موسمِ سرما میں دل کے امراض اور ہارٹ اٹیک کے خطرات بڑھنے کا خدشہ، ماہرِ امراضِ قلب کا انتباہ
سردی میں خون کی شریانیں سکڑنے سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے، بزرگوں، شوگر اور دل کے مریضوں کو خصوصی احتیاط کی ہدایت

تیمرگرہ (اسماعیل انجم سے) موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ دل کے امراض اور ہارٹ اٹیک کے خطرات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ تیمرگرہ کے معروف ماہرِ امراضِ قلب ڈاکٹر فوزاللہ فاروق نے شہریوں، خصوصاً بزرگوں، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور دل کے مریضوں کو سرد موسم میں خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
اپنے ایک خصوصی بیان میں ڈاکٹر فوزاللہ فاروق نے کہا کہ سرد موسم میں خون کی شریانیں سکڑنے سے بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے اور دل کو جسم میں خون کی گردش برقرار رکھنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ سردی کے دوران خون میں لوتھڑے بننے کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں، جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بالخصوص بزرگوں، شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں سمیت دل کے امراض کی خاندانی تاریخ رکھنے والے افراد کو زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ سردی سے بچنے کے لیے گرم کپڑوں کا استعمال کریں، شدید سردی اور دھند میں علی الصبح واک سے گریز کریں اور موسم بہتر ہونے پر ہلکی پھلکی جسمانی سرگرمی اختیار کریں۔ بلڈ پریشر کی باقاعدگی سے نگرانی، نمک اور چکنائی کا کم استعمال، متوازن غذا اور مناسب مقدار میں پانی پینا بھی ضروری ہے۔ دل کے مریض ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اپنی ادویات میں ردوبدل نہ کریں۔
ڈاکٹر فوزاللہ فاروق نے خبردار کیا کہ سینے میں درد یا بھاری پن، سانس لینے میں دشواری، غیر معمولی پسینہ یا بازو اور جبڑے میں درد ہارٹ اٹیک کی علامات ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورت میں علامات کو گیس یا معمولی تکلیف سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے فوری طور پر اسپتال کی ایمرجنسی سے رجوع کیا جائے، کیونکہ بروقت طبی امداد قیمتی جان بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔




