سی سی پی نے کارٹلائزیشن پر خوردنی تیل ٹینکر مالکان کی تنظیم کو 6 کروڑ روپے جرمانہ کردیا

شیئر کریں

مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی) نے آل پاکستان ایڈیبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن (اے پی ای او ٹی او اے) پر نقل وحمل کے نرخ مقرر کرنے اور ٹینکر مالکان کے درمیان کاروبار محدود قطار کے نظام کے ذریعے تقسیم کرنے پر 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا۔

کمیشن کے مطابق مذکورہ طریقہ کار کمپیٹیشن ایکٹ 2010 کی دفعہ 4 کی خلاف ورزی ہے، جس پر قیمتوں کے تعین اور مارکیٹ کی تقسیم کے لیے الگ الگ 3 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے۔

یہ معاملہ سی سی پی کی مارکیٹ نگرانی کے دوران سامنے آیا، جس میں کراچی کی بندرگاہوں سے ملک بھر میں مختلف مقامات تک خوردنی تیل، گھی اور بناسپتی چربی کی ترسیل کے نرخ مقرر کرنے والے سرکلرز کا پتا چلا۔ کمیشن نے اگست 2024 میں ازخود انکوائری شروع کی اور فروری 2025 میں تلاشی اور معائنہ کیا۔

سی سی پی کے مطابق تلاشی کے دوران ملنے والے شواہد سے ظاہر ہوا کہ اے پی ای او ٹی او اے نے 2019 سے 2025 کے دوران نقل وحمل کے نرخوں میں 89 مرتبہ ردوبدل کیا، جن میں 52 مرتبہ اضافہ اور 37 مرتبہ کمی کی گئی۔ نرخوں میں ہونے والی یکساں تبدیلیوں سے متعلق سرکلرز پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پی وی ایم اے) کی جانب سے جاری کیے گئے۔

کمیشن نے کہا کہ اے پی ای او ٹی او اے کے نمائندوں نے بھی تسلیم کیا کہ نقل وحمل کے نرخ دونوں انجمنوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت مقرر کیے جاتے تھے۔

سی سی پی نے اے پی ای او ٹی او اے کا یہ مؤقف مسترد کردیا کہ اس کے نرخوں سے متعلق سرکلرز محض مشاورتی نوعیت کے تھے۔ کمیشن نے قرار دیا کہ کسی تجارتی انجمن کی جانب سے غیر پابند سفارشات بھی مسابقت کو محدود کرسکتی ہیں، اگر وہ ارکان کے آزادانہ تجارتی فیصلوں پر اثر انداز ہوں۔

کمیشن نے پی وی ایم اے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت حریف کاروباری اداروں کو اپنی قیمتیں آزادانہ طور پر طے کرنے کی آزادی برقرار رکھنا ضروری ہے۔

کمیشن نے الگ سے یہ بھی قرار دیا کہ اے پی ای او ٹی او اے کے قطار کے نظام کے ذریعے کاروبار کے حصول میں آزادانہ مسابقت کی اجازت دینے کے بجائے ٹینکر مالکان کے درمیان ترسیلی کھیپیں تقسیم کی جاتی تھیں۔ ایسوسی ایشن کھیپیں اٹھانے کے لیے ’’پرچیاں‘‘ جاری کرتی اور اس نظام پر عمل درآمد یقینی بناتی تھی۔ سی سی پی کے مطابق ستمبر 2023 کے ایک سرکلر میں مختص شرائط کی خلاف ورزی پر ہر ٹینکر اور اس کے مالک پر 5 لاکھ روپے جرمانہ مقرر کیا گیا تھا۔

کمیشن نے متعلقہ مارکیٹ کو پاکستان بھر میں خوردنی تیل، گھی اور بناسپتی چربی کی سڑک کے ذریعے نقل وحمل کی خدمات قرار دیا۔

جرمانے کی رقم طے کرتے ہوئے کمیشن نے اے پی ای او ٹی او اے کی مارکیٹ میں نمایاں حیثیت، تقریباً 6 سال تک قیمتوں کے تعین سے متعلق سرگرمیوں کے جاری رہنے، اعلیٰ انتظامیہ کی شمولیت اور کارروائی شروع ہونے کے بعد بھی نرخوں میں ردوبدل جاری رکھنے جیسے عوامل کو مدنظر رکھا۔

اے پی ای او ٹی او اے کو فوری طور پر مسابقت مخالف طریقہ کار ختم کرنے، پہلے سے جاری نرخوں کے سرکلرز واپس لینے اور مارکیٹ کی تقسیم کا باعث بننے والے قطار کے نظام کو ختم کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ اسے اردو اور انگریزی کے دو، دو قومی اخبارات میں نوٹس شائع کرنا ہوگا، جس میں واضح کیا جائے کہ ٹینکر مالکان نقل وحمل کے نرخ آزادانہ طور پر طے کرنے اور ایسوسی ایشن کی رکنیت سے قطع نظر کھیپیں اٹھانے میں آزاد ہیں۔

جرمانے کی رقم جمع کرانے اور فیصلے پر عمل درآمد کی رپورٹ 60 روز کے اندر پیش کرنا ہوگی۔ عدم تعمیل کی صورت میں روزانہ 50 ہزار روپے اضافی جرمانہ اور دفعہ 38 کے تحت ممکنہ فوجداری کارروائی کی جاسکتی ہے۔

 


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے