عالمی منظر نامہ

ٹرمپ امن منصوبہ: ایک جائزہ – ڈاکٹر رشید احمد خاں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے ساتھ ملاقات کے بعد غزہ میں گزشتہ دو سال سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے ایک امن منصوبے کا اعلان کیا ہے‘ بقول صدر ٹرمپ‘ اہم مسلم اور عرب ممالک جن میں پاکستان‘ ترکیہ‘ انڈونیشیا‘ مصر‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات‘ قطر

ملالہ با مقابلہ گریٹا: ’طاقت اپنے ساتھ ذمہ داری بھی لاتی ہے‘ رافعہ ذکریہ

جمعرات کو دن کے اختتام تک، اسرائیلی افواج نے اُن تمام کشتیوں کو روک لیا تھا جو گلوبل صمود فلوٹیلا کا حصہ تھیں۔ 450 کارکنان جن میں پاکستانی بھی شامل تھے، 40 سے زائد کشتیوں کے فلوٹیلا میں غزہ کے ساحل کی طرف جا رہے تھے تاکہ مقبوضہ پٹی کی 18 سال سے جاری بحری

کیا یورپ غیر متعلق ہوتا جا رہا ہے؟ نادرہ مہر نواز

یورپ جو کبھی تہذیبوں کا گہوارہ تھا، پوری دنیا میں اس کا راج تھا۔ آج اپنی پرانی شان و شوکت کا سایہ محسوس ہوتا ہے۔ ایشیا اور افریقہ کو استعمار بنانے والا یورپ اب اپنی شاندار ثقافت اور تہذیب کا ڈھانچہ سا دکھائی دیتا ہے۔ پرانی یورپی سلطنتیں، جو روایت اور ثقافت میں جڑیں تھیں

ٹرمپ امن منصوبہ: ’نسل کشی کا مرتکب ملک جیت چکا ہے’ – زاہد حسین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بلآخر غزہ میں جنگ بندی کے لیے اپنے 20 نکاتی منصوبے کی نقاب کشائی کر دی ہے جسے وہ دو سال سے جاری تباہ کن جنگ کے خاتمے کے لیے ایک تاریخی معاہدے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں یہ ایک ایسی دستاویز ہے جو ظالمانہ قبضے

عالمی انتشار کا نیا دور – فرحت علی

گزشتہ تین دہائیوں پر محیط وہ اقتصادی منظرنامہ جو عالمگیریت، منسلک سپلائی چینز اور نسبتاً قابلِ پیشگوئی ترقی پر مشتمل تھا، اب بکھرتا دکھائی دیتا ہے۔ اس تبدیلی کے پیچھے کئی ساختی عوامل کارفرما ہیں۔ عالمی جی ڈی پی کی شرح آئندہ قابلِ پیش نظر مدت تک تاریخی اوسط سے کم رہنے کی توقع ہے۔

عہدِ امید کا زوال – رسول بخش رئیس

آج کل اقوام متحدہ کا سالانہ اجلاس جاری ہے‘ اکثر چھوٹی بڑی ریاستوں کے سربراہانِ مملکت اس میں شرکت کر رہے ہیں۔ یہ دوسری بار ایسا ہو رہا ہے کہ غزہ میں بے رحمی سے فلسطینیوں کی نسل کشی اور یوکرین میں خوفناک جنگ کے شعلے آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔ ابھی تک سفارت کاری

کیا فلسطین کو تسلیم کرنے کے حالیہ سلسلے کا مقصد اسرائیل کو تحفظ دینا ہے؟ – ماہر علی

چند مغربی اقوام نے دنیا کے نقشے پر عدم موجود ایک آزاد فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا ہے۔ ہمیشہ انتہائی پُرامید رہنے والے حلقے بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ اس علامتی اقدام سے غزہ میں نسل کشی رک جائے گی کیونکہ جب تک الفاظ پر عملی طور پر اقدامات نہیں کیے

نریندر مودی اور ان کے نظریاتی بھائی بنیامن نیتن یاہو کا شکریہ! – ضرار کھوڑو

اس سے قبل کہ ہم پاکستان-سعودیہ باہمی دفاعی معاہدے کے اثرات پر بات کریں، آئیے سب سے پہلے ان دو افراد کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اسے ممکن بنانے میں مدد کی۔ سب سے پہلے نریندر مودی جنہوں نے مئی میں اپنے غرور، انتہائی درجے کی قوم پرستی اور بھارتی صلاحیتوں کو حد

پاک-سعودیہ شراکت داری: وہ معاہدہ جس کی گونج دنیا نے سنی! باقر سجاد سید

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ’اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کو مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا دونوں کے لیے ایک اہم اور گیم چینجنگ لمحے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پہلی نظر میں یہ ایک رسمی معاہدہ ہے جو وعدہ کرتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کا دفاع کریں گے۔

عرب ،چین اور امریکہ سے بیک وقت تعلقات کے چیلنج – اشرف شریف

پاکستان کی سرزمین صدیوں سے مشرق و مغرب کے بیچ ایک ایسے درخت کی مانند کھڑی ہے جس کی شاخیں کبھی عرب کے ریگزاروں کی طرف جھکتی ہیں، کبھی چین کے پہاڑوں کی سمت سر اْٹھاتی ہیں، اور کبھی سمندر پار کے مغرب کی طرف نشو نما پانے لگتی ہیں۔قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد

’عرب ممالک اسرائیل کے خلاف متحد نہیں، تقسیم کا شکار گھر اپنی حفاظت نہیں کرسکتا‘ – زاہد حسین

عرب اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے دوحہ میں ہونے والے انتہائی اہم ہنگامی سربراہی کانفرنس کا اختتام ایک طرح سے بےنتیجہ رہا۔ مشترکہ اعلامیے میں مضبوط بیان بازی کی گئی لیکن کوئی حقیقی اقدامات یا کارروائی نہیں کی گئی۔ گزشتہ ہفتے قطر پر صہیونی حملے کے بعد اسرائیل کو فیصلہ کن جواب دینے کے لیے

نسل پرستی یا پریشان شہری: لندن میں امیگریشن کے خلاف احتجاج – سید مجاہد علی

گزشتہ روز لندن میں انتہائی دائیں بازو کے ایک گروہ کی اپیل پر ’قومی اتحاد‘ کے سلوگن کے تحت ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ لوگوں نے مظاہرہ کیا۔ یہ تعداد پولیس کے اندازوں سے کہیں زیادہ تھی۔ ماہرین کے مطابق برطانیہ کی تاریخ میں نسل پرست اور انتہا پسند عناصر اس سے پہلے اتنا بڑا

قطر، عالم اسلام اور اسرائیل – ڈاکٹر احمد سلیم

کچھ ہی عرصہ قبل تک عرب ممالک اور اسرائیل کے مابین نزدیکیاں دیکھنے کو مل رہی تھیں جو بدقسمتی سے نہ توغیر متوقع تھیں اور نہ اچانک ۔ بس اسلامی ممالک کی بد قسمتی ہے یا پھر ان ممالک کی ’’ حکومتوں‘‘ کی ذاتی مجبوریاں کہ انھوں نے اسرائیل اور امریکہ کے اعلان شدہ منصوبوں

نیپال کے حالات سے "انقلابی جذبات” کی تازہ ہوتی یادیں – نصرت جاوید

دو دن قبل میں نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر دیکھی تو بہت کچھ یاد آگیا۔ جو تصویر دیکھی اس میں نیپال کے کسی سکول کے بچے نکروں والا یونیفارم پہن کر حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لے رہے تھے۔ ان کے ہاتھ میں پلے کارڈ تھے جن پر لکھی نیپالی میں پڑھ نہیں سکتا

اسرائیل کا عزم صمیم اور ہنود و یہود گٹھ جوڑ – مصطفی کمال پاشا

عالمی نظام کی کمزوریاں کھل کھلا کر سامنے آ رہی ہیں۔ برطانوی ماہر آدم سمتھ کی ”دولت اقوام کی نوعیت“ پر تحقیقاتی مقالے کے مندرجات پر قائم کیا جانے والاسرمایہ دارانہ نظام اپنی تمام تر کمزوریوں اور ناانصافیوں کے ساتھ دنیا کے سامنے آشکار ہو چکا ہے۔ آدھم سمتھ کو اس نظام کا بابا آدم

برصغیر میں ہندو مسلم اور پاک بھارت دشمنی کا ذمے دار کون؟ شاہنواز فاروقی

پاکستان میں سیکولر اور لبرل دانش وروں کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو برصغیر میں ہندو مسلم دشمنی کا ذمے دار مسلمانوں، اور پاک بھارت دشمنی کا ذمے دار پاکستان کو قرار دیتی ہے۔ اس سلسلے میں سیکولر اور لبرل بہت رعایت کرتے ہیں تو ہندو مسلم دشمنی کا ذمے دار ہندو اور مسلمانوں،

کیا ٹرمپ کی پالیسیز امریکا کی عالمگیریت کے لیے خطرہ ہیں؟ ملیحہ لودھی

شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا کہ جب جغرافیائی سیاسی میدان میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں زیادہ تر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خلل ڈالنے والی پالیسیز کی بدولت ہوئی ہیں جنہوں نے ٹیرف جنگ چھیڑ کر عالمی تجارت کو ہلا کر رکھ دیا ہے جبکہ

ایس سی او کا پیغام: مغرب کے مثبت جواب کا انتظار – ندیم اختر

یہ خیال درست ثابت ہوا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا 25 واں سربراہی اجلاس ایک نئے عالمی نظام کی سمت متعین کرنے میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ اس تاریخی اجلاس میں دنیا کے جن 24 ملکوں نے شرکت کی وہ اپنی جگہ نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں چار ایٹمی ملک، دنیا

جنوبی ایشیا میں چین کی سفارتی سرگرمیاں – ڈاکٹر حسن عسکری رضوی

چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے گزشتہ دنوں پاکستان‘ بھارت اور افغانستان کا دورہ کیا اور دوطرفہ اور علاقائی مسائل پر اہم بات چیت ہوئی۔ بھارت کا دو روزہ دورہ ایک اہم پیش رفت تھی کیونکہ اس دورے کے دوران چین اور بھارت کے درمیان طے پانے والے معاملات کا مقصد ان کے دوطرفہ

چین کا بھارت کی طرف جھکاؤ اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کا کردار – زبیر اسلم بلوچ

دنیا کی سفارت کاری ہمیشہ بدلتی رہتی ہے۔ یہ کبھی کسی کے لیے جامد اور مستقل نہیں رہی۔ طاقت کے مراکز اپنی ترجیحات کے مطابق اپنے رویے بدلتے ہیں، پرانی دشمنیاں نئی دوستیاں جنم دیتی ہیں اور پرانے دوست اکثر وقتی مفاد کی خاطر پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں اس وقت جو کھیل