سعودی عرب پر حوثیوں کے نئے حملوں اور خلیج میں بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس پیر کو تقریباً 1.5 فیصد گرگیا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں انڈیکس ابتدا میں فروخت کے دباؤ کا شکار رہا اور تیزی سے گرنے کے بعد کاروباری سیشن کے دوران بحال ہونا شروع ہوا۔ انڈیکس دورانِ کاروبار 170,437.72 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا اور ابتدائی خسارے تقریباً پورے کرلیے۔ تاہم یہ بحالی برقرار نہ رہ سکی اور باقی سیشن کے دوران انڈیکس بتدریج اپنی قدر کھوتا رہا۔
دوپہر 2 بجے کے بعد فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا جس کے نتیجے میں انڈیکس 169,000 پوائنٹس کی سطح سے نیچے آگیا اور سہ پہر 3 بجے کے قریب 167,441.63 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک پہنچ گیا۔ کاروباری سیشن کے اختتام پر مارکیٹ میں معمولی بہتری آئی تاہم یہ بحالی دن بھر کے خسارے کو پورا کرنے کے لیے ناکافی رہی۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2,541.20 پوائنٹس یا 1.49 فیصد کی کمی سے 167,970.65 پوائنٹس پر بند ہوا۔
اہم پیش رفت میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ایران اور امریکا کے درمیان جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں دوبارہ اضافے اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع نے گزشتہ ہفتے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا تھا۔
سمندری سکیورٹی، عالمی تجارت میں خلل اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تازہ اضافے کے خدشات کے باعث پی ایس ایکس کا بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس گزشتہ ہفتے 4,816.95 پوائنٹس یا 2.7 فیصد کی ہفتہ وار کمی سے 170,511.86 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی سطح پر بھی ایشیائی حصص بازار پیر کو گر گئے جبکہ سپلائی کے خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں میں دوبارہ تیزی آئی۔ سرمایہ کار رواں ہفتے امریکا اور جاپان میں ممکنہ شرح سود میں اضافے کے لیے بھی تیار ہیں۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 3 فیصد بڑھی جبکہ سعودی عرب اور خلیج میں بحری جہازوں پر نئے حملوں نے عالمی توانائی سپلائی میں جنگی خلل مزید بڑھنے کے خدشات پیدا کیے۔ آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان عمان میں پیر کو ہونے والی ملاقات بھی ملتوی کردی گئی۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب کے ذریعے جہاز رانی کو لاحق خطرات کے باعث تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہ سکتی ہیں، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔
جمعہ کو جاری امریکی صارف قیمتوں کے توقع سے زیادہ اضافے کے اعداد و شمار کے بعد مارکیٹ نے بدھ کو فیڈرل ریزرو کی جانب سے 25 بیسس پوائنٹس شرح سود بڑھانے کے امکان کو 86 فیصد قرار دیا ہے۔
برینٹ فیوچرز 2.6 فیصد اضافے سے 107.36 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 2.4 فیصد بڑھ کر 102.48 ڈالر فی بیرل ہوگیا۔
جاپان کا نکئی 1.7 فیصد، جنوبی کوریا کا اسٹاک مارکیٹ انڈیکس 3.3 فیصد جبکہ جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.8 فیصد گر گیا۔
یورپ میں یورو اسٹاکس 50 فیوچرز 0.5 فیصد، ڈیکس فیوچرز 0.4 فیصد اور ایف ٹی ایس ای فیوچرز 0.1 فیصد نیچے رہے۔ وال اسٹریٹ پر ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.5 فیصد جبکہ نیس ڈیک فیوچرز 1.1 فیصد کم رہے۔
آل شیئرز انڈیکس پر حصص کا کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 687.47 ملین کے مقابلے میں کم ہو کر 570.47 ملین رہ گیا۔
حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 33.70 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 24.67 ارب روپے رہ گئی۔
سینرجیکو پی کے 97.17 ملین حصص کے کاروبار کے ساتھ والیوم لیڈر رہا، اس کے بعد ویوز ہوم (آر) کے 72.90 ملین اور میڈیا ٹائمز لمیٹڈ کے 52.84 ملین حصص کا کاروبار ہوا۔
مجموعی طور پر 492 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 83 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 373 میں کمی اور 36 میں استحکام رہا۔




