خوشامد وہ لطیف فن ہے جس میں خوشامد کرنے والا بھی خوش رہتا ہے اور جس کی خوشامد ہو رہی ہو اس کی بھی باچھیں کھل جاتی ہیں۔ بقول نظیر اکبر آبادی:
وہ بھی خوش ہو گیا اپنا بھی ہوا کام میں کام
اس دوطرفہ نرگسی خوشامد کا بس ایک نقصان ہے کہ اس میں قوم کا ستیا ناس ہوجاتا ہے۔
درسی کتب میں پڑھا تھا خوشامد بری بلا ہے لیکن فیروز الغات میں ضرب المثل لکھی ہے خوشامد سے آمد ہے یعنی خوشامد، چاپلوسی کرنے سے اکثر فائدہ ہوتا ہے۔ اب بندہِ ناچیز پریشان ہے کہ درسی کتب کو درست سمجھوں یا بابا فیروز کی مانوں، بہرحال پیر 13 اکتوبر کو شرم الشیخ میں جو نام نہاد امن کانفرنس تھی، اس میں کام کی گفتگو والی شرم و حیا کم اور شیخیاں زیادہ تھیں۔ لگ رہا تھا کہ ہر کوئی اپنی پی آر بڑھانے کے مشن پر ہے۔
اپنی غیر مستقل مزاجی میں مستقل مزاج صدر ٹرمپ نے ہمارے خادم پاکستان کو ”کچھ کہنے“ کو کہا تو ہم نے امریکی صدر کے حق میں تعریفوں کے ایسے پل باندھے کہ دریائے نیل کا پرانا پل بھی شرما گیا اور دریا اپنا بہاؤ روک کر سننے لگا۔ فرمایا، مسٹر ٹرمپ! آپ جیسے مدبر لیڈر صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، خدا آپ کو سلامت رکھے آپ وہ شخص ہیں جس کی دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہوں گا کہ خدا آپ کو طویل عمر دے تاکہ آپ اسی طرح انسانیت کی خدمت کرتے رہیں۔ ”
اس میں دو رائے نہیں کہ ٹرمپ کے فیورٹ فیلڈ مارشل صاحب ہیں جس کا انہوں نے اس روز بھی برملا اظہار کیا لیکن خادم پاکستان نے ٹرمپ بہادر کے لئے جو کہہ دیا اس نے یقیناً انہیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہو گا کہ وہ اپنی گڈ بک میں درج فیورٹیز کی نئی درجہ بندی کر لیں جس میں ٹاپ آف دی لسٹ چھوٹے میاں صاحب کا نام ہونا چاہیے۔ ہمارے وزیر اعظم نے جب اپنی تعریفی تقریر جو فی البدیہہ تھی ( اسے رٹا نہ سمجھا جائے ) تو دنیا کو ہر وقت حیران کر دینے والے ٹرمپ بھی اس پر حیران ہو گئے کہ اس کرہ ارض پر کیا کوئی اتنا بھی صاف گو ہو سکتا ہے اور ان کے منہ سے بے ساختہ نکل گیا ”واؤ میں نے ایسی تقریر کی توقع نہیں کی تھی چلیں اب گھر لوٹتے ہیں میرے پاس کہنے کو اور کچھ نہیں گڈ نائٹ“
ٹرمپ صاحب نے جب ایک موقع پر کہا ”پاکستان زبردست ملک ہے“ ۔ تو یہ جملہ ہم پاکستانیوں کو ماضی میں لے گیا
کیونکہ یہی امریکا ہر بار ہمارے ”برے وقت“ میں ہمیں زیرِ حدت (یعنی جلنے کے لیے ) چھوڑ دیتا تھا۔ 1947 سے 2025 تک پاکستان اور امریکا کا تعلق کسی رومانوی فلم سے کم نہیں، پہلے محبت۔ پھر ٹوٹ کر محبت اور پھر محبت کا بھوت اچانک ہمیں چھوڑ کر کوہ قاف چلا جاتا ہے۔
1950 کی دہائی میں پاکستان نے سیٹو، سنٹو کیا اور کہا ”ہم امریکا کے ساتھ ہیں“ 1965 کی جنگ میں امریکا نے ثابت کیا ”ہم صرف اپنے ساتھ ہیں“ جنگ میں ہمارا اسلحہ بند کر دیا۔ 971 میں جب ملک ٹوٹ رہا تھا تو امریکا نے سمندر میں بیڑا بھیجا۔ مگر وہ بیڑا شاید راہ میں کسی سمندری ڈھابے پر چائے پینے رک گیا۔ 80 کی دہائی میں افغان جہاد میں ہم نے امریکا کے لیے دروازے کھولے، اور بدلے میں ہمارے اوپر پریسلر ترمیم کا تالا لگا دیا۔
2001 آیا ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کہا: ”ہم فرنٹ لائن اتحادی ہیں“ اور امریکا نے جواب دیا: ”جی، فرنٹ پر تو تم ہی ہو، ہم پیچھے سے ڈالرز کا ایندھن دے رہے ہیں“ ۔ دہشت گردی کی جنگ میں 20 سال تک انکل سام کے ساتھ رہے لیکن پھر یہ سننے کو ملا ”پاکستان ڈبل گیم کر رہا ہے“ اب 2025 میں پھر وہی کہانی ہے۔ اسٹیج بھی وہی ہے صرف اداکار بدل گئے ہیں۔
خیر، ہمارے بڑے وزیر تو تازہ تازہ اعزازی ڈاکٹریٹ ہوئے ہیں لیکن ٹرمپ صاحب خود پسندی میں پاپی پی۔ ایچ۔ ڈی ہیں کسی کو یقین نہیں تو ان کی کتاب ”دی آرٹ آف دی ڈیل“ پڑھ لے، یوں دونوں کا سفارتی نورتن سرکٹ میں خوب جوڑ پڑا ہے لیکن ہم جنہیں صرف ایک اچھا منتظم سمجھتے تھے شرم الشیخ میں ان کی ایک اور خوبی بھی عیاں ہو گئی جس کی بدولت ہم پاکستانی فخریہ یہ کہنے لگے ہیں کہ ٹرمپ بھلے دنیا کو کنٹرول کرتا ہے ہمارے والے کے پاس ایسی گیدڑ سنگھی ہے جس سے وہ امریکی صدر کو جب چاہے اور جہاں چاہے رام کر لے۔
اس لئے اپنی بلا سے مخالف بھلے لاکھ جلیں لیکن خوشامد کا جو گولڈ میڈل ہم نے اپنے گلے ڈلوا لیا ہے وہ سفارت کاری کا ”نیکسٹ لیول“ ہے اور شاید ٹرمپ کی باقی ماندہ مدت میں ہم اسی کا ”پھل“ کھاتے رہیں لیکن کاش ہمارے حکمران یہ سمجھ جائیں کہ خوشامد سے کبھی خوش حالی نہیں آتی نہ اس منجن سے تاج محل بنتا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ شرم الشیخ سے شروع ہونے والا خوشامد کا یہ سطحی سفر کب شرمندگی کی منزل پر پہنچتا ہے اور ہم کب اس چھکڑا بس سے نیچے اترنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

