پاکستان میں جب بھی معیشت، ترقی یا مستقبل کی بات ہوتی ہے تو زیادہ تر گفتگو سڑکوں، صنعتوں یا شہروں کے گرد گھومتی ہے، لیکن ایک حقیقت ایسی بھی ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں یعنی ہمارا سمندر۔ پاکستان کے پاس تقریباً ایک ہزار کلومیٹر طویل ساحلی پٹی موجود ہے، مگر افسوس کہ ہم نے ابھی تک اپنے سمندری وسائل کی مکمل صلاحیت کو نہ سمجھا ہے اور نہ ہی اسے ترقی کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ”بلیو اکانومی“ کو مستقبل کی معیشت قرار دیا جا رہا ہے، اور اس سفر میں خواتین کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم بنتا جا رہا ہے۔
اسی تناظر میں کراچی کے تاریخی مقام کولاچی پیئر پر انٹرنیشنل ڈے فار ویمن اِن میری ٹائم 2026 کے موقع پر ایک منفرد تقریب منعقد کی گئی۔ اس تقریب کا مقصد صرف ایک عالمی دن منانا نہیں تھا بلکہ پاکستان میں خواتین، سمندر، ماحولیات اور معیشت کے درمیان موجود تعلق کو اجاگر کرنا بھی تھا۔ تقریب کا انعقاد بلیو نیٹ پلس، دی ناٹیکل انسٹیٹیوٹ پاکستان برانچ اور کراچی پورٹ ٹرسٹ کے تعاون سے کیا گیا، جس میں ماہرینِ ماحولیات، صحافیوں، طلبہ، اساتذہ، کاروباری شخصیات اور میری ٹائم سیکٹر سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
دنیا اب تیزی سے بلیو اکانومی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ سمندر صرف پانی کا ذخیرہ نہیں بلکہ خوراک، تجارت، روزگار، ماحولیاتی تحفظ، سیاحت اور توانائی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک اپنی معیشت کا بڑا حصہ سمندری وسائل سے حاصل کر رہے ہیں، مگر پاکستان ابھی اس دوڑ میں بہت پیچھے ہے۔
بلیو نیٹ پلس کی بانی ڈاکٹر نزہت خان کی رائے میں پاکستان کے پاس بے پناہ سمندری وسائل موجود ہیں لیکن ان پر تحقیق نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں اب تک سمندر کا صرف پانچ فیصد حصہ مکمل طور پر دریافت کیا جا سکا ہے جبکہ پاکستان نے تو ابھی اپنے سمندر کا پانچ فیصد بھی پوری طرح نہیں جانا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان اپنی میرین بایو ڈائیورسٹی، کورل ریفس، ساحلی ماحولیات اور سمندری حیات پر توجہ دے تو یہ شعبہ نہ صرف معیشت بلکہ ماحولیات کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ وہ اس بات پر بھی زور دیتی ہیں کہ بلیو اکانومی میں خواتین کی شمولیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق خواتین کو صرف دفتری کاموں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ انہیں سمندری تحقیق، ماحولیات، کلائمیٹ جرنلزم، اسکوبا ڈائیونگ اور ساحلی تحقیق جیسے شعبوں میں بھی عملی مواقع دیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق بلیو نیٹ پلس نوجوان خواتین کو اسکوبا ڈائیونگ کی تربیت دے رہا ہے تاکہ وہ سمندر کو قریب سے سمجھ سکیں۔ اس پروگرام کے تحت خواتین کو سمندری حیاتیاتی تنوع، کورلز، میری ٹائم ایکوسسٹم اور ماحولیات کے بارے میں تربیت دی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں کلائمیٹ رپورٹنگ بھی سکھائی جاتی ہے تاکہ خواتین موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی آلودگی جیسے اہم موضوعات پر موثر صحافت کر سکیں۔ یہ پروگرام دراصل خواتین کو صرف تربیت نہیں بلکہ اعتماد اور قیادت بھی دے رہا ہے۔ پاکستان میں اب نوجوان لڑکیاں ان شعبوں میں قدم رکھ رہی ہیں جنہیں کبھی صرف مردوں کے لیے مخصوص سمجھا جاتا تھا۔ یہی تبدیلی مستقبل میں ملک کی سماجی اور معاشی ترقی کا اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔
پاکستان کو اس وقت سب سے بڑا خطرہ کلائمیٹ چینج سے ہے۔ اگر ہم نے اپنے ساحلی علاقوں، مینگروز اور سمندری وسائل کا تحفظ نہ کیا تو مستقبل میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ سندھ کے مینگروز صرف درخت نہیں بلکہ قدرتی حفاظتی دیوار ہیں۔ یہ سمندری طوفانوں، آلودگی اور شدید موسمی اثرات کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ کراچی کو شدید گرمی اور موسمیاتی دباؤ سے بچانے میں سمندر اہم کردار ادا کر رہا ہے، مگر بدقسمتی سے ہم اس کی اہمیت کو پوری طرح سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔
میڈیا کو ماحولیات اور بلیو اکانومی جیسے موضوعات کو زیادہ اہمیت دینی چاہیے۔ صحافی کلائمیٹ جرنلزم کے زریعے کمیونٹیز کے مسائل کو زیادہ موثر انداز میں دنیا کے سامنے لا سکتے ہیں۔
شپنگ، فشریز، ساحلی سیاحت، سمندری تحقیق اور میری ٹائم ٹیکنالوجی مستقبل میں ہزاروں نئی ملازمتوں کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اگر پاکستان اس شعبے میں سرمایہ کاری کرے تو نہ صرف نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔
آج دنیا میں ماحولیات، معیشت اور خواتین کی ترقی کو الگ الگ نہیں دیکھا جا رہا۔ بلیو اکانومی دراصل ان تینوں کو ایک ساتھ جوڑتی ہے۔ پاکستان کے لیے بھی یہی وقت ہے کہ وہ سمندر کو صرف ساحل یا بندرگاہ تک محدود نہ سمجھے بلکہ اسے مستقبل کی ترقی کا دروازہ تصور کرے۔ اگر خواتین کو مواقع، تربیت اور اعتماد دیا جائے تو وہ نہ صرف سمندری شعبے میں کامیاب ہو سکتی ہیں بلکہ پاکستان کی بلیو اکانومی کو بھی نئی سمت دے سکتی ہیں۔ آنے والے برسوں میں شاید یہی خواتین پاکستان کو ایک مضبوط، پائیدار اور ماحول دوست معیشت کی طرف لے جائیں۔


