کینیڈین کان کنی کمپنیوں کے وفد کی پاکستان میں ہونے والے آئندہ معدنیات سرمایہ کاری فورم میں شرکت متوقع ہے جب کہ اسلام آباد معدنیات کی تلاش، کان کنی اور متعلقہ شعبوں میں مزید غیر ملکی سرمایہ کاری راغب کرنے کی کوشش کررہا ہے۔
یہ پیشرفت وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان اور پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔
کینیڈین ہائی کمشنر نے کہا کہ معدنیات کی تلاش، کان کنی کی خدمات، آلات اور سپلائی چینز کے شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کا ایک مضبوط وفد پاکستان میں ہونے والے آئندہ معدنیات سرمایہ کاری فورم میں شرکت کرے گا۔
وفاقی وزیر جام کمال نے کینیڈین کمپنیوں کی دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کان کنی حکومت کے ترجیحی شعبوں میں شامل ہے۔ ملاقات میں زراعت اور غذائی تحفظ کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں جانب سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ اور تحفظ کے معاہدے (FIPA) پر مذاکرات کو تیز کرنے کے امور بھی زیر بحث آئے۔
دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ ایف آئی پی اے مذاکرات کا آئندہ دور جو اکتوبر کے پہلے ہفتے میں متوقع ہے، زیر التوا معاملات حل کرنے اور معاہدے پر اتفاق رائے کی جانب ٹھوس پیش رفت کا اہم موقع فراہم کرے گا۔
کینیڈین ہائی کمشنر نے ایف آئی پی اے کو پاکستان میں کینیڈین سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے ایک بنیادی قدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ قانونی تحفظ، ثالثی اور تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے ذریعے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرے گا جبکہ مزید مشترکہ منصوبوں اور بالآخر وسیع تر تجارتی معاہدوں کی راہ بھی ہموار کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ کینیڈین کمپنیاں پاکستان کی بڑی صارف منڈی کے حجم اور صلاحیت کو تیزی سے تسلیم کررہی ہیں تاہم مزید سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک قابلِ پیش گوئی اور محفوظ سرمایہ کاری کا فریم ورک ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان نژاد 3 لاکھ سے زائد کینیڈین شہریوں کے لیے بھی ایک مثبت پیغام ہوگا جو سرمایہ کاری اور کاروباری روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر جام کمال نے کینیڈین سفیر کو مذاکرات میں پیش رفت کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ حکومت سرمایہ کاروں کے جائز تحفظات دور کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آئندہ مذاکراتی دور سے قبل تیاری کے لیے مشاورت کا عمل مکمل کیا جائے تاکہ اختلافات کم کرنے اور عملی حل تلاش کرنے میں مدد مل سکے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان بھی کینیڈا کی طرح پُرعزم ہے۔ ہمارا مقصد زیر التوا معاملات حل کرنا اور طویل مدتی اقتصادی تعاون کے لیے مضبوط اور باہمی طور پر مفید فریم ورک قائم کرنا ہے۔
ملاقات میں صاف اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں موجود مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا۔
کینیڈین فریق نے جھمپیر میں مجوزہ ہائبرڈ قابلِ تجدید توانائی منصوبے پر پیش رفت سے آگاہ کیا اور پاکستانی صنعتوں کے لیے شمسی توانائی اور گرین انرجی کے حل فراہم کرنے والی کینیڈین کمپنیوں کی تفصیلات بھی شیئر کیں۔
فریقین نے ڈیری ڈویلپمنٹ، جانوروں کی جینیات (اینمل جینٹکس)، خوردنی تیل، پھلوں کے گودے (کنسنٹریٹس)، فوڈ پروسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن کے شعبوں میں بھی تعاون کے مواقع کا جائزہ لیا۔
جام کمال نے اجناس کی تجارت تک محدود رہنے کے بجائے ایسے مشترکہ منصوبے قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جو پاکستانی زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ کرکے انہیں مشرق وسطیٰ اور دیگر خطوں کی منڈیوں میں برآمد کرسکیں۔
کینیڈین فریق نے پاکستان کی جانب سے کینیڈین کینولا بیج کی بڑھتی ہوئی درآمدات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ مقامی سطح پر اس کی کرشنگ سے خوردنی تیل اور پروٹین سے بھرپور جانوروں کی خوراک کی تیاری کے ذریعے پاکستان کے لیے اضافی قدر پیدا ہوتی ہے۔
دونوں فریقوں نے اتفاق کیا کہ کینولا کی پروسیسنگ، برانڈنگ اور برآمدات پر مبنی مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں مزید تعاون سے کسانوں، صنعت اور صارفین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ملاقات میں ایوی ایشن اور ایرو اسپیس کے شعبوں میں مواقع پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جن میں طیاروں کی لیزنگ، علاقائی فضائی رابطوں اور کینیڈین ایوی ایشن کمپنیوں کے ساتھ تعاون شامل ہے۔ فریقین نے پی آئی اے کی براہِ راست ٹورنٹو سروس کی اہمیت کو بھی تسلیم کیا جو پاکستان اور شمالی امریکا کے درمیان واحد براہِ راست فضائی رابطہ ہے جبکہ دونوں جانب سے کینیڈا میں مقیم پاکستانی برادری کی بڑی تعداد کے باعث پیدا ہونے والے نمایاں امکانات کو بھی اجاگر کیا گیا۔
جام کمال نے کہا کہ پاکستان کا تزویراتی محلِ وقوع، وسیع ہوتی ہوئی مارکیٹ اور چین، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے ساتھ رابطے کینیڈین کمپنیوں کے لیے نمایاں مواقع فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے تجارتی طور پر قابلِ عمل شراکت داریوں کے فروغ کے لیے پاکستانی کاروباری اداروں، کینیڈین سرمایہ کاروں اور تیسرے ممالک کی منڈیوں میں خریداروں کے درمیان روابط قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
کینیڈین ہائی کمشنر نے بین الاقوامی تجارت کو متنوع بنانے اور ایشیائی منڈیوں کے ساتھ روابط مزید مضبوط کرنے میں کینیڈا کی دلچسپی کا اعادہ کیا۔




