پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں پیر کے روز کاروبار کے دوران اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، تاہم کاروباری سیشن کے آخری حصے میں بھرپور خریداری کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 650 سے زائد پوائنٹس اضافے کے ساتھ بند ہوا۔
بینچ مارک انڈیکس ابتدا میں فروخت کے دباؤ میں آ گیا اور دورانِ کاروبار 161,250.06 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔ تاہم، بعد ازاں اس نے بحالی کی جانب پیش قدمی کی اور دوبارہ 162,000 پوائنٹس کی سطح کے قریب پہنچ گیا، جس کے بعد دوپہر کے سیشن میں اس کی رفتار مزید تیز ہوگئی۔ انڈیکس 163,000 پوائنٹس کی حد عبور کرتے ہوئے دورانِ کاروبار 163,477.08 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچا، تاہم بعد میں اس میں معمولی کمی آئی۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 663.59 پوائنٹس یا 0.41 فیصد اضافے کے ساتھ 163,038.46 پوائنٹس پر بند ہوا۔
ایک اہم پیش رفت میں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے افراطِ زر کے دباؤ اور عالمی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد شرح سود 12 فیصد ہوگئی۔
گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل گراوٹ کا سلسلہ پانچویں ہفتے بھی جاری رہا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار بنیادوں پر 4,044.84 پوائنٹس یا 2.4 فیصد کمی کے بعد 162,374.84 پوائنٹس پر بند ہوا۔ برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں تیزی، پاکستان کے تجارتی خسارے میں اضافے اور مسلسل جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے ملکی معیشت کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کو مزید بڑھا دیا۔
عالمی منڈیوں میں پیر کے روز محتاط انداز میں کاروبار ہوا، جبکہ تیل کی قیمتیں چھ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب سے نیچے آگئیں۔ رواں ہفتے مرکزی بینکوں کے پالیسی اجلاسوں اور کمپنیوں کے مالیاتی نتائج کے اعلانات کی بھرمار ہے، جو مصنوعی ذہانت کی صنعت میں تیزی کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مزید امتحان لیں گے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 1.6 فیصد کمی کے بعد 114.88 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔ یہ پیش رفت ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی کہ قطری ثالث علاقائی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں اتوار کے روز تہران میں موجود تھے اور اس عمل میں امریکا کے ساتھ رابطہ کاری کی جا رہی تھی۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت گزشتہ ہفتے 6.2 فیصد بڑھ گئی تھی، جو 2022 کے وسط کے بعد ہفتہ وار اختتامی سطح کی بلند ترین قیمت تھی۔ سعودی عرب میں حوثی حملوں کے باعث توانائی کی رسد متاثر ہونے کے خدشات بڑھ گئے تھے۔ دوسری جانب امریکی خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 1.9 فیصد کمی کے بعد 101.29 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
جاپان کے نکیئی انڈیکس میں 0.5 فیصد کمی ہوئی، جبکہ گزشتہ ہفتے اس میں 4 فیصد گراوٹ آئی تھی۔ جنوبی کوریا کا مرکزی اسٹاک انڈیکس 1.1 فیصد نیچے آگیا، جو رواں ماہ اب تک تقریباً 20 فیصد گر چکا ہے۔ جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کی نمائندگی کرنے والے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 0.1 فیصد کمی ہوئی۔
چین کی بڑی کمپنیوں کے حصص پر مشتمل بلیو چِپ انڈیکس 1 فیصد گر گیا، جبکہ حکمراں کمیونسٹ پارٹی نے بیجنگ میں اپنا پانچواں مکمل اجلاس شروع کیا۔ مقامی طلب کے حوالے سے خدشات کے باعث چینی مارکیٹ میں مسلسل 11 ہفتوں سے گراوٹ جاری ہے، حالانکہ برآمدات اب بھی مضبوط ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث افراطِ زر کا دباؤ اس ہفتے اجلاس منعقد کرنے والے تمام مرکزی بینکوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔ امکان ہے کہ شرح سود میں اضافہ محض وقت کی بات رہ جائے، اگرچہ بعض مرکزی بینک فی الحال شرح سود برقرار رکھ سکتے ہیں۔
دریں اثنا انٹربینک مارکیٹ میں پیر کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں ، پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری کا سلسلہ برقرار رہا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ایک پیسے کے اضافے سے 276.81 روپے پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے اختتام پر ریکارڈ کیے گئے 398.94 ملین حصص کے مقابلے میں کم ہوکر 376.02 ملین حصص رہ گیا۔
حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 18.20 ارب روپے سے کم ہوکر 16.19 ارب روپے رہ گئی۔
ایل ایس ای فنانشل (آر) 25.46 ملین حصص کی خرید و فروخت کے ساتھ کاروباری حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہی۔ پرویز احمد کمپنی کے 20.49 ملین اور پاک ریفائنری کے 18.84 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔
پیر کے روز مجموعی طور پر 495 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 196 کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 251 میں کمی، جبکہ 48 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔




