اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے – پیرزادہ قاسم

شیئر کریں

اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے
یعنی اب جرم اسیری کی سزا دی جائے

دست نادیدہ کی تحقیق ضروری ہے مگر
پہلے جو آگ لگی ہے وہ بجھا دی جائے

اس کی خواہش ہے کہ اب لوگ نہ روئیں نہ ہنسیں
بے حسی وقت کی آواز بنا دی جائے

صرف سورج کا نکلنا ہے اگر صبح تو پھر
ایک شب اور مری شب سے ملا دی جائے

اور اک تازہ ستم اس نے کیا ہے ایجاد
اس کو اس بار ذرا کھل کے دعا دی جائے

 


شیئر کریں

1 خیال ”اک سزا اور اسیروں کو سنا دی جائے – پیرزادہ قاسم“ پر

آپ کا تبصرہ

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے