پاکستان سے متعلق امریکی صدر کے ممکنہ سوالات: مودی نے آسیان سمٹ میں شرکت منسوخ کردی
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق مودی نے ہفتے کے اختتام پر طے شدہ دورہ اچانک منسوخ کر دیا اور سمٹ میں شرکت کے بجائے آن لائن شمولیت کو ترجیح دی۔ اپوزیشن جماعت کانگریس نے الزام لگایا کہ مودی نے ٹرمپ سے ملاقات کے خوف کے باعث اپنا پروگرام بدلا۔
دس رکنی تنظیم ’ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشین نیشنز‘ (آسیان) کی سالانہ کانفرنس اور اس سے منسلک اجلاس 26 سے 28 اکتوبر تک کوالالمپور میں منعقد ہوئے۔
بلومبرگ نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بھارتی حکومت کے بعض حکام کو خدشہ تھا کہ ٹرمپ دوبارہ وہی دعویٰ دہرا سکتے ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے مئی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ مسلح جھڑپ کے بعد جنگ بندی میں ثالثی کی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مودی اس وقت بہار کے اہم ریاستی انتخابات میں اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ ٹرمپ کے ساتھ کوئی ملاقات ایسی صورتحال پیدا کرے جو ان کے لیے سیاسی طور پر شرمندگی کا باعث بنے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ بہار انتخابات میں مودی بی جے پی کے مرکزی چہرے کے طور پر مہم چلا رہے ہیں، اور اگر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان سے متعلق کوئی تبصرہ سامنے آتا تو مخالف جماعتیں اسے ان کے خلاف انتخابی ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکتیں۔
بلومبرگ نے یہ بھی یاد دلایا کہ اگست میں مودی نے ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس کی دعوت بھی اسی خدشے کے باعث مسترد کر دی تھی کہ کہیں وہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کا اہتمام نہ کر دیں۔




