جمہوریت کے کرشمے – ندیم اختر

شیئر کریں

جمہوری ملکوں اور ان کے شہریوں پر مشکل وقت آتا ہے تو جمہوریت ان کی مدد کے لیے ہمیشہ موجود ہوتی ہے۔ امریکہ کو جب اپنی تاریخ کے ایک ایسے بدترین معاشی بحران کا سامنا ہوا جس پر مروجہ سیاسی پالیسیوں کے ذریعے قابو پانا ممکن نہیں تھا تو جمہوریت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں ایک انتہائی منفرد، قوم پرست اور غیر روایتی امریکی کو صدارت کے منصب پر فائز کر دیا۔ صدر ٹرمپ نے ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے انتہائی تیز رفتاری سے ایسے غیر معمولی اقدامات کیے جن سے امریکی سماج کا بڑا حصہ براہ راست متاثر ہونے لگا۔ کئی کھرب ڈالر سے زیادہ کے نا قابل برداشت تجارتی اور بجٹ خسارے کو کم کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ دنیا کے ہر ملک پر اچانک بھاری درآمدی ٹیکس لگانے سے مارکیٹ سے سستی اشیا غائب ہو گئیں اور مہنگائی کا طوفان آ گیا۔ امریکہ میں کم اجرت پر کام کرنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد ایک کروڑ پچاس لاکھ سے زیادہ ہے۔ انہیں فوری طور پر ملک بدر کیا جانے لگا جس سے نہ صرف معیشت کے کئی شعبے متاثر ہوئے بلکہ بڑے شہروں میں خوف کی فضا پیدا ہو گئی۔ امریکی نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی خاطر غیر ملکی ہنر مند لوگوں کے لیے ویزا کا حصول بہت مشکل کر دیا گیا جس سے آئی ٹی، سافٹ ویر اور ہائی ٹیک کمپنیوں کے مسائل پیچیدہ ہو گئے اور کمپنیوں نے دوسرے ملکوں میں سرمایہ کاری شروع کر دی۔ تعلیمی اداروں میں غیر ملکی طلبا کی آمد کو محدود کرنے سے کئی جامعات اور کالج مالی بحران کا شکار ہو گئے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ امریکی معیشت کو مکمل تباہی سے بچانے کے لئے یہ اقدامات ُ یقیناً ضروری تھے لیکن یہ عمل بتدریج کیا جاتا تو دنیا کے بہت سے ملکوں سے تعلقات کشیدہ ہوتے اور نہ ہی امریکی صارفین پر مالی بوجھ میں اتنا اضافہ ہوتا۔ نیو یارک میں میئر الیکشن کے نتائج سے ظاہر ہوا ہے کہ جمہوریت نے مداخلت کی ہے اور امریکہ کے سیاسی اور سماجی ماحول میں بڑھتے ہوئے عدم توازن کو روکنے کی کوششں کی ہے۔

جمہوریت کا کمال ہے کہ وہ معاشرے میں عدم توازن یا انتہا پسندی کو ایک حد سے آگے نہیں بڑھنے دیتی۔ شاید یہی وجہ ہے کی جمہوری ملک، مختلف نوعیت کے داخلی تضادات اور مسائل کے باوجود شاذ و نادر ہی مکمل تباہی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس تناظر میں صرف دو مثال دینا چاہوں گا۔ پہلی یہ کہ جمہوری ملک میں غذائی قلت کی صورت میں آزاد پریس کی خبروں اور مضبوط حزب اختلاف کے احتجاج سے حکومت خبر دار ہو جاتی ہے لہٰذا غذائی قلت، قحط کی شکل اختیار نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک کسی جمہوری ملک میں قحط نہیں آیا۔ دوسری مثال یہ ہے کہ دو حقیقی جمہوری ملکوں کے درمیان تنازعات مکمل جنگ کی شکل اختیار نہیں کرتے۔ عوام جنگ نہیں چاہتے اور حکومتیں جنگ سے پیدا ہونے والے معاشی مسائل سے ڈرتی ہیں۔

 

امریکہ راتوں رات ایک عظیم جمہوری ملک نہیں بنا۔ جارج واشنگٹن کی قیادت میں برطانوی نوآبادیاتی تسلط کے خلاف آزادی کی جنگ 1775 میں شروع ہوئی جو 1783 تک جاری رہی۔ 4 جولائی 1776 کو تھامس جیفرسن نے اعلان آزادی پیش کیا، یہ دن امریکہ میں یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ امریکی جمہوریت کی بنیاد اعلان آزادی کے چار اہم ترین اصولوں پر قائم ہے جن کے مطابق، تمام انسان برابر پیدا ہوئے ہیں، ہر انسان کو زندگی، آزادی اور مسرت کے حصول کا حق ہے، حکومت کی طاقت عوام کی رضا سے حاصل ہوتی ہے اور یہ کہ حکومت اگر عوام پر ظلم کرے تو عوام کو اسے تبدیل یا ختم کرنے کا حق حاصل ہے۔

امریکی جمہوریت ارتقا کے کئی مراحل سے گزر کر آج اس مقام پر پہنچی ہے۔ آزادی کے بعد بھی امریکہ میں طویل عرصے تک غلامی برقرار رہی۔ جنگ آزادی کے سپہ سالار جارج واشنگٹن اور ان کی بیگم کے پاس 577 غلام تھے۔ امریکہ میں غلامی چار سال کی طویل خانہ جنگی اور لاکھوں ہلاکتوں کے بعد 1865 میں ختم ہوئی، عوام کو 1869 میں پیدائش پر شہریت کا حق ملا، ہر شہری پر بلا امتیاز قانون کا مساوی اطلاق ہوا اور 1920 میں خواتین کو ووٹ دینے کا حق دیا گیا۔

ظہران ممدانی کی انتخابی کامیابی ثابت کرتی ہے کہ امریکہ ایک عظیم جمہوریت ہے۔ یہ مثال صرف امریکہ میں مل سکتی ہے کہ ایک خاندان سات سالہ بچے کو لیے صرف 27 سال پہلے افریقہ کے غریب ملک یوگنڈا سے ہجرت کر کے آیا ہو، بچے کے والد ہندوستانی نژاد گجراتی مسلمان، والدہ ہندوستانی نژاد پنجابی ہندو ہوں، اس بچے کو 2018 میں امریکہ کی شہریت ملے اور جسے 2025 میں ملک کے سب سے بڑے شہر نیو یارک کا میئر منتخب کر لیا گیا ہو جس کی آبادی دو کروڑ، جی ڈی پی 1.2 کھرب ڈالر (پاکستان سے چار گنا زیادہ ) ہے۔

 

یہ جمہوریت کا کرشمہ ہے کہ وہ انسانوں کو جوڑتی ہے۔ اس کی ایک مثال نیو یارک ہے جس میں 800 زبانیں بولنے والوں نے ظہران ممدانی کو اپنا مئیر منتخب کیا ہے۔ جمہوریت کو قدم جمانے دیں پھر اس کے کرشمے دیکھیں۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے