چین کا یورپی یونین پر اعتراض: روس پر نئی پابندیاں ناقابلِ قبول

شیئر کریں

بیجنگ: چین نے یورپی یونین کی جانب سے روس پر عائد کی گئی تازہ پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کا واحد قابلِ عمل حل صرف مذاکرات اور بات چیت ہیں، دباؤ یا زبردستی کے ذریعے امن قائم نہیں ہوسکتا۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کےمطابق چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان گو جیاکُن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بیجنگ کو یورپی یونین کے اس فیصلے پر شدید تحفظات ہیں اور اس حوالے سے یورپی یونین سے باضابطہ احتجاج بھی ریکارڈ کرایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین اس بحران کا فریق نہیں، نہ ہی اس کا خالق ہے، ہم ہمیشہ امن کے فروغ اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی حمایت کرتے رہے ہیں،  چین نے کسی بھی فریق کو ہتھیار فراہم نہیں کیے اور دوہری استعمال کی اشیاء کی برآمدات پر سخت کنٹرول رکھا ہوا ہے۔

گو جیاکُن نے یورپی یونین پر زور دیا کہ چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا سلسلہ بند کیا جائے اور چین سے متعلق بلاجواز الزامات لگانے سے گریز کیا جائے، کیونکہ یہ رویہ چین اور یورپی یونین کے تعلقات کی صحت مند ترقی کے لیے نقصان دہ ہے۔

چینی ترجمان نے کہا کہ زبردستی اور دباؤ ڈالنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ عالمی تعلقات مزید پیچیدہ ہو جائیں گے۔

خیال رہےکہ  یورپی یونین نے روس کے خلاف انیسواں پابندیوں کا پیکج منظور کیا ہے، جس کے تحت روسی بینکوں، کرپٹو ایکسچینجز، اور بھارت و چین کی کچھ کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

اس سے ایک روز قبل امریکا نے بھی روس کی دو بڑی آئل کمپنیوں روسنیفٹ (Rosneft) اور لوک آئل (Lukoil) پر نئی پابندیاں عائد کی تھیں، جنہیں ماسکو کے امن عمل میں  غیر سنجیدہ رویے  کے باعث قرار دیا گیا۔

واضح رہےکہ تین سال سے زائد عرصے سے جاری روس یوکرین جنگ میں اب تک لاکھوں افراد ہلاک، زخمی یا بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ عالمی معیشت پر بھی اس تنازع کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

مزید خبریں


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے