پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے زیرِ زمین جوہری تجربات کے بعد ماؤنٹ مانتاپ کے قریبی علاقوں میں زلزلہ جاتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق ایک حالیہ سائنسی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سن 2008 سے 2025 کے دوران اس علاقے میں 1399 چھوٹے بڑے زلزلے آ چکے ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ پونگے ری جوہری تجربہ گاہ کے نزدیک زلزلوں کی یہ لہر خاص طور پر 2017 کے آخری اور طاقتور ترین جوہری دھماکے کے بعد شدت اختیار کر گئی۔ اس سے قبل یہ پہاڑی علاقہ طویل عرصے تک زلزلہ جاتی سرگرمیوں کے حوالے سے انتہائی پرسکون اور مستحکم تصور کیا جاتا تھا۔
رپورٹ کی تیاری کے لیے چین اور جنوبی کوریا کے زلزلہ پیما اسٹیشنوں سے حاصل کردہ ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ ماہرین کے مطابق ستمبر 2017 میں ہونے والے 6.3 شدت کے دھماکے نے پہاڑ کی اندرونی ساخت کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے ماؤنٹ مانتاپ کی چوٹی کی شکل میں 3 میٹر تک تبدیلی آئی۔
ماہرین نے بتایا کہ جوہری دھماکوں نے زیرِ زمین موجود چٹانوں پر دباؤ کی تقسیم کو بدل کر رکھ دیا ہے، جس کی وجہ سے پہلے سے موجود کمزور فالٹ لائنز دوبارہ متحرک ہو رہی ہیں۔ دھماکوں سے بننے والی دراڑوں میں پانی کے داخلے سے چٹانوں کے درمیان دباؤ بڑھا، جس نے چھوٹے زلزلوں کو جنم دیا۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ عام طور پر جوہری تجربات کے بعد پیدا ہونے والی زلزلہ جاتی سرگرمی کچھ عرصہ بعد ختم ہو جاتی ہے، مگر ماؤنٹ مانتاپ میں یہ سلسلہ دھماکوں کے کئی برس بعد تک جاری رہا۔ یہ صورتحال ماہرین کے لیے اس لیے بھی تشویشناک ہے کہ بعد میں آنے والے زلزلوں کو قدرتی زلزلوں سے الگ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ تحقیق اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ زیرِ زمین کیے جانے والے جوہری دھماکوں کے اثرات صرف دھماکے کے وقت تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ کئی برسوں تک زمین کی اندرونی ساخت اور فالٹ لائنز کے لیے سنگین خطرات کا باعث بنتے ہیں۔
اس دریافت نے جوہری نگرانی کے عالمی نظام پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔




