مولوی آج کے عہد میں ایک ایسا ٹولا بلکہ کردار بن چکا ہے جو وقت کی رفتار سے کٹ چکا ہے۔ وہ صدیوں پرانی تشریحات اور مروجہ تعبیرات میں محصور ہے۔ اس کے علم کی بنیاد روایت پر کار بند ہے تحقیق پر نہیں، ان کے ہاں تقلید ہے، تجسس نہیں، وہ وعظ کا پرچارک ہے، فہم کا نہیں۔ دنیا اگر چہ بدل چکی ہے، مگر مولوی کا ذہن اب بھی اسی صدی میں اٹکا ہے، جہاں سے وہ ابتدائے آفرینش کی تعبیر پیش کرتا ہے۔
مولوی کے دستیاب مذہب یا مذہبی تعبیر جامد ہے، زندگی کی طرح متحرک نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ زمانے کے بدلنے سے دین خطرے میں آ جائے گا، حالانکہ اس کے نزدیک خطرہ دراصل اس کے اپنے مسند کا ہے۔ اس کے منبر کی بنیاد اس خوف پر ہے کہ اگر لوگ سوچنے لگے، تو وہ سننے سے انکار کر دیں گے۔ ان کا دینی فہم زندگی کی رہنمائی کے بجائے اس کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے۔
سیاست میں بھی مولوی مذہب کو غلبے کا ہتھیار بناتا ہے۔ وہ جمہوریت کے خلاف ہے، مساوات کا درس دیتا ہے، لیکن عورت کی بابت وہ مساوات و آزادی سے متنفر ہے۔ وہ معاشرے کو اسی قید میں واپس دھکیلنا چاہتا ہے جسے دنیا صدیوں کی قربانیوں اور جستجو کے بعد توڑ چکی ہے۔ اس کی دنیا خوف پر قائم ہے، جہالت کا خوف، گناہ کا خوف، جہنم کا خوف۔ وہ اس خوف سے قوم کو قابو میں رکھتا ہے اور اسی خوف سے خود زندہ ہے، چندہ کھاتا ہے، مدرسہ چلاتا ہے، ثروت مند ہے اور معاشرے میں اپنے آپ کو آوروں سے الگ تھلگ یعنی بڑا بھی شمار کرتا ہے۔
اس کا طرزِ زندگی بھی منافقت سے خالی نہیں۔ وہ مغرب کو کوسنے دیتا ہے مگر مغربی اشیا، مغربی سہولتیں، مغربی ٹیکنالوجی اور مغربی آزادی کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس کی زبان نفرت سے بھری ہوتی ہے مگر عمل میں وہ اسی تہذیب کا مرہونِ منت ہے جسے وہ شیطانی قرار دیتا ہے۔ وہ عورت کو گھر کی چار دیواری میں قید دیکھنا چاہتا ہے، مگر خود ہر اسکرین پر موجود ہے۔ وہ جس چیز کی مخالفت کرتا ہے، اسی پر پلتا ہے۔
مولوی جدید دور میں مس فِٹ اس لیے نہیں کہ دنیا نے رخ بدل لیا ہے، بلکہ اس لیے کہ وہ خود بدلنے پر آمادہ نہیں۔ وہ علم، فکر، اور شعور کے ارتقا سے خوفزدہ ہے۔ اس کے منبر کی بنیاد جمود پر ہے، اور اس کی اتھارٹی لاعلمی پر۔ وہ مکالمے سے بھاگتا ہے، سوال سے ڈرتا ہے، اور اپنی کمزوری کو عقیدت کی بنا پر محترم پیش کر کے چھپاتا ہے۔
ماڈرن دنیا نے انسان کو شخصی آزادی عطا کی ہے۔ اب ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جس مذہب کو چاہے مانے، جس طرزِ زندگی کو اپنائے، جس لباس کو پسند کرے، اور جس خیال کا اظہار کرے، وہ اس کا اپنا حق ہے۔ یہی لبرل فکر کی اساس ہے، کہ انسان آزاد پیدا ہوا ہے، اور کسی مذہبی یا سیاسی اتھارٹی کو اس کی آزادی پر قبضہ کرنے کا حق نہیں۔ مگر مولوی اس آزادی کو الحاد سمجھتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ ہر شخص اسی مذہب، اسی تشریح، اسی فقہی سانچے میں ڈھل جائے جو اس نے طے کیا ہے۔ وہ صرف اپنے مذہب پر اصرار نہیں کرتا بلکہ دوسروں پر بھی وہی مذہب، وہی عقیدہ اور وہی طرزِ عمل امپوز کرنا چاہتا ہے۔
اس لیے مولوی ماڈرن دنیا کے لیے صرف ایک ماضی کا کھنڈر ہے۔ وہ عہدِ حاضر کے شعور، سائنس، منطق اور آزادی کے بیچ ایک ایسی پرانی عمارت کی طرح کھڑا ہے جو اب گرنے کے قریب ہے، مگر خود کو مضبوط سمجھ رہی ہے۔ وقت اسے برداشت نہیں کرے گا، کیونکہ وقت ہمیشہ آگے بڑھتا ہے، اور مولوی ہمیشہ پیچھے دیکھتا ہے۔

