آئین کی بالادستی یا طاقت کی بالادستی – رانا اکرام ربانی

شیئر کریں

پاکستان کی موجودہ افراتفری پر مبنی معاشی، سماجی اور سیاسی صورتحال کے پس منظر میں دیگر عوامل کے ساتھ حکمران اشرافیہ کا وہ گٹھ جوڑ بھی ہے جو عسکری، عدالتی اور سول بیوروکریسی کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں پر مشتمل ہے اور ہمیشہ عوام کے مفاد کے خلاف کام کرتی آئی ہے۔

ارسطو نے اپنی تصنیف ’سیاست‘ میں لکھا تھا: ”جب قوانین کی حکمرانی نہ ہو تو کوئی آئین موجود نہیں رہتا“۔ یہ جملہ پاکستان کی سیاسی اور آئینی تاریخ پر نہایت درست طور پر صادق آتا ہے۔ہمارے فوجی اور سول حکمرانوں نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی کے تمام اصول پامال کرنے میں ایک جیسا کردار ادا کیا ہے، اور نتیجہ وہی ہے جس کی پیش گوئی ارسطو نے کی تھی۔ ہر حکمران نے اپنے مفادات اور آمرانہ حکومتوں کو طول دینے کے لیے آئین ِ پاکستان کو مسخ کیا۔جو اس حقیقت کے سامنے بہت ہلکا لفظ ہے۔عدلیہ کا کردار بھی تاریخ کا سب سے افسوسناک باب رہا ہے، جس نے ان غیر آئینی حکومتوں کی توثیق کر کے ملک کے جمہوری ڈھانچے کو مزید کمزور کیاپاکستان کئی دہائیوں سے جس سیاسی، معاشی اور ادارہ جاتی انتشار کا شکار ہے، اس کے پیچھے محض وقتی فیصلے یا چند حکمرانوں کی غلطیاں نہیں ہیں۔ اس بحران کی جڑیں اْن طاقتور مراکز میں پیوست ہیں جنہوں نے ریاست کو بار بار آئینی راستے سے ہٹا کر اپنی ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی۔ یہ وہ حکمران طبقہ ہے جو کبھی عسکری طاقت کی شکل میں سامنے آتا ہے، کبھی اعلیٰ بیوروکریسی کی صورت میں اور کبھی سیاسی قیادت کے پردے میں۔ان سب کا مشترکہ رویہ ایک ہی رہا ہے: ریاست نہیں، اپنی طاقت کو تحفظ دینا۔

ریاستیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب آئین فیصلہ کن اتھارٹی بن کر تمام اداروں کو ایک متعین دائرے میں رکھتا ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں آئین کو ہمیشہ ایک قابلِ ترمیم دستاویز سمجھا گیا، جسے ہر طاقتور گروہ نے اپنے مفاد کے مطابق بدل ڈالا۔ کہیں اسے معطل کیا گیا، کہیں اسے دوبارہ لکھا گیا اور کہیں اس کی شقوں کو ایسا موڑا گیا کہ وہ اصل روح سے ہی خالی ہو گئیں۔

جب کسی ملک میں قانون کی حکمرانی کمزور پڑ جائے اور فیصلے شخصیات کی منشا کے مطابق ہونے لگیں تو پھر ریاستی سفر پٹری سے اتر جاتا ہے۔ پاکستان میں یہی ہوتا رہا۔ آئین کو بچانے کی ذمہ داری رکھنے والے ادارے بھی کئی بار غیر آئینی اقدامات کے سامنے کھڑے نہیں ہو سکے، بلکہ بعض اوقات انہی فیصلوں کو جواز بھی فراہم کرتے رہے۔ یوں طاقت کے کھیل نے جمہوریت کو بار بار پسپا کیا۔

طاقت ور حلقے ہی نہیں، سیاسی قیادت بھی اس بحران سے بری الذمہ نہیں۔ اقتدار حاصل کرنے اور برقرار رکھنے کی دوڑ میں اکثر سیاسی جماعتیں اصولوں کے بجائے وقتی فائدے کو ترجیح دیتی رہیں۔جب سیاست خود کو طاقتور حلقوں کا محتاج بنا لے تو پھر وہ عوام کی نہیں، اُن ہی قوتوں کی نمائندہ بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انتخابات کے بعد بھی حقیقی اختیار وہیں رہتا ہے جہاں ہمیشہ رہا ہے۔اس تمام کشمکش کا سب سے بڑا خسارہ عوام کو ہوا ہے۔ معاشی بحران ہو یا مہنگائی، ادارہ جاتی بدعنوانی ہو یا بار بار کا سیاسی عدم استحکام۔۔۔ہر بوجھ عام شہری کے کندھوں پر ڈالا گیا۔ جب فیصلے طاقت کے مراکز میں ہوتے ہیں اور عوامی مینڈیٹ ثانوی حیثیت اختیار کر لیتا ہے، تو پھر ترقی کا سفر رک جاتا ہے اور ریاستی ڈھانچہ کمزور ہوتا چلا جاتا ہے۔

پاکستان اِس وقت ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں کوئی بھی کمزور فیصلہ آنے والی نسلوں کو مزید غیر یقینی کے اندھیرے میں دھکیل سکتا ہے۔ اس ملک کو ضرورت ہے:

ایسی سیاسی قیادت کی جو اصولوں پر کھڑی ہو، سمجھوتوں پر نہیں۔ایسی عدلیہ کی جو آئین کی اصل روح کا پہرا دے، مصلحتوں کا نہیں۔ایسے عسکری اداروں کی جو آئینی کردار کے اندر رہ کر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھائیں۔اور سب سے بڑھ کر ایسے شہریوں کی جو اپنے حقِ حکمرانی کی قدر جانتے ہوں اور اسے استعمال کرنا سیکھیں۔

پاکستان کی بقاء اور استحکام اسی وقت ممکن ہے جب ریاست کی بنیاد طاقت نہیں،بلکہ آئین بنے۔ ورنہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ طاقت کے سائے میں پلی حکمرانی کبھی دیرپا نہیں ہوتی۔

پاکستان کی موجودہ سیاسی اور معاشی بدنظمی کا بنیادی سبب وہ طاقتور حلقے ہیں، جنہوں نے ہمیشہ ریاستی نظام کو اپنے مفاد کے مطابق چلایا۔ کبھی عسکری اثر و رسوخ، کبھی عدالتی کمزوریاں اور کبھی سیاسی موقع پرستی۔ہر دور میں آئین کو پس ِ پشت ڈال کر فیصلے طاقت کے مراکز میں ہوتے رہے۔آئین کی حرمت کمزور پڑی تو قانون کے بجائے شخصیات کی مرضی چلتی رہی۔ سیاسی جماعتیں بھی اصولوں کے بجائے اقتدار کی دوڑ میں الجھ کر عوامی مینڈیٹ کا دفاع نہ کر سکیں۔ نتیجتاً مہنگائی، ادارہ جاتی ٹوٹ پھوٹ اور غیر یقینی کا بوجھ ہمیشہ عوام نے اٹھایا۔پاکستان کو آگے بڑھنے کے لئے ایسی سیاسی بالغ نظری، ادارہ جاتی خود مختاری اور آئین کی بالادستی درکار ہے جو طاقت کے نہیں، عوام کے حق ِ حکمرانی کو مرکزیت دے۔ جب تک فیصلہ سازی آئینی ڈھانچے کے اندر نہیں آئے گی، بحرانوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے