عالمی غذائی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، ایف اے او

شیئر کریں

اقوام متحدہ کے ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (ایف اے او) نے جمعہ کو کہا کہ عالمی غذائی قیمتیں اگست میں بڑھ کر 2022 کے اواخر کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، کیونکہ ناموافق موسمی حالات اور بحیرۂ اسود میں جنگ کے باعث پیدا ہونے والی تجارتی رکاوٹوں نے بنیادی غذائی اشیا کی رسد کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے۔

یورپ میں شدید گرمی اور خشک سالی، سخت ایل نینو موسمی صورتِ حال کے خدشے اور یوکرین و ایران کی جنگوں کے باعث تجارت میں پیدا ہونے والی افراتفری نے زرعی منڈیوں کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں اناج کی قیمتیں 3 سال کی بلند ترین سطح اور چینی کی قیمت ایک سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

ایف اے او فوڈ پرائس انڈیکس، جو عالمی سطح پر تجارت کی جانے والی غذائی اشیا کی ایک ٹوکری کی ماہانہ قیمتوں میں تبدیلیوں کا جائزہ لیتا ہے، اگست میں اوسطاً 133.3 پوائنٹس رہا، جو جولائی کی نظرثانی شدہ 130.8 پوائنٹس کی سطح سے زیادہ ہے۔

یہ سطح نومبر 2022 کے بعد بلند ترین تھی، تاہم یہ مارچ 2022 کی ریکارڈ بلند سطح سے تقریباً 17 فیصد کم رہی، جو روس کی جانب سے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد ریکارڈ کی گئی تھی۔

ایف اے او کے چیف اکانومسٹ میکسیمو ٹوریرو نے ایک بیان میں کہا، ’’اگست میں عالمی غذائی قیمتوں میں اضافہ اس بات کا انتباہ ہے کہ غذائی منڈیوں میں خطرے کا پریمیم دوبارہ بڑھ رہا ہے۔ موسمیاتی جھٹکے، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور تجارتی رسد کے نظام میں خلل مل کر رسد کے امکانات کو محدود کررہے ہیں۔‘‘ 

ایف اے او کے مطابق اگست میں اناج، نباتاتی تیل، چینی، گوشت اور ڈیری مصنوعات، پانچوں بڑی غذائی اجناس کے قیمت اشاریوں میں اضافہ ہوا۔

یورپ میں شدید موسمی حالات نے مکئی اور شوگر بیٹ کی فصلوں کے ساتھ ساتھ مویشیوں کی پیداوار کے امکانات کو بھی متاثر کیا، جبکہ متوقع ایل نینو موسمی رجحان نے ایشیا میں پام آئل اور چینی کی پیداوار کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے۔ 

بحیرۂ اسود میں بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث روس اور یوکرین سے اناج کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جاری ساڑھے چار سالہ جنگ نے اہم برآمدی راستوں کو متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان تنازع نے فصلوں کے لیے درکار کھاد کی ترسیل پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ 

غذائی اجناس میں ایف اے او کا سیریلز پرائس انڈیکس اگست میں ماہانہ بنیاد پر 2.2 فیصد بڑھ کر مئی 2024 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ نباتاتی تیل کا انڈیکس 0.6 فیصد اضافے سے جون 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر آگیا۔

ادارے کے مطابق چینی کا قیمت اشاریہ 11.9 فیصد بڑھ کر جون 2025 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ برازیل کے اہم وسطی-جنوبی خطے میں پیداوار میں کمی نے یورپ اور ایشیا میں موسمی خدشات کو مزید بڑھا دیا۔

ایک علیحدہ رپورٹ میں ایف اے او نے 2026 میں عالمی اناج کی پیداوار کا تخمینہ جولائی کے سابقہ اندازے کے مقابلے میں 3.4 ملین ٹن کم کرکے 2.980 ارب ٹن کردیا ہے۔ یہ پیداوار 2025 کے مقابلے میں 2.0 فیصد کم ہوگی، جو 2018 کے بعد سالانہ بنیاد پر سب سے بڑی کمی ہے۔

تاہم متوقع پیداوار اب بھی ریکارڈ پر دوسری سب سے بڑی پیداوار ہوگی۔

2026-27 کے اختتام پر عالمی اناج کے ذخائر کا تخمینہ بھی 1.1 فیصد کم کرکے 947.2 ملین ٹن کردیا گیا ہے، جو اب گزشتہ سیزن کے مقابلے میں معمولی ہی زیادہ رہیں گے۔

ایف اے او نے کہا کہ موٹے اناج کے ذخائر کے کم تخمینے نے گندم کے ذخائر میں اضافے کے نظرثانی شدہ اندازے کو مات دے دی۔ گندم کے ذخائر میں متوقع اضافے کی وجہ روس اور یوکرین میں ترسیلی رکاوٹوں کے باعث ذخائر میں ممکنہ اضافے کو قرار دیا گیا ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے