جنوں بگڑی ہوئی حالت کے بننے کا گماں کب تک – آل رضا رضا

شیئر کریں

جنوں بگڑی ہوئی حالت کے بننے کا گماں کب تک
گریباں جا چکا کب کا رہیں گی دھجیاں کب تک

محبت نا شناسوں میں محبت کی فغاں کب تک
نہ جانے کٹ کے دل سے کام دے گی اب زباں کب تک

تہیہ کر چکے جس بے وفا کو بھول جانے کا
اسی کی یاد آخر دل میں لے گی چٹکیاں کب تک

ادھر تنکا اٹھایا اور ادھر پھر برق نے پوچھا
کہ پھر تیار ہو جائے گا بن کر آشیاں کب تک

کھلے کچھ پیکر امید یا یہ وہم مٹ جائے
نظر آئیں گی دھندھلی دھندھلی سی پرچھائیاں کب تک

تمہاری آس پر کس کس طرح دل کو نہ سمجھایا
مگر یہ اہتمام خود فریبی مہرباں کب تک

رضاؔ کب سے یہی فریاد ہے باغ تمنا کی
مجھے لوٹے چلا جائے گا میرا باغباں کب تک


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے