کینیڈا کی جھیل میں نمودار ہونے والا پراسرار جزیرہ چند ہفتوں بعد غائب ہوگیا

شیئر کریں

برٹش کولمبیا: کینیڈا کے ایک دور افتادہ آبی ذخیرے میں اچانک نمودار ہونے والا درختوں سے ڈھکا ایک پراسرار اور دیوہیکل جزیرہ چند ہی ہفتوں بعد غائب ہوگیا، جس نے مقامی افراد اور ماہرین کو حیران کردیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ عجیب و غریب تیرتا ہوا زمینی ٹکڑا برٹش کولمبیا کے ولسٹن ریزروائر میں رواں ماہ کے آغاز میں نظر آیا تھا۔ جزیرے کی تصاویر اور ویڈیوز ایک کشتی بان نے بنائیں، جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔

مقامی شخص راکی ایوری نے جزیرے کو حیرت انگیز نظارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گزشتہ 40 برس کے دوران ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا۔

رپورٹس کے مطابق جزیرے کے اچانک نمودار ہونے پر بعض افراد نے شبہ ظاہر کیا کہ شاید یہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیو یا تصاویر ہوں، تاہم بعد میں سیٹلائٹ تصاویر نے اس پراسرار جزیرے کے حقیقی ہونے کی تصدیق کردی۔

21 جولائی کو حاصل کی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں یہ جزیرہ فنلے بے میں تیرتا ہوا واضح طور پر دکھائی دیا، یہ مقام ڈبلیو اے سی بینیٹ ڈیم سے تقریباً 60 میل مغرب میں واقع ہے،جزیرے کی چوڑائی تقریباً 230 فٹ جبکہ لمبائی 460 فٹ تھی، اس طرح اس کا مجموعی رقبہ تقریباً 1 لاکھ 5 ہزار مربع فٹ بنتا تھا، جو تقریباً دو فٹبال میدانوں کے برابر ہے۔

جزیرے کی سب سے حیران کن بات اس کا محض چند ہفتوں میں نمودار ہونا اور پھر اسی تیزی سے غائب ہوجانا تھی۔ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق 5 اگست تک یہ زمینی ٹکڑا اپنی جگہ سے مکمل طور پر غائب ہوچکا تھا۔

رپورٹس کے مطابق ماہرین کے نزدیک آبی ذخیرے میں پانی کی سطح، زیرِ آب زمین اور نباتات کی حرکت سمیت مختلف قدرتی عوامل ایسے تیرتے ہوئے زمینی ٹکڑوں کی تشکیل اور حرکت کا سبب بن سکتے ہیں، اس مخصوص جزیرے کے اچانک نمودار ہونے اور پھر غائب ہوجانے کی مکمل وجہ تاحال واضح نہیں ہوسکی۔

واقعے نے سوشل میڈیا صارفین میں بھی خاصی دلچسپی پیدا کردی ہے اور پراسرار جزیرے کی تصاویر اور ویڈیوز اب بھی لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے