عالمی منظر نامہ

جین زی اور استبدادی حکمرانی – عمران یعقوب خان

سربیا میں طلبہ کی قیادت میں چلنے والی احتجاجی تحریک نے طویل عرصے سے اقتدار میں موجود رہنما الیگزینڈر ووچک کو انتخابات میں شکست دے دی ہے۔ دو سال سے جاری حکومت مخالف احتجاج کے بعد کامیابی پر ملک بھر میں ہزاروں افراد نے جشن منایا۔ تاہم نئی قیادت کو اب حکومت بنانے، بدعنوانی ختم

اسرائیلی انتخابات میں عرب پارٹیوں کی کامیابی سے کیا فرق پڑے گا؟ سید مجاہد علی

اکتوبر 2023 میں اسرائیل پر حماس کے حملہ کے بعد ہونے والے عام انتخابات میں عرب پارٹیوں کو بڑی کامیابی ملی ہے اور اب وہ کنیسٹ میں 19 نشستوں پر قابض ہوں گی۔ لیکن اس کے باوجود نہ تو ابھی تک یہ واضح ہے کہ ان میں سے ایک یا دونوں پارٹیاں مستقبل کی کسی

ڈولتے ڈگمگاتے ٹرمپ – سیدہ عنبریں

امریکہ میں مڈٹرم انتخابات اب بالشت بھر کے فاصلے پر ہیں، لہٰذا حکومتی اور اپوزیشن سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ برسر اقتدار جماعت کیلئے یہ انتخابات ان کی ناک اور ساکھ کا معاملہ ہیں، جبکہ اپوزیشن والے بھی انہیں اتنی ہی اہمیت دے رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے بہت بڑے ناقد سابق امریکی صدر

ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں – افتخار احمد سندھو

تیسری دنیا کی اصطلاح عالمی صنعتی ممالک کو جوڑنے والے معاشی اور سیاسی تعلقات سے باہر کی قوموں کو بیان کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی، جن میں سے اکثر سابق یورپی کالونیاں تھیں۔ تاہم تیسری دنیا کی اصطلاح اصل میں ان ممالک کے لیے تھی جو سرد جنگ کے دوران نہ تو مغربی

فرانس میں احتجاج: یورپ میں وسیع بے چینی کا اظہار – سید مجاہد علی

فرانس میں تاریخ کے بدترین احتجاجات فساد اور تشدد کی شکل اختیار کرچکے ہیں جس کے بعد صدر میکرون نے بعض فوری اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ان میں مقامی طور سے کرفیو نافذ کرنے کے علاوہ خفیہ معلومات اکٹھی کرنے کے نظام کو بہتر بنانے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ اگرچہ فرانس احتجاج اور

افغانستان میں بدلتی ہوا اور طالبان کے سامنے بڑھتے سوالات – سید کاشف حسین زیدی

افغانستان ایک مرتبہ پھر ایسے دوراہے پر کھڑا دکھائی دے رہا ہے جہاں بندوق، سیاست، معیشت اور عوامی سوچ ایک دوسرے سے جڑتے جا رہے ہیں۔ اگست 2026 میں افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ (AUF) کی جانب سے طالبان کے خلاف باقاعدہ مسلح مہم شروع کرنے کا اعلان اور پھر ایک ماہ کے دوران 14 صوبوں میں

ایران پر زمینی حملے کی تیاری مکمل – غیور ترمذی

امریکہ کے اندرونی سیاسی منظرنامے اور مشرقِ وسطیٰ کے زلزلہ خیز حالات نے دنیا کو ایک خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ واشنگٹن کے سیاسی و عسکری ایوانوں سے چھن کر آنے والی خبروں کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران کے خلاف ایک غیر متوقع زمینی

ثبوت کہاں ہیں؟ محمد اکرم چوہدری

آج کل جنگ صرف سرحد پر نہیں لڑی جاتی ایک جنگ خبر کی بھی ہوتی ہے ایک بیان آیا، چند تصاویر آئیں، الزام لگا اور بس۔۔۔ کہانی تیار۔ افغان طالبان نے کنڑ اور نورستان میں مارے اور گرفتار کیے گئے افراد کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی اور پاکستان پر دراندازی کا الزام لگا

مارشل لاء کا خیال بھی کیوں؟ زاہدہ حنا

دنیا کی تاریخ میں کچھ ممالک صرف اپنی سرحدوں، اپنی فوج ، اپنی دولت یا اپنی ایٹمی طاقت کی وجہ سے اہم نہیں ہوتے۔ ان کی اصل اہمیت ان خیالات میں ہوتی ہے جنھیں انھوں نے انسانی تاریخ کے سامنے پیش کیا ہوتا ہے، امریکا بھی ان ممالک میں سے ایک ہے۔ اس کی تاریخ

ایران امریکہ تنازعہ: نئی جنگ خطرناک اور مہلک ہوگی – سید مجاہد علی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ امریکہ کی فتح کا اعلان کرتے ہوئے دعوے کر رہے ہیں کہ ایران کے ساتھ جلد ہی مذاکرات شروع ہوجائیں گے لیکن دونوں طرف سے دیے جانے والے اشارے خوشگوار نہیں ہیں۔ یوں تو حالت جنگ میں یک طرفہ پروپیگنڈا کی بنیاد پر خبریں پھیلائی جاتی ہیں لیکن اس تنازعہ میں

یورپ بدل رہا ہے! اسد طاہر چیمہ

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کو اپنا صوبہ بنانے اور اس کی مصنوعات پر پچاس فیصد ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیاں دیں تو دراصل امریکہ نے اپنے ہی اتحادی کو یورپ کی طرف دھکیل دیا تھا۔ کیا اب بدلتا ہوا یورپ ایک نئے عالمی نظام کیلئے کوشاں ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے

سعودی قومی دن: قیادت، معاشی تبدیلی اور سفارتی کامیابیاں – شاہد نعیم (جدہ)

سعودی عرب کا قومی دن صرف ایک قومی جشن نہیں بلکہ 1932ء میں مملکت کے اتحاد سے شروع ہونے والے ایک ایسے سفر کی یاد دہانی بھی ہے جس میں ریاست نے اپنی سیاسی، معاشی اور سماجی ترجیحات کو وقت کے تقاضوں کے مطابق مسلسل تبدیل کیا۔ 23 ستمبر 2026ء کو سعودی عرب اپنا 96واں

عرب صحرا پر چھائے دکھ درد کے بادل – ایاز امیر

امریکیوں نے بھی مشرق وسطیٰ میں کیسی صورتِ حال پیدا کی ہے۔ اپنا نقصان تو کیا لیکن اپنے عرب اتحادیوں کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ بڑا اتحادی تو سعودی عرب تھا اور اُس کیساتھ جو ایک قسم کا سمجھوتا 1945ء میں طے پایا تھا وہ صدر فرینکلن روزویلٹ اور سعودی عرب کے شاہ عبدالعزیز کے

یمن کا تنازع – ماجد مقصود

یمن کا بحران صرف ایک ملک کی خانہ جنگی نہیں بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی سیاست، علاقائی طاقتوں کی کشمکش، فرقہ ورانہ اختلافات، عالمی طاقتوں کے مفادات اور اہم سمندری راستوں کی سلامتی سے جڑا ہوا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں یمنی عوام نے جنگ، بھوک، نقل مکانی،

نہ پائے رفتن، نہ جائے ماندن – قادر خان یوسف زئی

سیاست کے سینے میں راز دفن ہوتے ہیں اور طاقت کے ایوانوں میں ایسے فیصلے پکتے ہیں جن کی آنچ سے عالمی منظر نامہ پگھل کر نئی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ آج کل بحیرہ احمر کی لہروں اور یمن کے تپتے صحرائوں پر بھی ایک ایسی ہی بے چینی رقصاں ہے، جہاں جنگ کے

ایشیا، مشرقِ وسطیٰ: طاقت کا نیا توازن – فرحت علی

ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا نیا توازن فوجی قوت کے ساتھ سرمایہ، منڈیوں، ٹیکنالوجی اور علاقائی رابطوں سے تشکیل پائے گا۔ جب نئی دہلی گذشتہ ہفتے برکس سربراہ اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے تو یہ اجتماع خود ابھرتی ہوئی دنیا کی ایک نمایاں تصویر پیش کرتا ہے، جہاں چین، بھارت، روس، ایران،

ایران امریکہ جنگ،پاکستان؟ مصطفی کمال پاشا

پاکستان نے ایران امریکہ جنگ بند کرانے کے حوالے سے ثالثی کرکے عالمی سفارتی محاذ پر جو کامیابی حاصل کی تھی اس سے پاکستان کو جو عزت ملی تھی وہ ایران امریکہ جنگ میں شدت آنے کے بعد کہیں گم ہو گئی ہے ویسے جسے ثالثی کہا گیا وہ ثالثی نہیں بلکہ سہولت کاری تھی

عالمی لوٹ مار کی معیشت – محمد عمران محمود

غریب ممالک کی چوری شدہ دولت دنیا کو کیسے کمزور کر رہی ہے؟ جب مشکلات سے دوچار معاشروں کی دولت کو خوش حال معیشتوں میں تحفظ ملنے لگے تو اس کے نتائج بالآخر ہر سرحد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ دنیا کو اکثر دو سادہ اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے: ترقی یافتہ اور ترقی

ایران امریکہ معاشی جنگ کا مستقبل – ڈاکٹر رشید احمد خاں

امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست حملوں کا سلسلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ یکم ستمبر کو امریکی افواج نے ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں میں ریڈار، فضائی دفاعی نظام، میزائل تنصیبات، آبنائے ہرمز کے قریب عسکری و بحری اہداف، اور دو ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکی حکام

جامعہ کراچی میں”خلیجی بحران، اعلامیۂ مکہ اور اس کے بعد” کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد

(رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے زیرِ اہتمام گزشتہ روز شعبہ ہذ امیں ’’خلیجی بحران، اعلامیۂ مکہ اور اس کے بعد‘‘ کے موضوع پر سیمینار منعقد ہوا، جس میں ممتاز ماہرینِ تعلیم، تزویراتی امور کے ماہرین، صحافیوں، اساتذہ اور طلبہ نے شرکت کی۔ سیمینار میں مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے