یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ”نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔“ لیکن ہم نے پھر بھی اس کالم میں ”فرض کفایہ“ سمجھ کر اپنے ذاتی تجربات کی روشنی میں پاکستان میں ”گڈ گورننس“ کا خواب پورا کرنے کے لئے کچھ تجاویز دینے کی ٹھانی ہے۔
سیاسی اور سماجی علوم کے ماہرین گڈ گوررننس کو مندرجہ ذیل آٹھ بنیادی اجزاء کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں: ”شراکت داری، اتفاقِ رائے، جواب دہی،تحرک، شفافیت، انصاف اور قانون کی عملداری“۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری حکومتیں بھی کبھی ان اجزاء پر کاربند رہی ہیں یا نہیں۔ شراکت ادری سے مراد عوام الناس کی اقتدار میں شراکت ہے۔ہمارے ہاں ہمیشہ سے اقتدار خواص کے پاس ہی رہا ہے، جمہوریت ہو یا ڈکٹیٹر شپ،ہماری تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہاں کسی بھی حکومت نے کبھی کوئی کام اتفاق رائے سے نہیں کیا۔ اپوزیشن ہمیشہ ہی حکومت کے ہر اقدام میں کیڑے نکالنا اپنا فرض عین سمجھتی رہی ہے۔ہمارے حکمران جواب دہی کے تصور سے ہمیشہ ہی آزاد رہے ہیں۔ یہ صرف کمزور لوگوں پر لاگو ہوتی ہے۔ جہاں تک تحرک کا تعلق ہے ہماری حکومتیں ہمیشہ ہی ”ری ایکٹو“ رہی ہیں ”پرو ایکٹو“ کبھی نہیں رہیں۔یہاں پر شفافیت کے نام پربہت کچھ غیر شفاف ہوتا ہے۔انصاف کو توہم نے طلاق بائن دے رکھی ہے۔حکومت کا اس طرف کبھی بھی دھیان نہیں گیا۔ قانون کی عمل داری یہاں اس حد تک ہے کہ یہاں کے قانون ساز ہی قانون شکن ہیں۔ قانون کا نفاذ صرف کمزوروں، بے بسوں، بے سہارا اور خالی جیب لوگوں پر کیا جاتا ہے۔امراء اور اشرافیہ قانون سے بالا اور ماورا ہیں۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ”گڈ گورننس“ ہو۔عام آدمی کے معاشرتی اور معاشی حالات بہتر ہوں۔ ہماری فی کس آمدنی بڑھے اورہماری سالانہ شرح نمو میں خاطر خواہ اضافہ ہو تو ہمیں چند بڑے بڑے فیصلے لینے کی ضرورت ہو گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے چند سالوں میں ہی پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں نظر آئے گا۔ ہمیں ملک میں صوبائی عصبیت کے عفریت کو ختم کرنے کے لئے صوبوں کی تعداد بڑھانا ہو گی، جس سے ایک طرف صوبائی نفرت ختم ہو گی تو دوسری طرف گورننس بھی بہتر ہو گی۔یہاں پر پارلیمانی جمہوریت ناکام ہو چکی ہے۔ ہمیں صدارتی نظام کی طرف آنا پڑے گا،جس سے ایگزیکٹو کے کاموں میں پارلیمنٹیرینز کا کردار ختم ہو جائے گا۔اور ملکی صدر باختیار ہو گا کہ وہ ایماندار، دیانتدار، مختلف شعبوں کے ماہرین، پڑھے لکھے ، محب وطن اور فرض شناس افراد کو اپنی کابینہ میں شامل کر سکے۔پارلیمنٹیر ینزکا کام صرف قانون سازی ہو گا۔ جس کی وجہ سے وہ اپنا پورا وقت معیاری قانون سازی پر صرف کر سکیں گے۔آئین کے آرٹیکل 175۔اے میں ترمیم کر کے اعلیٰ عدلیہ میں جج صاحبان کا چناؤ بذریعہ مقابلہ جاتی تحریری امتحان، نفسیاتی و رحجانیاتی ٹیسٹ اور انٹرویو کرنا ہو گا۔جب جج صاحبان میرٹ پر بھرتی ہوں گے تو وہ فیصلے بھی میرٹ پر کریں گے۔ بلدیاتی اداروں کو مضبوط بنانے کے لئے اور ان کے انتخابات بروقت کروانے کے لئے آئینی ترامیم کرنا ہو گی۔یہ ادارے صوبائی حکومتوں کی بجائے وفاقی حکومت کے ماتحت کرنا ہوں گے۔پبلک ہیلتھ اور سی اینڈ ڈبلیو کے ترقیاتی کاموں کے علاوہ تمام ترقیاتی کام بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے کروانا ہوں گے۔ایم پی ایز اور ایم این ایز کو ترقیاتی فنڈز دینا بند کرنا ہو ں گے، جس سے کمیشن مافیا کی بھی کمر ٹوٹ جائے گی۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہو گا تاکہ وہ اپنے مہینے کے اخراجات بآسانی پورے کر سکیں۔اس کے بعد بھی اگر کسی سرکاری ملازم کے خلاف کرپشن کی شکایت ثابت ہو جائے تو چین کی طرح ایسے مجرم کو سزائے موت دینا ہو گی۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں انتظامیہ اور پولیس کے افسر لا کر ڈنگ ٹپاؤ نظام چل رہا ہے۔ یہ افسر عام طور پر اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں یا اپنا حصہ وصول کر کے بدعنوان سرکاری ملازمین کو ریلیف مہیا کرتے ہیں۔یہ نظام ختم کر کے ایک نیا محکمہ بنانا ہو گا جو اپنے افسر اور اہلکار خود بھرتی کرے۔ ان کا سیکرٹری بھی اپنا ہو جو صوبائی چیف سیکریٹری کے نہیں فیڈرل گورنمنٹ کو جواب دہ ہو۔ملک میں امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لئے 2001ء سے پہلے والا مجسٹریسی نظام بحال کرنا ہو گا۔ تعزیراتِ پاکستان کے انتظامی نوعیت کے ابواب اور تمام لوکل اینڈ سپیشل لاز کی سماعت کا اختیار انتظامی افسران کو دینا ہو گا۔انتظامی افسران کو پولیس کے وائرلیس نیٹ ورک کے ساتھ منسلک کرنا ہو گا۔ پی اے ایس اور پی ایم افسروں کی تعیناتی کے لئے ایسا فارمولہ بنانا ہو گا جو دونوں گروپوں کے افسروں کو قابل قبول ہوتاکہ ان کی باہمی مخاصمت سے ریاست کو پہنچنے والے نقصان سے بچا جا سکے۔تھانوں کی تعداد بڑھاکر ان کی نفری میں بھی خاطر خواہ اضافہ کرنا ہو گا۔ وی آئی پیز کو پروٹو کول دینا اگر ضروری ہوتواس کے لئے علیحدہ فورس بھرتی کرنا ہو گی۔تھانے کے ایس ایچ او کو با اختیار بنانا ہو گا۔ پولیس کے بنائے گئے تمام محکمہ جات کو ایس ایچ او کے ماتحت کر نا ہو گا۔ پیرا فورس کو بھی ایس ایچ او کے ماتحت کر کے ان کا سارا سازو سامان بھی پولیس کے حوالے کر نا ہو گا۔ افسروں کی پوسٹنگ ٹرانسفر میں سیاستدانوں کا حتیٰ کہ وزیراعلیٰ کا کردار بھی محدودکرنا ہو گا۔ اور صوبائی چیف سیکرٹری کو سرکاری ملازمین کی کارکردگی کے حوالے سے ذمہ دار قرار دینا ہو گا۔

