خیبرپختونخوا اسمبلی میں نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی کی پہلی تقریر نے جہاں سیاسی فضا میں جوش بھر دیا، وہاں کئی نئے خدشات کو بھی جنم دیا۔“ ہم صوبے میں کسی قسم کے فوجی آپریشن کی اجازت نہیں دیں گے”جیسے الفاظ محض سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ آئینی اور ریاستی اختیارات کو چیلنج کرنے کے مترادف ہیں۔ ایک صوبائی سربراہ کا یہ لہجہ جمہوری طرزِ حکمرانی کے بجائے مزاحمتی بیانیے کو ہوا دیتا ہے۔ جذباتی نعرے وقتی حمایت تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر ان کے خمیازے اکثر ریاستی نظم، سلامتی اور آئینی توازن کو متاثر کرتے ہیں،اور یہی وہ خطرہ ہے جو سہیل آفریدی کی تقریر میں پوشیدہ دکھائی دیتا ہے۔
وہ ایک سنسنی خیز لمحہ تھا، جب نومنتخب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں وہی الفاظ ادا کیے جو پورے ملک میں سیاسی دراڑیں گہری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں،ان کا اعلان، کہ صوبے میں کسی بھی قسم کا آپریشن برداشت نہیں کیا جائے گا، اور بانیِ تحریکِ انصاف کی رہائی کے لیے احتجاجی سیاست کا آغاز کیا جائے گا،محض ایک ذاتی عہد نہیں بلکہ ایک واضح سیاسی سمت کا اعلان ہے جس کی تہہ میں کئی سوالات، خدشات اور خطرات پنہاں ہیں۔
پہلا اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ ایک منتخب صوبائی سربراہ کا یہ بیان، خاص طور پر جب اس میں ریاستی اداروں کے ناگزیر کردار کو چیلنج کیا گیا ہو، ملکی سالمیت اور قانونِ نافذ کرنے والے اداروں کے باہم توازن کے حساس معاملات کو ہلا کر رکھ سکتا ہے۔ مسلح افواج اور سویلین حکومتوں کے تعلقات میں یک طرفہ حدود کا تعین کسی بھی صورت غیر ذمہ دارانہ ہے؛ صورتِ حال میں جب دہشت گردی، نوسربازی یا داخلی عدم استحکام کے خلاف بروقت کارروائیاں ضروری سمجھی جاتی ہیں، وہاں صوبائی سطح پر مکمل ممانعت پر زور دینا ریاستی حکمتِ عملی کو متاثر کرے گا۔ آسان لفظوں میں: اگر صوبہ خود اپنی حدود میں ”کوئی آپریشن نہیں ” کا عندیہ دے دے تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف قومی حکمتِ عملی کس طرح موثر رہے گی؟ کیا صوبائی خودمختاری قومی سلامتی کے بنیادی مفاد پر غالب آ سکتی ہے؟
دوسرا نکتہ اس خطاب کا سیاسی پس منظر اور اس کے ممکنہ نتائج ہیں۔ آفریدی نے واضح طور پر اپنے آپ کو ”احتجاجی سیاست کا چیمپیئن” قرار دیا اور اعلان کیا کہ اگر عمران خان یا پارٹی کی مشاورت کے بغیر ان کو کسی بھی دوسری جیل منتقل کرنے کا اقدام ہوا تو پورا پاکستان جام کر دیا جائے گا۔ یہ بیان بظاہر سیاسی قوت دکھانے کی کوشش ہے مگر عملی طور پر تشدد یا شہری عدمِ تعاون کی کال میں تبدیل ہو سکتا ہے، جو کہ جمہوری عمل کی نوعیت کے خلاف اور امنِ عامہ کے لئے خطرناک ہے۔ کسی بھی سیاسی جدوجہد کا حق جمہوری اصولوں کے اندر رہتے ہوئے استعمال ہونا چاہیے؛ سڑکوں کو بند کرنا یا اداروں کو بدنام کرنا کسی بھی سیاسی نقطء نظر کے لیے قابلِ قبول جواز نہیں بن سکتا۔ تیسرا معاملہ افغان مہاجرین اور ملک کی خارجہ پالیسی سے متعلق ہے۔ آفریدی نے افغان پالیسی پر نظرِ ثانی اور مہاجرین کے ساتھ انسانی سلوک کی وکالت کی ہے، ایک حساس موضوع جس میں جذباتی اپیل کے ساتھ ساتھ حقیقی پالیسی ساز بحث بھی ضروری ہے۔
سرحدی سلامتی اور بین الاقوامی تعلقات کا تقاضا ہے کہ کسی بھی پالیسی میں وفاقی حکومت، صوبائی انتظامیہ اور مقامی آبادی کی رائے کو یکجا کیا جائے۔ افکارِ عامہ کو پالیسی سازی میں شامل کر کے ایک متوازن حل تلاش کیا جائے۔
چوتھا نکتہ جو خطرناک دکھائی دیتا ہے وہ ہے ”پختون تحفظ موومنٹ (PTM) پر پابندی ختم کرنے” اور ”ڈرون حملوں اور بمباری کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے” کے مطالبات۔ یہ مطالبات جذباتی ہو سکتے ہیں، مگر ان کے نفاذ میں جو قانونی، عملی اور بین الاقوامی مضمرات ہیں وہ کسی عجلت یا جذباتی فیصلے کے ہوتے ہوئے نظر انداز نہ کیے جائیں۔ قوانین کی پاسداری، شواہد کی بنیاد اور عدالتی کارروائی اہم ہیں؛ فوری الزام تراشی یا صوبائی سطح کی پالیسی سازی بین الاقوامی تعلقات اور فوجی کمانڈ میں پیچیدگیاں لا سکتی ہے۔ ریاستی اداروں کے خلاف عوامی انتقامی جذبے کے بجائے شواہد پر مبنی شفاف تحقیقات کا مطالبہ زیادہ معقول اور پائیدار راستہ ہوگا۔
پانچواں اہم پہلو یہ ہے کہ آفریدی نے اپنی تقریر میں ذاتی قربانی، قبائلی شناخت اور ”میرے پاس کھونے کو کچھ بھی نہیں ” جیسے جذباتی الفاظ کو بار بار دہرایا۔ یہ بیانیہ بلاشبہ عوامی ہم آہنگی پیدا کرتا ہے، مگر سیاسی لیڈرشپ کا تقاضا یہ بھی ہے کہ جذباتی زبان کو عملی حکمتِ عملی میں بدلا جائے،ترقیاتی منصوبے، قانون و انتظامیہ میں شفافیت اور دہشت گردی کے باعث متاثرہ علاقوں کی بحالی کے جامع پروگرام۔ صرف نعرے بازی سے عوامی مسائل حل نہیں ہوتے، اس کے لئے عملی ادارہ جاتی اصلاحات اور معاشی منصوبہ بندی درکار ہوتی ہے۔
آخر میں، سوال یہ ہے کہ کیا ایک صوبائی وزیراعلیٰ کے بیانات ریاست کی اندرونی ہم آہنگی کو ضعف پہنچانے کے مترادف ہو سکتے ہیں؟ اگر صوبائی سیاست محاذ آرائی میں تبدیل ہو جائے تو اس کے خمیازے میں عام شہری اور کمزور طبقات ہی آئیں گے۔ جمہوریت کا حسن اسی میں ہے کہ اختلاف رائے کے اظہار کے لئے قانونی، سیاسی اور جمہوری رویے اپنائے جائیں، عدالتوں، انتخابی عمل، پارلیمانی مباحث اور عوامی نمائندگی کے ذریعے احتجاج جائز ہے، مگر وہ تب سیاسی اخلاق و قانون کی حدود میں رہ کر موثر ہوتا ہے جب وہ ریاستی اداروں کو دیوار سے لگانے کے بجائے متبادل حکمتِ عمل پیش کرے۔
یہ سوال اب پوری شدت سے ابھر رہا ہے کہ صوبے کے سربراہ کی تقریر واقعی ایک سیاسی موقف تھی یا کسی بڑے تصادم کی تمہید؟ سیاست کا حسن ہمیشہ مکالمے، تدبر اور مفاہمت میں ہوتا ہے، نہ کہ محاذ آرائی اور مزاحمت میں۔ اگر کسی منتخب نمائندے کے منہ سے نکلے الفاظ اداروں کو للکارنے لگیں تو یہ جمہوریت کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی آزمائش بن جاتے ہیں۔ سیاست کا مقصد دراڑیں پیدا کرنا نہیں بلکہ انہیں پُر کرنا ہے۔ سہیل آفریدی کے بیانات وقتی تالیوں کی گونج میں شاید جوش پیدا کریں، مگر جب یہ گونج ختم ہوگی تو ان کے اثرات آئینی توازن، قومی وحدت اور ریاستی نظم پر ضرور پڑیں گے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سیاست کو تصادم سے بچانا اور جذبات کو تدبر میں ڈھالنا اہلِ اقتدار کی اصل آزمائش ہے۔ بصورتِ دیگر، ایک تقریر کا شور بہت دور تک سنائی دے سکتا ہے، اور اس کا خمیازہ قوم کو برسوں تک بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

