سول سروسز کے انتخابی عمل میں شفافیت اور احتساب کا فقدان

شیئر کریں

گزشتہ کئی برسوں سے پاکستان میں سول سروسز ریفارمز پر بحث جاری ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد بیوروکریسی کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے۔ اب یہ موضوع دوبارہ اہمیت اختیار کر گیا ہے، خاص طور پر کلسٹر سسٹم کے نفاذ، عمر کی حد 35 سال کرنے اور امتحانی کوششوں کی تعداد پانچ تک بڑھانے کی تجاویز کے تناظر میں۔ یہ مثبت اقدامات احسن اقبال نے عشرت حسین کے تجویز کردہ اصلاحات کی بنیاد پر مسلم لیگ (ن) کے دور میں شروع کیے تھے، تاہم بعد ازاں یہ معاملہ پس منظر میں چلا گیا۔ موجودہ حکومت نے اسے دوبارہ اٹھایا ہے، جو اصلاحات کے تسلسل کی علامت ہے۔

یہ تمام اصلاحات، خاص کر کے کلسٹر سسٹم کا نفاذ، بظاہر خوش آئند ہیں، مگر سول سروسز کے انتخابی عمل میں کچھ ایسے پہلو ہیں جنہیں سنجیدگی سے نہیں دیکھا گیا ہے۔ سب سے بنیادی مسئلہ شفافیت اور احتساب کا ہے۔ اگرچہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) ایک آئینی اور خود مختار ادارہ ہے جس کا قیام آرٹیکل 242 کے تحت ہوا، لیکن عملی طور پر یہ تقریباً ناقابل احتساب ہو چکا ہے۔ امیدواروں کا مستقبل ایگزامینرز پر منحصر ہوتا ہے، جن کے فیصلوں پر کوئی موثر نگرانی یا اپیل کا نظام موجود نہیں۔

 

اسی عدم شفافیت کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک واقعہ منظرِ عام پر آیا جس میں سی ایس ایس 2024 میں پانچویں پوزیشن حاصل کرنے والی سعدیہ ظہور کو پنجاب پبلک سروس کمیشن (PPSC) کے انٹرویو میں فیل کر دیا گیا۔ یہ واقعہ امتحانی نظام کی ساکھ پر سوال اٹھاتا ہے کہ ایک امیدوار جو فیڈرل سطح پر نمایاں کامیابی حاصل کرتا ہے، وہ صوبائی سطح پر ناکام کیسے قرار پاتا ہے؟ اس سے شفاف احتسابی میکانزم کی ضرورت واضح ہو جاتی ہے۔

امتحانی نظام میں ایک اور مسئلہ مضامین کو نشانہ بنانے کا ہے۔ سی ایس ایس 2022 کے امتحان میں پاکستان افیئرز کے مضمون کو مبینہ طور پر ”ٹارگٹ“ کیا گیا۔ متعدد امیدواروں نے شکایت کی کہ بیس میں سے اٹھارہ ایم سی کیوز درست ہونے کے باوجود انہیں گیارہ یا بارہ نمبر دیے گئے۔ یہ صورتحال نہ صرف سمجھ سے بالاتر ہے بلکہ امتحانی نظام کی منصفانہ مارکنگ کے اصولوں کے خلاف بھی ہے۔ اس قسم کے تضادات سے مارکنگ کے عمل میں معیاری یکسانیت اور چیک اینڈ بیلنس کے فقدان کا اظہار ہوتا ہے۔

انٹرویو کے مرحلے میں بھی غیر منصفانہ رویے دیکھے جاتے ہیں۔ عمومی مشاہدے کے مطابق اسلام آباد اور لاہور کے مراکز میں امیدواروں کو انٹرویو میں زیادہ نمبر دیے جاتے ہیں، جبکہ پشاور اور کوئٹہ جیسے نسبتاً پسماندہ مراکز میں امیدوار کم اسکور حاصل کرتے ہیں۔ یہ علاقائی امتیاز وفاقی توازن کے اصول اور آئین کے آرٹیکل 27 میں دیے گئے مساوی مواقع کے تصور کے خلاف ہے۔ امیدواروں کو ایک ہی امتحان میں مختلف معیار سے پرکھنا وفاقی یکجہتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔

اسی طرح خیبر پختونخوا پبلک سروس کمیشن (KPPSC) میں بھی 2022 کے امتحانات میں شکایات آئیں کہ جن امیدواروں نے تحریری امتحان میں نمایاں کارکردگی دکھائی، انہیں انٹرویو میں فیل کر دیا گیا، جبکہ کم نمبر لینے والے انٹرویو میں غیر معمولی نمبر لے کر کامیاب قرار پائے۔ ایسے واقعات ادارے کی ساکھ کو مجروح کرتے ہیں اور شفافیت کے تصور کو کمزور کرتے ہیں۔

ان مسائل کے حل کے لیے آئین کے آرٹیکل 19۔ A میں دیے گئے حق برائے معلومات کو سول سروسز کے امتحانی نظام پر بھی لاگو کرنا ضروری ہے۔ امیدواروں کو اپنے پیپرز دیکھنے یا ری چیکنگ کا حق دیا جانا چاہیے تاکہ کسی بھی نا انصافی کو چیلنج کیا جا سکے۔ کمیشن کے اندر ایک موثر چیک اینڈ بیلنس نظام قائم ہونا چاہیے، جس کے تحت چند پیپرز سیمپل کے طور پر ری چیک ہوں تاکہ مارکنگ کی جانچ ممکن ہو۔ جانبدار ایگزامینرز کو آئندہ امتحانی عمل سے خارج کیا جانا چاہیے۔

انٹرویو کے لیے بھی جدید نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔ فیڈرل اور صوبائی کمیشنز میں ”ان کیمرا ریکارڈنگ سسٹم“ نافذ کیا جا سکتا ہے تاکہ ہر امیدوار کے انٹرویو کی ویڈیو ریکارڈ ہو۔ اگر کسی امیدوار کو نا انصافی محسوس ہو تو وہ اس ریکارڈنگ کی بنیاد پر اپیل کر سکے۔ اس طرح شفاف اور منصفانہ احتسابی نظام قائم ہو گا جو ادارے کے فیصلوں کو قابل اعتماد بنائے گا۔

اصلاحات میں پارلیمنٹ کا کردار کلیدی ہے۔ ”سی ایس ایس ایسپرنٹس ایسوسی ایشن“ کی ٹیم کی تجویز کردہ تجاویز کو محض انتظامی نہیں بلکہ قانونی شکل دی جائے تاکہ پالیسی دیرپا ہو۔ دنیا کے کئی ممالک میں یہی اصول اپنایا گیا ہے، جہاں زیادہ عمر کی حد رکھنے سے امیدوار زیادہ پختہ اور سنجیدہ ذہن کے ساتھ امتحان میں شریک ہوتے ہیں اور نتیجتاً فیلڈ میں بھی اچھا پرفارم کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی ماڈل سول سروسز میں ذمہ دار اور فکری طور پر بالغ افراد لائے گا جو عوامی خدمت کو مشن کی طرح انجام دے سکیں گے۔

سول سروسز کی ٹریننگ کے نظام میں اصلاحات بھی ضروری ہیں۔ آج بھی نوآبادیاتی ذہنیت کے اثرات واضح ہیں۔ ”تھری پیس سوٹ“ اور ”گھڑ سواری“ جیسی سرگرمیاں برطانوی نوآبادیاتی دور کی باقیات ہیں، جن کا آج عملی جواز نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تربیتی اداروں میں ایسے کورسز متعارف ہوں جو پاکستانی ثقافت، زبان اور مقامی انتظامی تقاضوں کو فروغ دیں۔ بعض ٹریننگ ماڈیولز میں مغربی آداب طعام کو مہذب قرار دینا اور قومی روایات کو کمتر سمجھنا، نوآبادیاتی نفسیات کی نشانی ہے۔ اگر افسران اپنی مقامی روایات اور ثقافتی شناخت پر فخر کریں تو نہ صرف پاکستان کی مثبت شناخت قائم ہو گی بلکہ قومی وقار بھی مستحکم ہو گا۔

 

مختصراً، سول سروسز ریفارمز محض انتظامی نہیں بلکہ آئینی اور اخلاقی تقاضا ہیں۔ جب تک بھرتی، تربیت اور ترقی میں شفافیت، احتساب اور مساوات کے اصول نافذ نہیں ہوتے، اصلاحات ایک نعرے سے زیادہ کچھ نہیں۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 4 برابری اور انصاف کی ضمانت دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 240 تا 242 ان اصلاحات کی قانونی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ پارلیمنٹ، عدلیہ اور سول سوسائٹی مل کر ایسا نظام تشکیل دیں جو ان آئینی اصولوں کی حقیقی روح کو مجسم کرے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے