بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز لازمی، نیپرا کی الیکٹرسٹی وہیلنگ نیلامی کے عمل میں ترامیم منظور

شیئر کریں

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی ایس ایم او) کی جانب سے تجویز کردہ الیکٹرسٹی وہیلنگ نیلامی کے عمل میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے، تاہم بعض تبدیلیوں کے ساتھ۔ نیپرا نے پہلے مرحلے کی نیلامی میں حصہ لینے والے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے منصوبوں کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز (بی ای ایس ایس) کی تنصیب لازمی قرار دے دی ہے۔

منظور شدہ ترمیم کے تحت، سولر اور ونڈ (شمسی و بادی) منصوبے صرف اسی صورت میں شرکت کے اہل ہوں گے اگر ان کے ساتھ نصب شدہ بی ای ایس ایس کی قابلِ اعتماد صلاحیت (فرم کیپسٹی) متعلقہ قابلِ تجدید توانائی کے پیداواری منصوبے کی کل صلاحیت کا کم از کم 10 فیصد ہو۔

بی ای ایس ایس اور قابلِ تجدید توانائی کے پیداواری منصوبے کی مستحکم صلاحیت کا تعین اور تصدیق مارکیٹ کمرشل کوڈ اور متعلقہ کمرشل کوڈ آپریٹنگ پروسیجر کے تحت کی جائے گی۔

نیپرا نے بتایا کہ وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) کی منظوری سے پہلی وہیلنگ نیلامی کا حجم 200 میگاواٹ سے بڑھا کر 400 میگاواٹ کردیا گیا ہے۔400 میگاواٹ کی نیلامی کے لیے آئی ایس ایم او کے تخمینے کے مطابق 10 فیصد بی ای ایس ایس کی شرط کے تحت تقریباً 40 میگاواٹ مستحکم بیٹری صلاحیت اور تقریباً 160 میگاواٹ آور اسٹوریج توانائی کی صلاحیت درکار ہوگی تاہم یہ متعلقہ ڈسچارج دورانیے کی شرط سے مشروط ہوگی۔

آئی ایس ایم او کی جانب سے کی گئی شبیہ سازی کے مطابق بی ای ایس ایس کی لازمی شرط سے نظام کی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کی بجلی میں کمی میں ہوا سے بجلی کے منصوبوں کے لیے تقریباً 0.3 فیصد پوائنٹس جبکہ شمسی توانائی کے منصوبوں کے لیے تقریباً 1.1 فیصد پوائنٹس کمی ہوسکتی ہے۔

نیپرا نے نشاندہی کی کہ بی ای ایس ایس کے زیادہ نمایاں اور قابلِ پیمائش فوائد منصوبے کی سطح پر سامنے آئے ہیں جہاں اسٹوریج سے ایکویٹی پر منافع بہتر ہوتا ہے اور بجلی میں کمی کے خطرات کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ آئی ایس ایم او کی ماڈلنگ کے مطابق 10 فیصد بی ای ایس ایس شامل کرنے سے بی تھری اور بی فور صارفین کو بجلی فراہم کرنے والے شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے دونوں منصوبوں کی ایکویٹی پر اندرونی شرحِ منافع (آئی آر آر) میں اضافہ ہوا۔

ریگولیٹر نے پہلے مرحلے کی نیلامی کے لیے 10 فیصد کی حد کی منظوری دے دی، حالانکہ مشاورت کے دوران زیادہ تر اسٹیک ہولڈرز نے 20 فیصد بی ای ایس ایس کی شرط کی حمایت کی تھی۔نیپرا نے کہا کہ لازمی حد زیادہ مقرر کرنے سے ابتدائی لاگت اور عمل درآمد کے خطرات بڑھ سکتے ہیں اور بالخصوص چھوٹے شرکاء کی جانب سے نیلامی میں شرکت کی حوصلہ شکنی کا خدشہ ہے۔نیپرا نے آئی ایس ایم او کو ہدایت کی ہے کہ پہلے درخواست برائے تجاویز (آر ایف پی) جاری کرنے سے قبل اپنی معاون مالیاتی ماڈل شائع کرے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے