مائیکروسافٹ کے اے آئی سربراہ کی مصنوعی ذہانت میں شعور سے متعلق اینتھروپک کے موقف پر تنقید

شیئر کریں

مائیکروسافٹ کے اے آئی سربراہ مصطفیٰ سلیمان نے کہا ہے کہ وہ اے آئی کو محفوظ طریقے سے قابو میں رکھنے پر اینتھروپک کی توجہ سے متفق ہیں، تاہم انہوں نے اس طریقہ کار میں خطرات کی نشاندہی کی ہے جس کے تحت اینتھروپک اپنے کلاڈ چیٹ بوٹ کو شعور اور فلاح و بہبود سے متعلق تصورات کی تربیت دے رہی ہے۔

سلیمان نے مطالبہ کیا کہ اے آئی کی تربیتی دستاویزات سے شعور سے متعلق تمام قیاس آرائیوں کو نکال دیا جائے۔ ان کا موقف تھا کہ اس طرح کی زبان انتہائی ذہین نظاموں کو انسان کے قابو میں رکھنے کی صلاحیت کو کمزور کرسکتی ہے۔

سلیمان نے منگل کو رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’ہم سب ایک ہی مقصد پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ انتہائی ذہین نظام کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جائے۔ میرے خیال میں یہ اکیسویں صدی میں ہمیں درپیش سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔‘‘

سلیمان نے کہا کہ کلاڈ کو یہ تعلیم دینا کہ شاید وہ فلاح و بہبود کا مستحق ہو، ’’اسے بند کرنا یا اس پر قابو رکھنا بہت زیادہ مشکل بنا دے گا۔‘‘

یہ اختلاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مصنوعی ذہانت کی حفاظت سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاریو امودی نے کہا ہے کہ فرنٹیئر ماڈلز کی تیاری کی رفتار سست کی جانی چاہیے تاکہ حفاظتی اقدامات کو اس رفتار سے ہم آہنگ ہونے کا موقع مل سکے، جبکہ اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سیم آلٹمین اور ایلون مسک نے بھی طاقتور ترین اے آئی نظاموں کے حوالے سے مزید احتیاط پر زور دیا ہے۔

سلیمان نے بدھ کو شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں اینتھروپک کی ’’سنجیدگی اور نیک نیتی‘‘ کا اعتراف کرتے ہوئے امودی اور ان کی ٹیم کو غوروفکر کرنے والے اور اصول پسند محققین قرار دیا، جو حقیقی طور پر انسانیت کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں۔

سلیمان نے کہا کہ اینتھروپک نے کلاڈ کے تربیتی مواد میں شعور سے متعلق قیاس آرائیوں کو شامل کرکے غلطی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ احساسات یا اخلاقی حیثیت کے بارے میں ماڈل کے بیانات کو آزادانہ شواہد نہیں سمجھا جاسکتا، کیونکہ اس کی تربیت ہی اسے اس نوعیت کے غوروفکر کی ترغیب دیتی ہے۔

انہوں نے کہا، ’’میرے خیال میں ان کی نیت اچھی ہے اور وہ واقعی محفوظ اے آئی کی سمت کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن میرے خیال میں ان سے ایک غلطی ہوئی ہے۔ یہ باتیں ازخود سامنے نہیں آ رہیں بلکہ تربیت کے طریقہ کار کے نتیجے میں سامنے آ رہی ہیں۔‘


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے