اپنی زندگی کے ہیرو کیسے بنیں؟ سید طارق جاوید مشہدی

شیئر کریں

نوجوان نورالدین جمالی نے گرم جوشی سے میرا ہاتھ دبایا اور بولا،”سر! آپ ہمیشہ کہتے ہیں کہ اپنی زندگی کے ہیرو خود بنو، مگر یہ نہیں بتاتے کہ ہیرو بنتا کیسے ہے؟“

اُس کی آنکھوں میں چمک تھی، لہجے میں خلوص، اور چہرے پر ایک سچے سوال کی شدت۔ میں مسکرا دیا۔ مغرب کی نماز کے بعد کی خنکی ہوا میں گھلی ہوئی تھی۔ ہم کیفے سے کافی لے کر لان میں جا بیٹھے۔ میں نے لمحہ بھر سوچ کر کہا، ”ہیرو بننے کے لئے صرف تین باتیں یاد رکھو۔یہ تین اصول تمہاری زندگی بدل سکتے ہیں“۔

پہلی بات: عبادت کرنا۔ نورالدین نے فوراً کہا، ”سر! میں تو ابھی آپ کے ساتھ ہی نماز پڑھ کر آیا ہوں“

میں نے کہا، ”بیٹا، عبادت صرف نماز یا روزہ نہیں، بلکہ زندگی کے ہر کام کو احسن طریقے سے انجام دینا بھی عبادت ہے۔ جب تم اپنی پڑھائی دل لگا کر کرتے ہو، اپنے فرائض ایمانداری سے نبھاتے ہو، یا کسی کی مدد خلوص سے کرتے ہو تو یہ سب عبادت کے زمرے میں آتا ہے۔ اصل عبادت یہ ہے کہ جو بھی تمہارے ذمے ہے، اسے بہترین نیت، بہترین جذبے اور بہترین طریقے سے کرو۔ اگر تم نے اس سوچ کو اپنی عادت بنا لیا تو زندگی خود بخود آسان ہوتی چلی جائے گی۔ تمہارے راستے خود تمہارے لئے کھلنے لگیں گے“۔

دوسری بات: اپنے آپ کو جان لو

میں نے کہا، ”آج ایک کام کرو۔ تنہائی میں بیٹھ کر ایک صفحہ لو اور لکھو کہ تم اپنے آپ سے کیا چاہتے ہو۔ تمہارا خواب کیا ہے؟ تمہاری سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟“

پھر اس خواہش کو حقیقت بنانے کے لئے اپنی توانائیاں جھونک دو۔اپنے اردگرد کی آوازوں، تنقیداور مایوسیوں سے بے نیاز ہو کر اپنے مقصد کے پیچھے لگ جاؤ۔ انسان تبھی کامیاب ہوتا ہے جب وہ اپنے آپ کو پہچان لے۔ جو خود کو نہیں جانتا، وہ ساری زندگی دوسروں کے نقش ِ قدم پر چلتا رہتا ہے۔ اپنے اندر کی طاقت کو پہچانو، اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھو، اور ان خوابوں کے پیچھے پوری دیوانگی سے لگ جاؤ۔ یاد رکھو، تمہارے اندر ایک روشنی ہے، صرف تمہیں اسے جلانے کی دیر ہے۔

تیسری بات: اپنا احتساب کرو

میں نے کہا، ”دن کے اختتام پر خود سے پوچھو کہ آج تم نے کیا حاصل کیا؟ کیا وہ کیا جو تمہارے مقاصد کے قریب لے جائے؟ جو نہیں کیا، کیوں نہیں کیا؟“

یہ ’کیوں‘ تمہیں تمہاری کمزوریوں کا پتہ دے گا، اور انہیں بدلنے کی طاقت بھی دے گا۔ جب انسان خود سے سچ بولنا سیکھ لیتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اْسے گمراہ نہیں کر سکتی۔ خود احتسابی ہی کامیابی کا دروازہ کھولتی ہے۔اگر روز تھوڑا سا بھی بہتر بننے کی کوشش کرو تو ایک دن تم وہی بن جاؤ گے، جس کا خواب دیکھتے ہو۔

کافی کا آخری گھونٹ لیتے ہوئے میں نے کہا، ”نورالدین! اپنی زندگی کا ہیرو بننے کے لئے تمہیں دوسروں سے مقابلہ نہیں کرنا، بلکہ اپنے کل سے بہتر آج بننا ہے۔ ہیرو وہ نہیں جو دنیا کو بدلنے نکلتا ہے، بلکہ وہ ہے جو خود کو بدل کر دوسروں کے لئے مثال بن جاتا ہے۔یہ ایک بہترین لیڈرشپ کوالٹی بھی ہے۔

نورالدین کے چہرے پر اطمینان کی مسکراہٹ پھیل گئی۔

”سر! آج آپ نے واقعی کتابِ زندگی کا وہ ورق کھول دیا جس کا میں انتظار کر رہا تھا“۔

میں نے کہا، ”یاد رکھو بیٹا! جب تم اپنے عمل، نیت اور کردار کو مسلسل بہتر بناتے رہو گے، تو تمہاری زندگی کا ہر دن تمہیں تمہارے خواب کے قریب لے جائے گا اور وہ دن آئے گا جب تم خود اپنی زندگی کے ہیرو بن جاؤ گے“۔

وہ اٹھا، گرم جوشی سے ہاتھ ملایا، مسکراہٹ، امید اور خوشی اس کے چہرے پر نمایاں تھی۔ کہنے لگا، ”سر! نورالدین جمالی انشاء اللہ اپنے آپ کو ضرور بدلے گا“۔

میں نے اسے تھپکی دی اور مسکراہٹ کے ساتھ رخصت کیا اور کہا! ”مجھے انتظار رہے گا“۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے