پاکستان میں سیکولر اور لبرل دانش وروں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو برصغیر میں ہندو مسلم دشمنی کا ذمے دار مسلمانوں، اور پاک بھارت دشمنی کا ذمے دار پاکستان کو قرار دیتی ہے۔ اس سلسلے میں سیکولر اور لبرل بہت رعایت کرتے ہیں تو ہندو مسلم دشمنی کا ذمے دار ہندو اور مسلمانوں، اور پاک بھارت دشمنی کا ذمے دار بیک وقت پاکستان اور ہندوستان کو قرار دیتے ہیں۔ ایاز امیر ایک سیکولر دانش ور ہیں، ذرا ان کے کالم کا یہ حصہ تو ملاحظہ کیجیے، لکھتے ہیں:
’’ہمارے اوپر کے طبقات ہمارے دونوں ملکوں کی غربت کا تو کچھ احساس کرلیں۔ یہ معاشرے ایسے ہیں جن میں امارت کی کمی نہیں، لیکن غربت دیکھیں تو نصف سے زیادہ ہماری آبادیوں کی زندگی اجیرن ہے۔ قومی گفتگو البتہ غریبوں کے بس میں تو ہوتی نہیں، اوپر کے طبقات یا یوں کہیے حکمران طبقات ہی قومی گفتگو کا تعین کرتے ہیں۔ ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں؟ دونوں ممالک کے کرتے دھرتے یہ دیکھ نہیں سکتے کہ دونوں اطراف ایٹمی ایندھن اتنا ہے کہ ایک دوسرے کو ایک بار نہیں کئی بار تباہ کرسکتے ہیں۔ پھر بس کر جائیں، جنگ کے ڈھول پیٹنا چھوڑ دیں۔ غربت کے جملہ مسائل کی طرف کچھ توجہ دیں۔
مانا کہ حفاظت لازمی ہے۔ حفاظت تو گلی محلوں میں لوگ اپنے گھروں کی بھی کرتے ہیں۔ لیکن ہمسائے ہوں اور مسلسل اور بلاوجہ توتکار کرتے رہیں تو کیا وہ اچھا سمجھا جائے گا؟ پاک و ہند کا یہی مسئلہ ہے، آرام سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ نہیں سکتے۔ پتا نہیں کیا یہاں کی بیماری ہے کہ 78 سال ہوگئے ہیں جب انگریز یہاں سے گئے اور اقتدار ہم دو ممالک کے ہاتھوں میں دے گئے، لیکن ہم ہیں کہ ہمارے جھگڑے ختم ہی نہیں ہوتے۔ مسئلے لوگوں میں رہتے ہیں، ممالک میں رہتے ہیں لیکن عقل ہو، مہذب پن سے کچھ آشنائی ہو، تو ایک دوسرے پر پتھر نہیں پھینکتے رہتے۔ بات چیت سے خوش اسلوبی سے ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری کی جاتی ہے۔ لیکن ہم دونوں ممالک کا مسئلہ عجیب ہے۔ محسوس تو یہ ہوتا ہے کہ مہذب پن نام کی کوئی چیز ان ہوائوں سے نہیں گزری۔
کشمیر کشمیر ہم کہتے رہتے ہیں لیکن اتنا تو خیال کریں کہ کشمیر کے مسئلے نے بعد میں سر اٹھایا تھا۔ تقسیم ہند کشمیر کی وجہ سے نہیں ہوئی، اس کے کچھ اور عوامل تھے۔ یہ تو ہندوستان آزاد ہوا اور ہم معرضِ وجود میں آئے اور عذرِ دشمنی کے طور پر مسئلہ کشمیر نمایاں ہوتا گیا۔ دنیا کے کتنے ممالک ہیں جن کے آپس کے مسائل ہیں، لیکن ہر کوئی وہ نہیں کرتا جو ہماری ضد بن چکی ہے۔ چین سے ہی ہم کچھ سیکھ لیں، چین کا اٹل مؤقف ہے کہ تائیوان نے اعلانِ آزادی کیا تو جنگ چھڑ جائے گی۔ اس کے باوجود چین اور تائیوان کے درمیان وسیع پیمانے پر تجارت جاری ہے۔ تائیوان کی بھاری سرمایہ کاری چین میں ہے اور آپس کا آنا جانا معمول کی بات ہے۔ ہمارا عجیب مسئلہ ہے کہ بات بات پر روابط منقطع ہوجاتے ہیں، تجارت کا پیمانہ ویسے ہی کم ہے لیکن چھوٹا سا مسئلہ بھی اٹھے تو تجارت بند ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ دنیا کے اور کون سے دو ممالک ہیں جو ایک دوسرے کو دشمن کہتے ہیں؟ سرد جنگ کے دوران امریکا اور سوویت یونین کے تعلقات میں کتنی کشیدگی تھی لیکن پھر بھی ایک دوسرے کو دشمن نہیں کہتے تھے۔ چین اور ہندوستان میں 1962ء میں شدید قسم کی جنگ ہوئی، بارڈر پر جھڑپیں اب تک ہوتی رہی ہیں۔ لیکن ان میں تجارت جاری ہے اور ایک دوسرے کو وہ دشمن نہیں کہتے۔ ہم دونوں ممالک کا اعزاز ہے کہ ایک دوسرے کو دشمن کہتے ہیں‘‘۔ (روزنامہ دنیا، 17 اگست 2025ء)
اقبال نے کہا تھا:
مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا
مروت حسنِ عالم گیر ہے مردانِ غازی کا
اقبال کی یہ بات مذاق نہیں۔ مسلمانوں کی تاریخ یہ ہے کہ انہوں نے مکے اور مدینے میں کافروں اور مشرکوں سے نفرت کرنے کے بجائے ’’کفر‘‘ اور ’’شرک‘‘ سے نفرت کی۔ چنانچہ جیسے ہی کافروں اور مشرکوں نے کفر اور شرک کو ترک کیا، مسلمانوں نے انہیں سینوں سے لگالیا۔ مسلمانوں نے ’’مسلم اسپین‘‘ تخلیق کیا تو اس میں عیسائی اور یہودی علم اور خوشحالی میں مسلمانوں کے ہم پلہ تھے اور مسلمانوں نے انہیں کبھی زبردستی مسلمان بنانے کی کوشش نہیں کی۔ برصغیر پر مسلمانوں نے ایک ہزار سال حکومت کی۔ یہ اتنی بڑی مدت ہے کہ اگر مسلمانوں نے صرف دو سو سال بھی ریاستی طاقت اور سرمایہ استعمال کیا ہوتا تو آج برصغیر میں ایک بھی ہندو نہ ہوتا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا میں نہ امریکا تھا نہ یورپ، نہ ہی کوئی اقوام متحدہ تھی، چنانچہ مسلمان کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہوتا۔ مگر مسلمانوں نے ہندوئوں پر جبر نہیں کیا۔ لالچ کے ذریعے ہندوئوں کو مسلمان نہیں کیا۔ ہندو کہتے ہیں کہ اورنگ زیب نے ہندوئوں پر ظلم کیا۔ مگر یہ ایک جھوٹ ہے۔ یورپی مؤرخین نے لکھا ہے کہ اورنگ زیب کے دربار میں ہندو اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ بلاشبہ اورنگ زیب نے دوچار مندر منہدم کرائے، مگر یہ وہ مندر تھے جن میں اورنگ زیب کے خلاف سازشیں تیار کی جاتی تھیں۔ ورنہ اورنگ زیب نے سرکاری خزانے سے کئی مندر تعمیر کرائے۔ مسلمانوں کی یہ ’’خوبی‘‘ ان کی انفرادی خوبی نہیں تھی۔ دراصل مسلمان اس سلسلے میں اسلام کے تابع تھے اور ہیں۔ مسلمانوں کا دین ان سے صاف کہتا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں۔ لیکن برصغیر میں جیسے ہی ہندوئوں نے طاقت پکڑی، انہوں نے مسلمانوں پر جبر اور ظلم کرنا شروع کردیا۔ ہمارے سامنے مولانا محمد علی جوہر کی 1930ء کی ایک تقریر رکھی ہوئی ہے۔ اس تقریر میں مولانا محمد علی جوہر، گاندھی سے مخاطب ہوکر کہہ رہے ہیں کہ ہندو ’’شدھی‘‘ کی تحریک کے تحت مسلمانوں کو جبراً ہندو بنا رہے ہیں۔ آخر آپ ان کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑتے۔ 1930ء میں پاکستان کیا، پاکستان کا نام بھی موجود نہیں تھا۔ اُس زمانے میں بی جے پی بھی نہیں تھی، مگر ہندو طاقت اور لالچ کے ذریعے نسلوں سے مسلمان چلے آرہے مسلمانوں کو دوبارہ ہندو بنا رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ جن ہندوئوں کو مسلمانوں نے مسلمان بنایا ہے ہم انہیں ’’شدھ‘‘ یا ’’پاک‘‘ کرکے دوبارہ ہندو بنائیں گے۔ شدھی کی یہ تحریک ہندوستان میں آج بھی جاری ہے، صرف اس کا نام بدل کر ’’گھر واپسی‘‘ کی تحریک رکھ دیا گیا ہے۔
منشی پریم چند اردو افسانے کے ’’بنیاد گزار‘‘ ہیں۔ ان کے افسانے ’’عیدگاہ‘‘ سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اسلام اور اسلامی تہذیب سے بہت متاثر تھے، مگر گاندھی نے رفتہ رفتہ انہیں مسلمانوں سے برگشتہ کردیا، یہاں تک کہ انہوں نے اردو میں افسانے لکھنا بند کردیے اور وہ ہندی میں افسانے لکھنے لگے۔ نہرو کی بہن وجے لکشمی بھی اسلام اور مسلمانوں سے بہت متاثر تھیں اور انہوں نے بھی ایک مسلمان سے شادی کرلی تھی۔ گاندھی کو یہ معلوم ہوا تو وہ وجے لکشمی پنڈت پر بہت ناراض ہوئے۔ انہوں نے وجے لکشمی پنڈت سے کہا کہ کروڑوں ہندوئوں میں سے تمہیں ایک ہندو بھی ایسا نہیں ملا جس سے تم شادی کرلیتیں؟ تمہیں پسند آیا تو ایک مسلمان! گاندھی نے وجے لکشمی پر اتنا دبائو ڈالا کہ انہوں نے اپنے مسلمان شوہر سے علیحدگی اختیار کرلی۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک ایک مبلغ اور مذاہبِ عالم کے ماہر ہیں۔ وہ ہندوئوں سے کھلے عام مکالمہ کرکے انہیں مسلمان بنارہے تھے۔ مگر بھارت کی حکومت سے یہ برداشت نہ ہوا، اور اس نے ذاکر نائیک کو بھارت چھوڑنے پر مجبور کردیا۔
جہاں تک پاک بھارت تعلقات کی بات ہے، تو پاکستان ایک فی صد بھی ان کی خرابی کا ذمے دار نہیں۔ قیام پاکستان سے ذرا پہلے ایک مغربی صحافی نے قائداعظم سے پوچھا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کیسے ہوں گے؟ قائداعظم نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا: جیسے امریکا اور کینیڈا کے تعلقات ہیں۔ یعنی برادرانہ۔ مگر بھارت کی ہندو قیادت نے پہلے ہی دن سے پاک بھارت تعلقات کو خراب کرنا شروع کردیا۔
قیام پاکستان کے وقت دلی میں مسلم کُش فسادات شروع ہوئے تو مولانا ابوالکلام آزاد نے نہرو سے کہا کہ ان فسادات کو رکوائو۔ نہرو ہندوستان کے وزیراعظم تھے، مگر انہوں نے کہا میں وزیرداخلہ سردار پٹیل سے کئی بار کہہ چکا ہوں کہ دلی میں مسلم کُش فسادات روکو، مگر وہ میری بات ہی نہیں سنتا۔ سوال یہ ہے کہ کیا وزیر داخلہ وزیراعظم سے بھی زیادہ طاقت ور تھا؟ یا اصل بات یہ تھی کہ نہرو بھی مسلم کش فسادات کو رکوانا نہیں چاہتے تھے۔
ہندو قیادت کی پاکستان دشمنی کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے حصے میں جو 70 کروڑ روپے آئے تھے، بھارت نے وہ روپے پاکستان کو دینے سے انکار کردیا۔ چنانچہ گاندھی کو احتجاج کے طور پر اس سلسلے میں تادم مرگ بھوک ہڑتال کرنا پڑی، تب کہیں جاکر ہندو قیادت نے پاکستان کے مالی وسائل پاکستان کے حوالے کیے۔ یہ حقیقت عیاں تھی کہ پاکستان ایک پُرامن تحریک اور پُرامن جدوجہد کا حاصل تھا اور برصغیر میں اس حوالے سے خون خرابے کا کوئی جواز نہ تھاُ مگر ہندو قیادت نے پورے ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکا دی اور مسلم کش فسادات میں 10 لاکھ مسلمان شہید ہوگئے۔ اس کے باوجود پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے نہرو کے ساتھ دونوں ملکوں میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے لیاقت نہرو پیکٹ پر دستخط کیے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ریاست حیدرآباد دکن اور ریاست جونا گڑھ نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کردیا تھا اور یہ دونوں ریاستیں پاکستان کو ملنی چاہیے تھیں، مگر ہندوستان نے ان پر قبضہ کرکے پاک بھارت تعلقات کو آگ لگادی۔ کشمیری بھی پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے تھے مگر بھارت نے طاقت کے ذریعے کشمیر پر قبضہ کرلیا۔ مسئلہ کشمیر کو پاکستان نہیں، پنڈت نہرو اقوام متحدہ لے گئے تھے اور اقوام متحدہ نے اپنی قراردادوں میں طے کیا تھا کہ کشمیر کے مستقبل کا تعین رائے شماری کی بنیاد پر ہوگا، مگر بھارت نے آج تک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرکے نہیں دیا۔ حد تو یہ ہے کہ جنرل پرویزمشرف نے آگرہ میں بھارت کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے کشمیر پر پسپائی اختیار کرلی تھی مگر اس کے باوجود بھارت مذاکرات کی میز سے بھاگ گیا۔ یہ بات بھی تاریخ کے ریکارڈ پر ہے کہ پاکستان نے دریائوں کے مسئلے پر بھارت سے جنگ کرنے کے بجائے اس کے ساتھ سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے، مگر اب بھارت سندھ طاس معاہدے کا بھی منکر ہوگیا ہے۔
1971ء میں مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہورہا تھا وہ پاکستان کا ’’داخلی معاملہ‘‘ تھا اور بھارت کو مشرقی پاکستان کے معاملات سے دور رہنا چاہیے تھا، مگر بھارت نے مشرقی پاکستان میں مداخلت کی اور 54 فی صد پاکستان کو پاکستان سے الگ کرکے بنگلا دیش بنادیا۔ یہی نہیں، بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے اس موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے تاریخ کو آواز دی اور فرمایا کہ آج ہم نے ایک ہزار سال کی تاریخ کا بدلہ لے لیا ہے اور دوقومی نظریے کو خلیج بنگال میں غرق کردیا ہے۔ اِس وقت بھی بھارت بلوچستان میں مداخلت کررہا ہے اور اُس نے پہلگام واقعے کی آڑ میں پاکستان پر جنگ مسلط کی جس میں اسے شکستِ فاش ہوئی۔ پاکستان کے حکمرانوں کی پوری تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ ان میں ایک حکمران بھی ایسا نہیں گزرا جس نے بھارت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے دوطرفہ مسائل حل کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔ جنرل ضیا الحق کے دور میں پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکرٹریوں کے درمیان مذاکرات کے 9 دور ہوئے۔ نوازشریف تو بھارت ہی کے آدمی تھے۔ عمران خان کے زمانے میں پاکستان نے بھارت کا ایک طیارہ گرایا اور بھارت کا ایک پائلٹ گرفتار کیا تو عمران خان نے فرمایا کہ کیا میں بھارت سے جنگ کرلوں؟ جنرل باجوہ نے دو درجن پاکستانی صحافیوں سے کہا کہ ہم بھارت سے جنگ نہیں کرسکتے، ہمارے پاس تو ٹینکوں میں پیٹرول ڈالنے کے بھی پیسے نہیں۔ میاں شہبازشریف آئے دن بھارت کو مذاکرات کی دعوت دیتے رہتے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بھارت ہے جس کی وجہ سے پاک بھارت تعلقات میں زہر گھلا ہوا ہے۔
برصغیر میں ہندو مسلم اور پاک بھارت دشمنی کا ذمے دار کون؟ شاہنواز فاروقی

