دو اہم واقعات نے ملک کے سیاسی اور ادارہ جاتی ماحول کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا: ایک واقع سابق وزیرِاعظم کی طرف سے موجودہ آرمی چیف کے بارے میں تحقیر آمیز زبان کے استعمال سے متعلق تھا جبکہ دوسرا واقعہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے اس تحقیر آمیز بیان کے خلاف سخت ردِعمل کا اظہار تھا جس میں انہوں نے ”بے رحمانہ“ طریقہ سے جواب دینے کی تیاری کا اشارہ بھی دیا۔ ایک ایسا ملک جو پہلے ہی معاشی دباؤ، بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم اور سرحدی سلامتی کے خطرات سے دوچار ہے، وہاں اعلیٰ ترین سطح پر یہ تند و تیز بیانیہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ قومی سطح پر ضبط اور توازن رکھنے کا رویہ اس وقت کمزور پڑ رہا ہے، جبکہ ملک کو ایک متحد حکمتِ عملی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یہ لفظی تصادم نہ صرف اندرونی بے چینی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ایک غیر مستحکم تصویر پیش کرتا ہے۔
پی ٹی آئی چیئرمین کا ردِعمل اس بات پر تو مرکوز رہا کہ پریس بریفنگ ”نامناسب اور افسوسناک“ تھی، مگر انہوں نے اس بنیادی مسئلے کا کوئی جواب نہیں دیا کہ عمران خان نے آرمی چیف کے لیے غیر مہذب زبان استعمال کیوں کی۔ وہ معاشرے جہاں سیاسی رہنما ایک دوسرے کی بے حرمتی کو معمول بنا دیں اور ریاستی ادارے بھی اسی لہجے میں جواب دینے لگیں وہاں ٹکراؤ کی ایسی ثقافت جنم لیتی ہے جس میں ادارے مسلسل سیاسی محاذ آرائی کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔ قومی احترام کا کوئی بھی نظام اسی وقت موثر ہو سکتا ہے جب ادارے اپنی گفتگو میں وقار قائم رکھیں اور سیاسی رہنما ذاتی حملوں سے گریز کریں، خصوصاً اُن شخصیات کے خلاف جو آئینی ذمہ داریاں یا قومی سلامتی کی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہوں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنی پریس بریفنگ میں عمران خان کی عسکری قیادت پر تنقید کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے ایک ایسے ”ذہنی مریض“ کا ذکر کیا جسے بیرونی عناصر، خصوصاً بھارت، استعمال کر رہے ہیں۔ اور اس اینٹی اسٹیبلشمنٹ مہم کو پاکستان کی وحدت کے خلاف جاری ایک وسیع تر اطلاعاتی جنگ کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ سیاسی رہنما بار بار ایک سزا یافتہ شخص سے ملاقات کر کے ریاستی اداروں کے خلاف سیاسی بیانیہ کیوں تشکیل دیتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے چند ایسے اقدامات کو ملکی استحکام کے لیے نقصان دہ قرار دیا جیسے بیرون ملک سے ترسیلات روکنے کی اپیل، آئی ایم ایف کو خطوط لکھنا، اور سول نافرمانی کی کال دینا۔
اس پریس بریفنگ کا ایک پہلو خاص طور پر بے حد اہم تھا جو عمران خان اور اُن کی جماعت کو ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنے سے متعلق تھا۔ یہ سیاسی طور پرایک متنازع دعویٰ ہے، مگر یہ ایک اور اہم مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو سیاسی اظہار اور قومی سلامتی کے درمیان توازن کی ضرورت کی جانب توجہ دلاتا ہے۔ تاریخ ہمیں خبردار کرتی ہے کہ غلط فیصلوں کے کتنے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔ 2005 میں لیفٹیننٹ جنرل صفدر حسین نے بیت اللہ محسود کے ساتھ حالات بہتر کرنے کے لیے ملاقات کے بعد انہیں ”امن کا سپاہی“ کہا تھا۔ ابتدا میں اس عمل کو دہشتگردوں کے ساتھ اعتماد سازی کے طور پر سراہا گیا، مگر بعد میں محسود پاکستان کے خطرناک ترین دشمنوں میں شمار ہوا۔ یہی نہیں حافظ گل بہادر بھی کبھی اچھے اور پاکستان کے حامی طالبان کے طور پر جانا پہچانا جاتا تھا لیکن اب وہ آئے دن دہشتگردی کے واقعات کی ذمہ داری قبول کرتا رہتا ہے۔ یہ واقعات اس بات کی مثال ہیں کہ عسکریت پسندوں سے نمٹنے میں غلط فیصلے کتنی بھاری قیمت بن سکتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی گفتگو سابق فوجی رہنماؤں کے بیانات کے ساتھ بھی جڑی ہوئی ہے، جن میں پاکستان کے سابقہ فوجی افسران کی سوسائٹی ہے۔ آج کل یہ سوسائٹی فوج کے خلاف پروپیگنڈا پر تشویش کا اظہار کرتی دکھائی دیتی ہے، لیکن یہی رہنما کچھ عرصہ قبل عمران خان کی کھل کر اخلاقی حمایت کیا کرتے تھے۔ جو پاکستان کی سول ملٹری تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ ان کے موجودہ بیانات اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ سیاسی جذبات اکثر ہمارے فیصلوں پر چھا جاتے ہیں، اتحاد بدل جاتے ہیں، اور بیانیے بہت جلد حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔
یہ تاریخی حوالے محض کوئی طنز نہیں ہے بلکہ ایک خطرناک تسلسل کی وضاحت کرتے ہیں۔ بارہا ہم نے دیکھا ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو ”قومی سلامتی کے لیے خطرہ“ قرار دینے کا الزام کس طرح استعمال ہوتا رہا ہے۔ اگرچہ محرکات بدلتے رہتے ہیں، مگر طرزِ عمل نہیں بدلتا۔ اس لیے آج لگائے گئے الزامات کو اس وسیع تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ یہ کوئی غیر معمولی قومی سلامتی کا تجزیہ نہیں بلکہ ایک معروف سیاسی بیانیے کا تازہ ترین استعمال ہے۔ ایسا بیانیہ قومی سلامتی کو مضبوط نہیں کرتا بلکہ کمزور کرتا ہے، کیونکہ یہ عوامی اعتماد کو کھوکھلا کرتا ہے اور ہر سیاسی اختلاف کو محض سیاسی چال بنا کر رکھ دیتا ہے جو دیرپا سیاسی امن کے لئے کوئی اچھا شگون نہیں ہوتا۔
بے احترامی کا رویہ نفرت کو جنم دیتا ہے، اور نفرت عداوت اور تشدد کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ اس کا واضح ثبوت پیش کرتی ہے۔ افغان جہاد کے دوران امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ کی مالی و نظریاتی حمایت نے ایسے جنگجو نیٹ ورکس کو جنم دیا جنہیں سوویت یونین سے نفرت کی بنیاد پر اس کے اثر کو روکنے اور مذہبی شناخت کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا۔ اُس دور کا سیاق و سباق اپنی جگہ، لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تشدد اور نفرت کو سیاسی و مذہبی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا معمول بن گیا۔ آج بھی فرقہ ورانہ اور عسکریت پسند تشدد ہر سال سینکڑوں جانیں نگل رہا ہے۔ 2021 سے ستمبر 2025 تک پاکستان بھر میں 700 سے زائد افراد مختلف فرقہ ورانہ حملوں میں قتل ہوئے، جن میں سنی، شیعہ، احمدی، مسیحی، ہندو، سکھ، ذکری اور دیگر شامل ہیں۔
ملک کا سیاسی منظرنامہ مزید پیچیدہ اس وقت ہوا جب عمران خان اور ان کی جماعت اقتدار میں رہتے ہوئے مسلسل مخالفین کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرتے رہے۔ انہیں چور، لٹیرا اور ڈاکو کہا گیا۔ یہ رویہ آہستہ آہستہ ریاستی اداروں تک پھیل گیا اور انجام کار عمران خان کی طرف سے آرمی چیف کو ”وہم کا شکار اور ذہنی مریض“ قرار دینے تک جا پہنچا۔ جس کے نتیجے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا سخت ”بے رحمانہ“ ردِعمل سامنے آیا۔ اگرچہ ان واقعات کا ملک میں پھیلی ہوئی دہشتگردی سے بظاہر کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا لیکن تاریخ یہ بتاتی ہے کہ نفرت اور بے احترامی کے یہ سلسلے شدت پسندانہ بیانیے، فرقہ ورانہ تشدد اور مجموعی عدم استحکام کو جنم دیتے ہیں۔
نتیجہ واضح ہے : کوئی بھی فرد، خواہ وہ اعلیٰ منصب پر فائز ہو یا عام شخص ہو کسی کو بھی توہین کا نشانہ نہیں بننا چاہیے، اور جو عناصر مذہبی، لسانی یا صوبائی بنیادوں پر نفرت پھیلاتے ہیں انہیں قانون کے دائرے میں لانا چاہیے۔ سیاسی قیادت، ادارے اور عوام سب کو احترام، تحمل، اور قانونی طرزِعمل کی ایسی ثقافت کو فروغ دینا ہو گا جو نفرت اور دشمنی کے معمول سے روک سکے۔ پاکستان کے موجودہ حالات سیاسی تقسیم اور خطے کی غیر یقینی صورتحال اس امر کے متقاضی ہیں کہ ریاستی اور سیاسی کردار اس احترام اور ذمہ داری کے کلچر کو بحال کریں، کیونکہ اسی میں ملک کا استحکام، سلامتی اور انسانی جانوں کا تحفظ پوشیدہ ہے۔


