سیاست کا حقیقی مقصد معاشی وسائل کی تقسیم کے لیے فیصلہ سازی کا ایسا بندوبست ہے جس میں عام شہری کے معیار زندگی میں تین اشاریوں پر بہتری لائی جا سکے۔ (الف) شہریوں کی بنیادی ضروریات مثلاً خوراک، علاج معالجہ، تعلیم اور رہائش کی ضمانت دی جا سکے۔ (ب) قانون اور نظام عدل کی مدد سے شہریوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جا سکے (ج) شہریوں کے باہم تعلق اور حقوق کا ایسا نظام مرتب کیا جائے جس سے مختلف جغرافیائی، لسانی، ثقافتی اور مذہبی گروہوں میں معاشی فرق اور ترقی کے مواقع میں فرق کو کم سے کم کیا جا سکے۔ دوسرے لفظوں میں سیاسی عمل بنیادی طور پر معاشی سوال ہے۔ سیاست کے معاشی تقاضے شہریت کی مساوات اور فیصلہ سازی میں شفافیت کے بغیر پورے نہیں ہو سکتے۔ جہاں سیاسی عمل کمزور، غیرشفاف اور غیر مستحکم ہو، وہاں معاشی ترقی استحصال، جمود اور زوال کا شکار ہو جاتی ہے۔ سیاست کو احترام دیے بغیر شہری کی توقیر ممکن نہیں اور بے توقیر شہری اجتماعی سیاسی عمل سے بے گانہ ہو کر قانون یا دیانتداری کی پروا کیے بغیر اپنی ذاتی بقا کی دوڑ میں شریک ہو جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں سیاست ایک وجودی بحران کا شکار ہے۔ اس بحران کی جڑیں ہمارے ابتدائی برسوں میں پیوست ہیں اور رفتہ رفتہ قومی زندگی کے ہر شعبے میں پھیل چکی ہیں۔
جغرافیائی طور پر غیر متصل مشرقی اور مغربی پاکستان میں سیاسی اقتدار میں عدم توازن نے ابتدا ہی میں سیاسی عمل کو کمزور کر دیا۔ طرہ یہ کہ مسلم لیگ کی قیادت نے پاکستان میں اپنے سوا دوسری سیاسی جماعتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ مشرقی بنگال کی عددی اکثریت کے خوف سے آئین کی تشکیل موخر ہوتی رہی اور پاکستان میں بیورو کریسی، فوج اور جاگیرداروں میں غیر جمہوری گٹھ جوڑ نے جنم لیا۔ مشرقی پاکستان سیاسی فیصلہ سازی سے بے دخل ہو کر احساس محرومی کا شکار ہو گیا۔ 1951ء ہی سے عملی طور پر حکومت سکندر مرزا، ایوب خان، چوہدری محمد علی اور غلام محمد جیسے کرداروں کے قبضے میں آ گئی۔ لیاقت علی خان کی سیاسی قامت ایسی نہیں تھی کہ وہ پاکستان میں وفاقی سطح پر مفاہمانہ سیاست کو آگے بڑھاتے۔ پاکستان کا پہلا دستور مرتب ہونے سے قبل ہی کوئی درجن بھر صوبائی حکومتیں تحلیل کی گئیں۔ دستور ساز اسمبلی توڑی گئی۔ ون یونٹ بنا کے پارلیمانی سیاست کو تہ و بالا کیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ رواں صدی کے پہلے دو عشروں میں ایسا کیا معجزہ تھا کہ سیاسی عدم استحکام کے باوجود معاشی اشاریے آج سے بہتر تھے۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ افغان جنگ میں بیرونی امداد کی گنگا بہہ رہی تھی اور دوسرا جواب یہ کہ 2008ء سے 2018ء ک سیاسی عمل کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا اب ہم اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ بظاہر سیاسی جماعتیں موجود ہیں اور ان کے مفروضہ رہنما بھی موجود ہیں لیکن جسد اجتماعی سے سیاسی شعور کا وہ عنصر ختم ہو گیا ہے جو سیاسی عمل کو نامیاتی توانائی بخشتا ہے۔ پاکستان میں رائے عامہ سیاست سے نا امید ہو چکی ہے اور سیاسی قیادت وہ عصائے سلیمانی ہے جسے مسلسل دشنام اور سازش کی دیمک چاٹ چکی ہے۔ ایسی سیاسی قیادت ملک میں بنیادی معاشی فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ سیاسی اختیار اور معاشی فیصلہ سازی میں یہ فاصلہ ہماری سیاست کا بنیادی المیہ ہے۔

