اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پیر کے روز پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دیا ہے، جو مارکیٹ کی توقعات کے عین مطابق ہے۔
یہ فیصلہ مالی سال 2026-27 کے تیسرے اجلاس میں کیا گیا۔ مہنگائی کے دباؤ اور عالمی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے تناظر میں یہ جون 2026 کے بعد اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرحِ سود میں پہلا اضافہ ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع سمیت جغرافیائی سیاسی بحران اور مشرقِ وسطیٰ کی دیگر پیش رفت کے باعث مہنگائی کا منظرنامہ نمایاں طور پر خراب ہوا ہے۔
مرکزی بینک کے سربراہ نے پالیسی ریٹ میں اضافے کی اہم وجوہات میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو شامل کیا۔ انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہنے کے باعث مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
جمیل احمد نے مزید کہا کہ ملکی منڈی میں ہونے والی پیش رفت، خصوصاً گزشتہ دو سے تین ماہ کے دوران گندم کی قیمتوں میں اضافہ اور اس کے مہنگائی پر اثرات بھی شرحِ سود بڑھانے کی وجوہات میں شامل ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ 10 میں سے 9 ارکان نے پالیسی ریٹ میں اضافے کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ ایک رکن نے اختلافی موقف اختیار کرتے ہوئے شرحِ سود میں اس سے زیادہ اضافے کی حمایت کی۔
ترسیلاتِ زر کے منظرنامے میں بہتری
جمیل احمد نے کہا کہ آئندہ ترسیلاتِ زر میں مزید بہتری کی توقع ہے، کیونکہ مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلاتِ زر 10.9 ارب ڈالر رہیں، جو تقریباً 11 ارب ڈالر بنتی ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’اس مضبوط کارکردگی کے باعث اسٹیٹ بینک نے ترسیلاتِ زر کا سالانہ تخمینہ 44 ارب ڈالر سے بڑھا کر 45 ارب ڈالر کر دیا ہے۔‘‘
زری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کی شدت میں اضافے اور مستقبل قریب میں اس کے حل کے امکانات محدود ہونے کے باعث عالمی توانائی کی قیمتیں مسلسل بلند سطح پر برقرار ہیں۔
اعلامیے کے مطابق، ’’فعال زری پالیسی اقدامات اور مالیاتی نظم و ضبط کے تسلسل کے باعث اب تک عالمی بحران کے ملکی معیشت پر اثرات محدود رہے ہیں، تاہم جغرافیائی سیاسی صورتِ حال میں بگاڑ نے مہنگائی کے منظرنامے کو سابقہ جائزے کے مقابلے میں زیادہ خراب کر دیا ہے۔‘‘
کمیٹی نے کہا کہ بیرونی کھاتے اور معاشی نمو کے منظرنامے میں مجموعی طور پر کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئی، تاہم خطرات بڑھ گئے ہیں۔
’’ان پیش رفتوں اور بدلتے ہوئے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمیٹی نے آج کا فیصلہ مہنگائی کی توقعات کو قابو میں رکھنے، رسد کے جاری بحران کے ثانوی اثرات محدود کرنے اور مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کی ہدفی حدود میں لانے کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔
’’اس سے معاشی استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی، جو پائیدار معاشی نمو کے لیے ضروری ہے۔‘‘
گزشتہ اجلاس کے بعد اہم پیش رفت
زری پالیسی کمیٹی نے گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی اہم پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ:
زرمبادلہ کی مسلسل خریداری کے باعث اسٹیٹ بینک کے ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر کی سطح پر مستحکم رہے، جو تین ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔
آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا۔
تازہ ترین سروے کے مطابق صارفین کی مہنگائی سے متعلق توقعات بڑھیں، جبکہ کاروباری اداروں کی توقعات میں کمی آئی۔ اس دوران دونوں گروہوں کے اعتماد کے اشاریے بھی کمزور ہوئے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) نے مالی سال 2025-26 کے لیے حقیقی جی ڈی پی نمو کا نظرثانی شدہ تخمینہ 3.7 فیصد مقرر کیا، جو ابتدائی تخمینے کے تقریباً برابر ہے۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے مالی سال 2026-27 کی پہلی سہ ماہی میں محصولات کی وصولی کا ہدف عبور کیا۔
مہنگائی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث بڑے مرکزی بینکوں نے شرحِ سود میں اضافہ کیا، جبکہ آئی ایم ایف نے بھی عالمی مہنگائی کے تخمینے بڑھا دیے۔
کمیٹی نے معیشت کو بیرونی جھٹکوں کے مقابلے میں مزید مضبوط بنانے کے لیے زرمبادلہ اور مالیاتی تحفظات بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ اس نے اس موقف کا اعادہ بھی کیا کہ محتاط زری اور مالیاتی پالیسی کے امتزاج کو جاری رکھنا اور ساختی اصلاحات پر بروقت عمل درآمد کرنا بلند اور پائیدار معاشی نمو کے حصول کے لیے ضروری ہے۔
جی ڈی پی نمو سابقہ حدود میں رہنے کی توقع
زری پالیسی کمیٹی کے مطابق مالی سال 2026-27 کے دوران حقیقی جی ڈی پی نمو سابقہ تخمینے کی حدود، یعنی 3.5 سے 4.5 فیصد، کے اندر رہنے کی توقع ہے۔
تاہم کمیٹی نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع مزید شدت اختیار کرنے اور ایل نینو کی صورتِ حال بگڑنے کے باعث ناموافق موسمی حالات سے اس منظرنامے کو خطرات لاحق ہیں۔
کمیٹی کو توقع ہے کہ مالی سال 2026-27 میں جاری کھاتے کا خسارہ جی ڈی پی کے صفر سے ایک فیصد کی سابقہ تخمینہ شدہ حدود میں رہے گا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اس کے ساتھ مالیاتی آمدنی میں اضافے سے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر موجودہ سطح سے بڑھنے کی توقع ہے۔ تاہم عالمی اجناس کی بلند قیمتوں، بین الاقوامی مالیاتی حالات سخت ہونے اور رسد میں رکاوٹوں سمیت متعدد خطرات بدستور موجود ہیں۔
مہنگائی کا منظرنامہ
زری پالیسی کمیٹی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع دوبارہ شدت اختیار کرنے اور ملک میں گندم کی رسد میں رکاوٹیں مہنگائی کو بلند رکھنے والے دو اہم عوامل ہیں۔ آئندہ چند ماہ کے دوران ان مسائل کے برقرار رہنے کی توقع نے مہنگائی کے منظرنامے کو مزید خراب کر دیا ہے۔
کمیٹی کے مطابق توانائی اور گندم سمیت متعلقہ مصنوعات کی بلند قیمتوں نے ستمبر میں سالانہ بنیاد پر عمومی مہنگائی کو 10.3 فیصد تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا، جو کمیٹی کی توقعات سے زیادہ تھی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ خوراک اور توانائی کی بلند مہنگائی سے مہنگائی کی توقعات مزید بڑھنے اور مستقبل میں اس کے بنیادی مہنگائی میں سرایت کرنے کا خطرہ ہے۔
کمیٹی نے کہا کہ آج کا فیصلہ مستقبل کے تناظر میں حقیقی پالیسی ریٹ کو مناسب حد تک مثبت رکھنے کے لیے اہم ہے، تاکہ درمیانی مدت میں مہنگائی کو ہدفی حدود میں لایا جا سکے۔
تاہم مہنگائی کے منظرنامے کو جغرافیائی سیاسی کشیدگی، عالمی اجناس کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، توانائی کے نرخوں میں غیر متوقع ردوبدل، گندم اور متعلقہ مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے اور ناموافق موسمی حالات سمیت متعدد خطرات لاحق ہیں۔
گزشتہ زری پالیسی اجلاس
اس سے قبل 14 ستمبر کو ہونے والے اجلاس میں اسٹیٹ بینک کی زری پالیسی کمیٹی نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں طویل عرصے سے جاری تنازع کی شدت میں حالیہ اضافے سے پہلے ہی بلند عالمی اجناس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا، جبکہ رسدی زنجیروں میں رکاوٹیں برقرار رہیں۔
تاہم ملکی معیشت سے متعلق تازہ اعدادوشمار مجموعی طور پر کمیٹی کی توقعات کے مطابق رہے۔ عمومی مہنگائی جولائی کے 9.2 فیصد سے بڑھ کر اگست میں سالانہ بنیاد پر 11.1 فیصد ہوگئی، جبکہ بنیادی مہنگائی توقعات سے قدرے کم رہی۔
متعدد تجزیہ کاروں نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرحِ سود بڑھائے جانے کی توقع ظاہر کی تھی۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا تھا کہ عالمی جغرافیائی سیاسی صورتِ حال اور عالمی توانائی کی رسد پر اس کے اثرات سے متعلق مسلسل غیر یقینی کے باعث اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس اضافہ کرکے 12 فیصد کر سکتا ہے، تاکہ مہنگائی اور بیرونی کھاتے پر طویل مدتی دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مارکیٹ شرکا کے سروے میں 61 فیصد جواب دہندگان نے شرحِ سود میں اضافے کی توقع ظاہر کی تھی۔ ان میں سے 54 فیصد نے 50 بیسس پوائنٹس، جبکہ 7 فیصد نے 100 بیسس پوائنٹس اضافے کا امکان ظاہر کیا۔ اس کے برعکس 39 فیصد شرکا نے پالیسی ریٹ برقرار رہنے کی توقع کی تھی۔
فاؤنڈیشن سیکیورٹیز نے بھی مرکزی بینک کی جانب سے 50 بیسس پوائنٹس اضافے کی پیش گوئی کی تھی۔
ادارے نے کہا تھا، ’’ہمیں توقع ہے کہ زری پالیسی کمیٹی پیر، 26 اکتوبر 2026 کو ہونے والے اجلاس میں پالیسی ریٹ 50 بیسس پوائنٹس بڑھا کر 12 فیصد کر دے گی۔‘‘
اس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، ہدف سے بلند مہنگائی کا برقرار رہنا، مہنگائی کی توقعات میں اضافہ، حقیقی شرحِ سود کا کم ہونا اور معاشی نمو میں تیزی ایک محتاط اور پیشگی اضافے کا جواز فراہم کرتے ہیں۔
فاؤنڈیشن سیکیورٹیز کے مطابق 50 بیسس پوائنٹس اضافے سے اکتوبر 2026 کی مہنگائی کے تخمینے کی بنیاد پر حقیقی شرحِ سود تقریباً 2.5 فیصد ہوجائے گی، جو ستمبر 2026 میں تقریباً 1.2 فیصد تھی۔
دوسری جانب پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اسٹیٹ بینک پر زور دیا تھا کہ وہ پالیسی ریٹ برقرار رکھے۔
پائیڈ نے کہا تھا کہ اگرچہ خطرات کا توازن شرحِ سود بڑھانے کے حق میں منتقل ہوا ہے، تاہم موجودہ معاشی حالات فوری اضافے کے لیے ابھی کوئی مضبوط جواز فراہم نہیں کرتے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کا منظرنامہ اب بھی مشکل، مگر ملے جلے اشارے دے رہا ہے۔ ستمبر میں عمومی مہنگائی کم ہوکر 10.26 فیصد رہی، جبکہ خوراک اور توانائی کے علاوہ دیگر اشیا و خدمات کی مہنگائی میں بھی کمی آئی۔
تاہم ادارے نے کہا کہ تراشیدہ اوسط مہنگائی کی بلند سطح، ہفتہ وار قیمتوں کا دباؤ اور گھرانوں میں مہنگائی سے متعلق بڑھتے ہوئے خدشات مسلسل نگرانی کے متقاضی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ دستیاب شواہد سے ابھی تک طلب میں عمومی حد سے زیادہ تیزی یا مہنگائی کے ثانوی اثرات کے وسیع پیمانے پر پھیلنے کی تصدیق نہیں ہوتی۔
پائیڈ نے کہا کہ اس کا جائزہ پیشگی سختی کے بجائے مشروط طور پر شرحِ سود برقرار رکھنے کے حق میں ہے۔




