نوجوان نسل اور مذہب کے بارے میں بدلتی سوچ – علی عباس کاظمی

شیئر کریں

پاکستان میں نوجوان نسل کے اندر مذہب کے بارے میں اٹھنے والی فکری لہر محض ایک بحث نہیں رہی، اب یہ ایک تہذیبی تبدیلی ہے۔ ایک ایسی تبدیلی جو خاموش بھی ہے، مگر گہری بھی۔ جس کے اثرات ہماری گفتگو، ہمارے رویوں، ہمارے معاشرتی فیصلوں اور حتیٰ کہ ہماری اجتماعی شناخت تک پھیل چکے ہیں۔ کبھی مذہبی سوالات گھر کی چار دیواری میں دب جاتے تھے، مگر اب وہی سوال ٹویٹر کے ٹرینڈز سے لے کر یوٹیوب کے پوڈ کاسٹس تک کھلے دل سے زیرِ بحث آتے ہیں۔ نوجوانوں کی نئی نسل صرف ماننے کے بجائے سمجھنا چاہتی ہے۔ انہیں اب عقیدے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی چاہیے، ایمان کے ساتھ ساتھ مکالمہ بھی اور عبادت کے ساتھ ساتھ انسانیت بھی۔

آج نوجوانوں میں فکری تقسیم دو بڑے رجحانات کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔ پہلا وہ طبقہ ہے جو مذہب کو مکمل ضابطۂ حیات سمجھتا ہے اور اس ضابطے کی سخت ترین تشریح کو اختیار کرتا ہے۔ یہ نوجوان جذباتی نعرے اور یک طرفہ بیانیے میں طاقت دیکھتے ہیں۔ ان کا مذہب جذبات سے چلتا ہے، مکالمے سے نہیں۔ اختلاف ان کے نزدیک کمزوری ہے اور سوال گستاخی۔ یہ سوچ کبھی کبھی شدت پسندی کی شکل بھی اختیار کر لیتی ہے، کیونکہ جب مذہب کو صرف ”ہم“ اور ”وہ“ کے فریم میں رکھا جائے تو معاشرہ تقسیم ہوتا ہے، جڑتا نہیں۔

مگر دوسری طرف ایک اور دنیا بھی ہے۔ وہ نوجوان جو مذہب سے فرار نہیں چاہتے، بلکہ مذہب کو زیادہ وسیع، زیادہ انسانی اور زیادہ مربوط انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ یہ نوجوان سوال اٹھاتے ہیں، تنقیدی سوچ اپناتے ہیں، مختلف مسالک، مختلف مذاہب اور مختلف مکاتبِ فکر کے بیانیوں کا موازنہ کرتے ہیں اور پھر اپنی ذاتی بصیرت سے نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایمان جبر نہیں، تجربہ ہے۔ مذہب قید نہیں، روشنی ہے۔ عبادت صرف رسم نہیں، روح کی تطہیر ہے۔

یہ دونوں رجحانات محض کتابی تعلیمات نہیں، بلکہ نوجوانوں کے سوچنے اور محسوس کرنے کے انداز کا آئینہ ہیں، بلکہ ایک بڑے عالمی شعور، ڈیجیٹل انقلاب، اور معاشرتی تغیرات کا حصہ ہیں۔ ہر نوجوان کے ہاتھ میں آج ایک ایسی سکرین ہے جو پوری دنیا کے مباحث ان کے سامنے رکھ دیتی ہے۔ کوئی مصر کے اسکالر کو سنتا ہے، کوئی ترکی کے موقف کو، کوئی ملائیشیا کے تجربات کو، کوئی یورپ کی اقلیتوں کے ساتھ رہنے والے مسلمانوں کی جدوجہد کو۔ پہلی بار پاکستانی نوجوان مذہبی سوچ کو عالمی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سوال اب زیادہ وسیع اور ان کی توقعات اب زیادہ بلند ہو چکی ہیں۔

مگر اس پوری بحث میں ایک نیا اور انتہائی اہم زاویہ اُبھر رہا ہے۔ اقلیتی مذاہب کے ساتھ رواداری، احترام اور مساوی حقوق کا مطالبہ۔ نوجوانوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ پاکستان اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتا جب تک یہاں بسنے والے ہر فرد کو برابر کی عزت نہ ملے، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کی بنیاد ہی انصاف، انسانیت اور احترام پر رکھی گئی ہے۔ وہ مدینہ کے معاشرتی ماڈل کا مطالعہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہاں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل تھی۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اسلام نے ہمیشہ غیر مسلم شہریوں کے حقوق کی حفاظت کو ایمان کا حصہ سمجھا۔ اس مطالعے سے نوجوانوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اقلیتوں کی عبادت گاہوں کا احترام، ان کے تہواروں کی آزادی، اور ان کے بنیادی حقوق کی ضمانت۔ یہ سب مذہبی فریضے بھی ہیں اور قومی ضرورت بھی۔

یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان ”اقلیت“ اور ”اکثریت“ کی تقسیم کو کمزور کرنے کی بات کرتا ہے۔ وہ سمجھ گیا ہے کہ معاشرے میں پائیدار امن اسی وقت قائم ہوتا ہے جب ہر شہری کو مساوی درجہ دیا جائے۔ اس سوال کی گونج اب پاکستانی نسلِ نو کے ذہنوں میں واضح ہو چکی ہے۔

”اگر ہمارا مذہب انسانیت کو مقدم رکھتا ہے تو ہم مذہبی امتیاز کے خلاف آواز اٹھانے سے کیوں ہچکچائیں؟“

اسی طرح اتحادِ بین المسلمین کے بارے میں بھی نوجوانوں میں ایک نئی اور مثبت سوچ جنم لے رہی ہے۔ پاکستان میں شیعہ اور سنی کے قدیم اختلافات کے باوجود، نوجوان نسل اب اس فاصلے کو کم کرنے کی کوشش میں زیادہ متحرک ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اُمت کا بٹ جانا، مسلکی نفرتیں اور ایک دوسرے کو کافر کہنے کی روش صرف نقصان پہنچاتی ہے۔ اسلام کے ابتدائی ادوار سے لے کر مسلم تاریخ تک، اختلافِ رائے ہمیشہ موجود رہا ہے مگر اس اختلاف کو دشمنی بنانا ہمارے دور کی کمزوری ہے۔ نوجوان کہتے ہیں کہ ”مسلک میرا انتخاب ہے، لیکن ایک دوسرے سے محبت میرا ایمان ہے۔“ یہ وہ سوچ ہے جو پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کا نیا باب کھول سکتی ہے۔

سوشل میڈیا جہاں ایک طرف شدت پسند بیانیوں کو ہوا دیتا ہے، تو دوسری طرف یہ نوجوان ذہنوں کو دنیا بھر کے مسلم معاشروں سے روشناس بھی کراتا ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ سعودی عرب سے لے کر ایران تک، ترکی سے لے کر مراکش تک مسلمانوں نے کس طرح مختلف فقہوں، مختلف ثقافتوں اور مختلف سماجی اصولوں کے ساتھ جینا سیکھا ہے۔ یہ مشاہدہ انہیں باور کراتا ہے کہ اسلام وسیع ہے اور سب کو جگہ دینے والا مذہب ہے۔ اس وسیع تر تناظر نے نوجوانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دی ہے کہ اتحاد جذباتی نعروں سے نہیں، عملی برداشت اور مکالمے سے قائم ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے ہماری مذہبی درسگاہیں اور روایتی علما اس نئی ذہنی ساخت کو پوری طرح نہیں سمجھ پا رہے۔ نوجوان جب مذہب کے سائنس سے تعلق، سیاست میں اس کی حدود، اقلیتوں کے ساتھ اس کے اصول یا امت کے اتحاد پر سوال اٹھاتے ہیں، تو بیشتر اوقات جواب صرف ’یہ سوال نہ کرو‘ یا خاموشی ہی رہ جاتا ہے۔ لیکن اس ردِعمل سے نوجوان کا سوال ختم نہیں ہوتا۔ وہ صرف مسجد سے انٹرنیٹ کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ جواب کبھی علمی نہیں رہتا بلکہ جذباتی، مسخ شدہ یا غیر مستند ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہبی قیادت اور معاشرہ نوجوانوں کے سوالات کو دشمنی نہ سمجھیں بلکہ اس تبدیلی کو اپنائیں۔ اگر ہم نوجوان نسل کی اس سمت کو صحیح رخ دیں، تو یہی تبدیلی پاکستان کے مذہبی، سماجی اور فکری مستقبل کو روشن کر سکتی ہے۔ ہمیں ایسے مکالمے کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو مذہب سے جوڑے، نہ کہ دور کرے، جو سوالوں کے جواب دے، نہ کہ سوال کرنے والے کو مشکوک بنائے۔ جو اقلیتوں کے حقوق کو مذہبی اصولوں کے مطابق تحفظ دے اور جو مختلف مسالک کے درمیان محبت اور احترام کو فروغ دے۔

یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایک ایسا معاشرہ بنا سکتا ہے جہاں مذہب تفرقہ نہیں، وحدت کا ذریعہ ہو۔ جہاں اختلاف دشمنی نہ ہو، بلکہ علم کا دروازہ ہو۔ جہاں اقلیتوں کا خوف اور اکثریت کا غرور۔ دونوں ختم ہوں۔ جہاں نوجوان صرف عبادت کرنے والے نہ ہوں، بلکہ انسانیت کے قائل بھی ہوں۔

نئی نسل بدل رہی ہے، ان کے سوال بدل رہے ہیں اور شاید یہی وقت ہے کہ ہم ان سوالوں کو دبانے کے بجائے ان سے سیکھیں۔ آج کا نوجوان سننا نہیں چاہتا، وہ سمجھنا چاہتا ہے۔ اور جب ایک معاشرہ اپنی نوجوان نسل کے سوالوں کو عزت دینے لگتا ہے، وہ ترقی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے