پاکستان میں نوجوان نسل کے اندر مذہب کے بارے میں اٹھنے والی فکری لہر محض ایک بحث نہیں رہی، اب یہ ایک تہذیبی تبدیلی ہے۔ ایک ایسی تبدیلی جو خاموش بھی ہے، مگر گہری بھی۔ جس کے اثرات ہماری گفتگو، ہمارے رویوں، ہمارے معاشرتی فیصلوں اور حتیٰ کہ ہماری اجتماعی شناخت تک پھیل چکے ہیں۔ کبھی مذہبی سوالات گھر کی چار دیواری میں دب جاتے تھے، مگر اب وہی سوال ٹویٹر کے ٹرینڈز سے لے کر یوٹیوب کے پوڈ کاسٹس تک کھلے دل سے زیرِ بحث آتے ہیں۔ نوجوانوں کی نئی نسل صرف ماننے کے بجائے سمجھنا چاہتی ہے۔ انہیں اب عقیدے کے ساتھ ساتھ دلیل بھی چاہیے، ایمان کے ساتھ ساتھ مکالمہ بھی اور عبادت کے ساتھ ساتھ انسانیت بھی۔
مگر دوسری طرف ایک اور دنیا بھی ہے۔ وہ نوجوان جو مذہب سے فرار نہیں چاہتے، بلکہ مذہب کو زیادہ وسیع، زیادہ انسانی اور زیادہ مربوط انداز میں سمجھنا چاہتے ہیں۔ یہ نوجوان سوال اٹھاتے ہیں، تنقیدی سوچ اپناتے ہیں، مختلف مسالک، مختلف مذاہب اور مختلف مکاتبِ فکر کے بیانیوں کا موازنہ کرتے ہیں اور پھر اپنی ذاتی بصیرت سے نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایمان جبر نہیں، تجربہ ہے۔ مذہب قید نہیں، روشنی ہے۔ عبادت صرف رسم نہیں، روح کی تطہیر ہے۔
یہ دونوں رجحانات محض کتابی تعلیمات نہیں، بلکہ نوجوانوں کے سوچنے اور محسوس کرنے کے انداز کا آئینہ ہیں، بلکہ ایک بڑے عالمی شعور، ڈیجیٹل انقلاب، اور معاشرتی تغیرات کا حصہ ہیں۔ ہر نوجوان کے ہاتھ میں آج ایک ایسی سکرین ہے جو پوری دنیا کے مباحث ان کے سامنے رکھ دیتی ہے۔ کوئی مصر کے اسکالر کو سنتا ہے، کوئی ترکی کے موقف کو، کوئی ملائیشیا کے تجربات کو، کوئی یورپ کی اقلیتوں کے ساتھ رہنے والے مسلمانوں کی جدوجہد کو۔ پہلی بار پاکستانی نوجوان مذہبی سوچ کو عالمی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے سوال اب زیادہ وسیع اور ان کی توقعات اب زیادہ بلند ہو چکی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ آج کا نوجوان ”اقلیت“ اور ”اکثریت“ کی تقسیم کو کمزور کرنے کی بات کرتا ہے۔ وہ سمجھ گیا ہے کہ معاشرے میں پائیدار امن اسی وقت قائم ہوتا ہے جب ہر شہری کو مساوی درجہ دیا جائے۔ اس سوال کی گونج اب پاکستانی نسلِ نو کے ذہنوں میں واضح ہو چکی ہے۔
”اگر ہمارا مذہب انسانیت کو مقدم رکھتا ہے تو ہم مذہبی امتیاز کے خلاف آواز اٹھانے سے کیوں ہچکچائیں؟“
اسی طرح اتحادِ بین المسلمین کے بارے میں بھی نوجوانوں میں ایک نئی اور مثبت سوچ جنم لے رہی ہے۔ پاکستان میں شیعہ اور سنی کے قدیم اختلافات کے باوجود، نوجوان نسل اب اس فاصلے کو کم کرنے کی کوشش میں زیادہ متحرک ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اُمت کا بٹ جانا، مسلکی نفرتیں اور ایک دوسرے کو کافر کہنے کی روش صرف نقصان پہنچاتی ہے۔ اسلام کے ابتدائی ادوار سے لے کر مسلم تاریخ تک، اختلافِ رائے ہمیشہ موجود رہا ہے مگر اس اختلاف کو دشمنی بنانا ہمارے دور کی کمزوری ہے۔ نوجوان کہتے ہیں کہ ”مسلک میرا انتخاب ہے، لیکن ایک دوسرے سے محبت میرا ایمان ہے۔“ یہ وہ سوچ ہے جو پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کا نیا باب کھول سکتی ہے۔
بدقسمتی سے ہماری مذہبی درسگاہیں اور روایتی علما اس نئی ذہنی ساخت کو پوری طرح نہیں سمجھ پا رہے۔ نوجوان جب مذہب کے سائنس سے تعلق، سیاست میں اس کی حدود، اقلیتوں کے ساتھ اس کے اصول یا امت کے اتحاد پر سوال اٹھاتے ہیں، تو بیشتر اوقات جواب صرف ’یہ سوال نہ کرو‘ یا خاموشی ہی رہ جاتا ہے۔ لیکن اس ردِعمل سے نوجوان کا سوال ختم نہیں ہوتا۔ وہ صرف مسجد سے انٹرنیٹ کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ جواب کبھی علمی نہیں رہتا بلکہ جذباتی، مسخ شدہ یا غیر مستند ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ مذہبی قیادت اور معاشرہ نوجوانوں کے سوالات کو دشمنی نہ سمجھیں بلکہ اس تبدیلی کو اپنائیں۔ اگر ہم نوجوان نسل کی اس سمت کو صحیح رخ دیں، تو یہی تبدیلی پاکستان کے مذہبی، سماجی اور فکری مستقبل کو روشن کر سکتی ہے۔ ہمیں ایسے مکالمے کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو مذہب سے جوڑے، نہ کہ دور کرے، جو سوالوں کے جواب دے، نہ کہ سوال کرنے والے کو مشکوک بنائے۔ جو اقلیتوں کے حقوق کو مذہبی اصولوں کے مطابق تحفظ دے اور جو مختلف مسالک کے درمیان محبت اور احترام کو فروغ دے۔
نئی نسل بدل رہی ہے، ان کے سوال بدل رہے ہیں اور شاید یہی وقت ہے کہ ہم ان سوالوں کو دبانے کے بجائے ان سے سیکھیں۔ آج کا نوجوان سننا نہیں چاہتا، وہ سمجھنا چاہتا ہے۔ اور جب ایک معاشرہ اپنی نوجوان نسل کے سوالوں کو عزت دینے لگتا ہے، وہ ترقی کی طرف بڑھنے لگتا ہے۔

