سعودی عرب کی اپیل پر چین کا ایران سے رابطہ، حوثیوں پر اثر و رسوخ استعمال کرنے کا مطالبہ

شیئر کریں

چین نے سعودی عرب کی اپیل کے بعد ایران سے نجی طور پر رابطہ کرکے کہا ہے کہ وہ یمن کے حوثیوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور آبنائے باب المندب کے اطراف میں پیش قدمی کے بعد سعودی تیل کی تنصیبات پر حملے اور تجارتی جہازوں کی آبنائے باب المندب کے راستے آمد و رفت پر پابندی کا اعلان کیا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تین ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے حوثیوں کی بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب تک پیش قدمی اور حملوں کے بعد مدد کے لیے چین سے رجوع کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق چین نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ یہ تنازع مزید نہ پھیلے۔ چین نے ہی 2023 میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات بحال کروانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

ایرانی ذرائع کے مطابق بدھ کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے دورہ چین کے موقع پر یا اس سے قبل ملنے والی چینی پیغام کے جواب میں تہران نے واضح کیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کا انحصار ایران پر مسلط کی گئی ’امریکی و اسرائیلی جنگ‘ کے خاتمے پر منحصر ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ بیجنگ عوامی سطح پر تحمل، مذاکرات اور محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی پر زور دے رہا ہے تاہم نجی سطح پر پہنچائے گئے پیغام میں بیجنگ کا مؤقف بالکل واضح اور دوٹوک تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی حکام نے اس دوران کوئی کھلی دھمکی نہیں دی اور نہ ہی اس بات کا اشارہ دیا کہ اگر ایران نے حوثیوں پر اثر و رسوخ استعمال نہ کیا تو اسے اقتصادی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ’بیجنگ اس تنازع کا یمن اور بحیرہ احمر تک پھیلاؤ نہیں چاہتا، تمام ممالک کی خودمختاری کا احترام کیا جانا چاہیے اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔‘

رپورٹ کے مطابق ایک سینئر مغربی سفارت کار کا ماننا ہے کہ بیجنگ ان چند دارالحکومتوں میں شامل ہے جو حوثیوں کو روکنے کے لیے اب بھی تہران پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

واضح رہے کہ چین ایک دہائی سے زائد عرصے سے ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور اس کے تیل کا اہم خریدار ہے۔ 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، چین نے ایران کا 80 فیصد سے زائد سمندری تیل خریدا، جس کا حجم تقریباً 14 لاکھ بیرل یومیہ بنتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق کوئی بھی خطرہ عالمی توانائی کے بحران کو مزید سنگین کر سکتا ہے۔ ان دونوں گزرگاہوں میں تعطل کا مطلب مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی برآمد کے دو اہم ترین راستوں کا بیک وقت متاثر ہونا ہے، جس سے توانائی کے بحران اور ایران امریکا تصادم میں ایک نیا محاذ کھل جائے گا۔

واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین کے مطابق، چین کے مفادات صرف ایران تک محدود نہیں ہیں۔ چین کی تیل کی نصف درآمدات خلیج سے آتی ہیں اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک کے ساتھ چین کی سالانہ تجارت کا حجم تقریباً 300 بلین ڈالر ہے۔

ایران اس وقت جنگ اور پابندیوں سے متاثر ہے اور اسے اپنی معیشت اور تیل کی صنعت کو سنبھالنے کے لیے چینی سرمایہ کاری کی سخت ضرورت ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران اور بیجنگ دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے، تاہم اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا تنازعے کو روکنے کے لیے چین اپنے مطالبات منوانے کی خاطر تہران پر کوئی ٹھوس دباؤ ڈالنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے