کرکٹ سمیت روزمرہ زندگی میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ زیادہ تر افراد دائیں ہاتھ سے لکھتے، کھاتے اور کام کرتے ہیں جبکہ نسبتاً کم لوگ بائیں ہاتھ کو ترجیح دیتے ہیں، دنیا بھر میں تقریباً ہر دس میں سے نو افراد دائیں ہاتھ کو زیادہ استعمال کرتے ہیں لیکن اس کی اصل وجہ طویل عرصے سے سائنسی تحقیق کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انسانی دماغ اس رجحان میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، دماغ کے مخصوص حصے جسم کے دائیں یا بائیں حصے کو کنٹرول کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک ہاتھ زیادہ فعال ہو جاتا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق انسانی دماغ کی ساخت اور اس کے مخصوص حصوں کی ترقی اس بات پر اثر انداز ہوتی ہے کہ کون سا ہاتھ زیادہ استعمال ہوگا، یہ رجحان صرف بعد میں نہیں بلکہ ماں کے پیٹ میں ہی ابتدائی طور پر تشکیل پانا شروع ہو جاتا ہے اور بچپن تک واضح ہو جاتا ہے۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ انسانوں کے ارتقائی عمل میں سیدھا چلنا، دماغ کا بڑا ہونا اور سماجی رویے بھی اس رجحان سے جڑے ہوئے ہیں، دماغ کے بائیں حصے کی زیادہ سرگرمی زبان اور منطقی صلاحیتوں سے منسلک ہوتی ہے، جس کے باعث اکثر افراد دائیں ہاتھ کو زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ جینیات کا کردار بھی اہم سمجھا جاتا ہے، لیکن اب تک ایسے واضح جینز کی مکمل شناخت نہیں ہو سکی جو صرف ہاتھ کے استعمال کا تعین کرتے ہوں۔ کچھ مطالعات میں چند جینیاتی عوامل کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم مجموعی طور پر یہ ایک پیچیدہ حیاتیاتی اور ماحولیاتی عمل ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق اگرچہ کئی نظریات موجود ہیں، لیکن ابھی تک یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ انسانوں میں دائیں ہاتھ کی برتری کی اصل اور حتمی وجہ کیا ہے، اور اس پر تحقیق جاری ہے،بعض اوقات لیفٹ ہینڈڈ والدین کے ہاں دائیں ہاتھ استعمال کرنے والے بچے بھی پیدا ہوتے ہیں، جو اس موضوع کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق معاشرتی عوامل بھی اس رجحان پر اثر انداز ہوتے ہیں کیونکہ زیادہ تر اوزار، تعلیمی نظام اور روزمرہ استعمال کی اشیا دائیں ہاتھ کے استعمال کو مدنظر رکھ کر تیار کی جاتی ہیں، جس سے یہ رجحان نسل در نسل مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔




