تیمرگرہ: الفارابی ہیلتھ ایجوکیشن سسٹم اور شوکت خانم ہسپتال کے بریسٹ کینسر آگاہی سیمینار کا انعقاد

شیئر کریں

تیمرگرہ: الفارابی ہیلتھ ایجوکیشن سسٹم اور شوکت خانم ہسپتال کے اشتراک سے بریسٹ کینسر آگاہی سیمینار کا انعقاد

بروقت تشخیص سے چھاتی کے کینسر کے 90 فیصد مریضوں کی جان بچائی جا سکتی ہے، ماہرینِ صحت کا اظہار خیال

تیمرگرہ: الفارابی ہیلتھ ایجوکیشن سسٹم تیمرگرہ اور شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر کے باہمی اشتراک سے مقامی کیمپس میں ‘بریسٹ کینسر’ (چھاتی کے کینسر) سے آگاہی اور تدارک کے موضوع پر ایک پروقار اور معلوماتی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار کا بنیادی مقصد خواتین میں اس جان لیوا مرض کے حوالے سے شعور بیدار کرنا، برقت تشخیص کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور معاشرتی ہچکچاہٹ کا خاتمہ تھا۔

تقریب سے چیف ایگزیکٹیو الفارابی ہیلتھ ایجوکیشن سسٹم تیمرگرہ ڈاکٹر یوسف خان، تیمرگرہ ٹیچنگ ہسپتال کے سپیشلٹی رجسٹرار ڈاکٹر ساجد زاعلی، شوکت خانم ہسپتال کی میڈیکل آفیسرز ڈاکٹر اقصیٰ (اکسہ) عماد اور ڈاکٹر تزمین ملک، شوکت خانم کی اسسٹنٹ منیجر فنڈ ریزنگ محترمہ خدیجہ امان سمیت دیگر طبی ماہرین نے خصوصی خطاب کیا۔

سیمینار کے دوران ماہرین نے شرکاء کو ہوشربا اعداد و شمار سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پورے ایشیا میں بریسٹ کینسر کی سب سے زیادہ شرح پاکستان میں پائی جاتی ہے۔پاکستان میں ہر سال چھاتی کے کینسر کے تقریباً 90,000 سے 1,00,000 نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔

اس موذی مرض کے باعث پاکستان میں سالانہ قریباً 40,000 خواتین موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔اسی طرح پاکستان میں ہر 9 میں سے 1 خاتون کو اپنی زندگی کے کسی نہ کسی حصے میں اس کینسر میں مبتلا ہونے کا خطرہ لاحق ہے۔

طبی ماہرین نے زور دیا کہ اگر ابتدائی مرحلے (اسٹیج ون یا ٹو) میں اس مرض کی تشخیص ہو جائے تو مکمل صحت یابی کے امکانات 90 فیصد سے زائد ہوتے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر یوسف خان نے کہا کہ الفارابی ہیلتھ ایجوکیشن سسٹم علاقے میں صحت کی معیاری تعلیم کے ساتھ ساتھ عوامی شعور کی بیداری کے لیے بھی اپنا کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور آج کا یہ سیمینار اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

تیمرگرہ ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹر ساجد زاعلی نے مقامی سطح پر کینسر کے مریضوں کو درپیش مسائل اور سرکاری سطح پر دستیاب طبی سہولیات پر روشنی ڈالی۔

شوکت خانم ہسپتال کی ماہر ڈاکٹرز، ڈاکٹر اقصیٰ عماد اور ڈاکٹر تزمین ملک نے پریزنٹیشن کے ذریعے طالبات اور خواتین شرکاء کو مرض کی علامات، وجوہات اور ‘سیلف ایگزامینیشن’ (خود معائنے) کے درست اور آسان طریقے بتائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو اپنی صحت کے معاملے میں کسی قسم کی شرم یا خوف کو آڑے نہیں آنے دینا چاہیے اور کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

اسسٹنٹ منیجر فنڈ ریزنگ خدیجہ امان نے حاضرین کو شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال کی خدمات سے آگاہ کیا جہاں 75 فیصد سے زائد مستحق مریضوں کا مکمل اور مفت علاج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے عوام اپیل کی کہ وہ کینسر کے خلاف اس جنگ میں ہسپتال کا مالی اور اخلاقی طور پر ساتھ دیں۔


شیئر کریں

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے