دنیا بھر میں ہر سال 10 اکتوبر کو عالمی یومِ ذہنی صحت منایا جاتا ہے۔ اس سال کا موضوع ہے: "خدمات تک رسائی — آفات و ایمرجنسی کی صورتِ حال میں ذہنی صحت”۔
یہ موضوع پاکستان جیسے ملک کے لیے نہایت اہم ہے، جہاں دہشت گردی، سیلاب، زلزلے، اور غربت نے لاکھوں انسانوں کی زندگیوں پر گہرے نفسیاتی زخم چھوڑے ہیں۔ گھروں اور روزگار کے نقصان کے ساتھ ساتھ متاثرین میں ڈپریشن، بے چینی اور صدمے (PTSD) کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ذہنی صحت کی سہولتیں اب بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔
پاکستان میں ذہنی صحت کا بحران
پاکستان میں ذہنی صحت ہمیشہ پس منظر میں رہی ہے، حالانکہ یہ انسانی زندگی، معاشرتی ڈھانچے اور قومی ترقی پر براہِ راست اثرانداز ہوتی ہے۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق پاکستان کی آبادی کا 10 سے 16 فیصد حصہ کسی نہ کسی ذہنی عارضے کا شکار ہے جبکہ 1 سے 2 فیصد شدید بیماریوں میں مبتلا ہیں۔
آزادانہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ تقریباً 34 فیصد پاکستانی ڈپریشن اور بے چینی جیسے مسائل میں مبتلا ہیں۔ اس وقت ملک میں 2 کروڑ 40 لاکھ سے زائد شہری ذہنی بیماریوں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ ہر سال 20 سے 25 ہزار افراد خودکشی کے باعث اپنی جان گنوا دیتے ہیں — مگر اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ بدنامی اور قانونی رکاوٹوں کے باعث زیادہ تر کیس رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔
بچوں اور نوجوانوں میں ذہنی دباؤ
تحقیق کے مطابق 17 فیصد اسکول جانے والے بچے ذہنی مسائل کا شکار ہیں مگر علاج کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے۔
نوجوان طبقہ بے روزگاری، منشیات کے پھیلاؤ، اور سماجی دباؤ کے باعث خاص طور پر خطرے کی زد میں ہے۔
ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا کہ 73 فیصد طلبہ میں PTSD کی علامات پائی گئیں — یہ کسی المیے سے کم نہیں۔
وسائل کی شدید کمی:
ملک میں ماہرینِ نفسیات کی کل تعداد 500 سے بھی کم ہے اور ان میں سے زیادہ تر بڑے شہروں میں موجود ہیں۔
اس کا مطلب ہے کہ دیہی علاقوں میں رہنے والی 63 فیصد آبادی ذہنی صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔
قومی سطح پر صحت کے بجٹ کا بمشکل 0.5 فیصد ذہنی صحت کے لیے مختص کیا جاتا ہے، جبکہ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یہ کم از کم 5 فیصد ہونا چاہیے۔
آفات اور ذہنی صحت — ایک سنجیدہ سوال
پاکستان میں قدرتی آفات اور انسانی بحرانوں نے ذہنی امراض کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔
2005 کا زلزلہ: 35 لاکھ افراد بے گھر ہوئے، جن میں سے 50% ڈپریشن، بے چینی یا PTSD کا شکار ہوئے۔
2010 کا سیلاب: 2 کروڑ افراد متاثر، 30% سے زائد ذہنی دباؤ میں مبتلا۔
2022 کا سیلاب: 3 کروڑ 30 لاکھ افراد بے گھر، جن میں 1 کروڑ 60 لاکھ بچے شامل تھے۔
یونیسف نے اسے ذہنی صحت کا ہنگامی بحران قرار دیا۔
یہاں تک کہ امدادی کارکن اور ڈاکٹر بھی متاثر ہوئے۔ 2005 کے زلزلے کے بعد ہر چار میں سے ایک ہیلتھ ورکر ثانوی PTSD کا شکار پایا گیا۔
عالمی منظرنامہ
دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔
ذہنی امراض کے باعث عالمی معیشت کو ہر سال 1 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔
بیماریوں کے عالمی بوجھ (Global Burden of Disease) میں ذہنی امراض کا حصہ 14% ہے۔
ڈپریشن کے شکار افراد: 264 ملین
اضطراب (Anxiety disorders): 284 ملین
خودکشی: ہر 100 اموات میں تقریباً 1
سماجی بدنامی — سب سے بڑی رکاوٹ
پاکستان میں ذہنی امراض کو آج بھی کمزوری، گناہ یا آسیب سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
ایک سروے کے مطابق 60% پاکستانیوں کا یہی خیال ہے۔
یہ نظریات نہ صرف مریض کو علاج سے دور رکھتے ہیں بلکہ خاندان کو بھی مدد لینے سے روکتے ہیں۔
اکثر لوگ پہلے غیر سائنسی یا روایتی علاج آزماتے ہیں اور جب تک وہ ناکام ہو جائیں، بیماری بگڑ چکی ہوتی ہے۔
حل اور سفارشات:
ذہنی صحت کے بحران سے نمٹنے کے لیے جامع اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں:
1. قومی بجٹ کا کم از کم 5 فیصد ذہنی صحت کے لیے مختص کیا جائے۔
2. بنیادی مراکزِ صحت میں ذہنی امراض کی تشخیص و علاج شامل کیا جائے۔
3. لیڈی ہیلتھ ورکرز کو نفسیاتی تربیت دی جائے تاکہ دیہی سطح پر ابتدائی مدد فراہم کی جا سکے
4. ٹراما کونسلنگ مراکز اور موبائل کلینکس قائم کیے جائیں۔
5. ماہرینِ نفسیات، سائیکالوجسٹ، نرسز، اور سماجی کارکنوں کی تربیت کے لیے تعلیمی اداروں کو مضبوط بنایا جائے
6. سماجی بدنامی کے خاتمے کے لیے اسکولوں، مساجد، میڈیا اور دفاتر میں آگاہی مہمات چلائی جائیں۔
7. ڈیزاسٹر مینجمنٹ پالیسی میں ذہنی صحت کو لازمی جزو بنایا جائے۔
پاکستان میں ذہنی صحت کا بحران سنگین ضرور ہے مگر ناقابلِ حل نہیں۔
اگر آج ہم نے فیصلہ کن اقدامات اٹھا لیے تو لاکھوں افراد کی زندگی بدلے گی اور ایک صحت مند، باشعور اور مستحکم معاشرہ تشکیل پائے گا۔
ذہنی صحت کوئی عیاشی نہیں — بلکہ قومی ضرورت ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموشی توڑیں، بدنامی کی دیوار گرا دیں، اور اس بحران کا ڈٹ کر مقابلہ کریں … ورنہ کل بہت دیر ہو جائے گی۔

