ایران کی ایٹمی صلاحیت پر دہرا بین الاقوامی معیار

شیئر کریں

​ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے سے متعلق قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ نتیجہ جو بھی نکلے، ایران اپنے جوہری پروگرام کے حصول سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ سنہ 1968 کے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) جس پر ایران نے بھی دستخط کر رکھے ہیں، کے مطابق ایرانی جوہری توانائی کے پرامن استعمال کی جو ضمانتیں مانگی جا رہی ہیں، ان کو عملی جامہ کیسے پہنایا جا سکتا ہے؟

​ایٹمی توانائی کے ماہرین کے مطابق، ایران اپنا افزودہ یورینیم ششماہی بنیادوں پر ملک سے باہر کسی دوسرے ملک منتقل کر سکتا ہے، اور وہاں سے اس افزودہ یورینیم کے بدلے توانائی کے حصول کے لیے جوہری ایندھن کی سلاخیں (Fuel Rods) حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران پر پلوٹونیم ری پروسیسنگ کی پابندی عائد کی جا سکتی ہے تاکہ وہ فیزائل مواد اور ہتھیار بنانے کے لیے درکار یورینیم پیدا نہ کر سکے۔ موجودہ تناظر میں صرف روس ہی کو ایران کا اعتماد حاصل ہے۔

​امسال 29 اپریل کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں اس بات کا تذکرہ ہوا تھا، جس میں صدر پیوٹن نے روس میں ممکنہ طور پر ایرانی افزودہ یورینیم لینے اور اس کے بدلے جوہری ایندھن کی سلاخیں ایران کو دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔ ٹرمپ کے مطابق، ایران اور روس کے درمیان ہونے والے ایسے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں IAEA کی شراکت داری بھی ناگزیر ہے۔

​امریکی منطق کے مطابق ایران کی جوہری ایندھن کی پیداوار کو محدود کیا جانا ضروری ہے تاکہ وہ 20 فیصد سے زائد یورینیم کی افزودگی کر کے جوہری ہتھیار بنانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

​سنہ 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے کے تحت ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز کو معائنے کے لیے اپنی تنصیبات تک رسائی دینے کا پابند ہے۔ لیکن جب تک امریکہ کے ساتھ کوئی مستقل امن معاہدہ نہیں ہوتا، ایران اس معاہدے کی پاسداری پر آمادہ دکھائی نہیں دیتا۔ ایران کی طرف سے ایک مضبوط دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ایجنسی (IAEA) پاکستان، بھارت اور اسرائیل کی جوہری تنصیبات کا معائنہ نہیں کرتی، جنہوں نے این پی ٹی پر دستخط بھی نہیں کیے اور یہ ممالک جوہری معاملات میں اپنی من مانی کرتے ہیں۔ مزید برآں، ایجنسی کا رویہ برازیل کے ساتھ بھی نرم ہے، اور اسی کی دہائی میں جنوبی افریقہ بھی ایسے معائنوں سے مبرا رہا تھا۔

​این پی ٹی کے آرٹیکل 4 کے مطابق، معاہدے پر دستخط کرنے والے تمام ممالک کو برابری کی بنیاد پر پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کی تحقیق، پیداوار اور استعمال کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا، اور انہیں 3 سے 5 فیصد تک یورینیم افزودہ کرنے کی اجازت حاصل ہے۔

​چنانچہ ایران کو یورینیم کی افزودگی سے تو نہیں روکا جا سکتا، البتہ اس کی جوہری ایندھن کی پیداوار کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایران 20 فیصد تک یورینیم افزودہ کر لیتا ہے تو وہ جوہری ہتھیار بنانے کے قابل ہو جائے گا، لیکن اس وقت حتمی طور پر کسی کو معلوم نہیں کہ ایران کس حد تک یورینیم کی افزودگی کر چکا ہے۔

​اسرائیل اور امریکہ کے ممکنہ حملوں کے باعث موجودہ حالات میں ایرانی حکومتی اہلکاروں کے ارادے انتہائی مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔ وہ اپنے ملک بشمول جوہری تنصیبات کا دفاع کرنا اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس وقت ایرانی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان یا ان کی ممکنہ مرمت کی حد کا درست اندازہ کسی کو نہیں ہے۔

​بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے پاس بھی اس حوالے سے کوئی حتمی معلومات نہیں ہیں کیونکہ ان کے پاس کنٹرول اور نگرانی کے اختیارات ختم ہو چکے ہیں۔ وہ صرف قیاس آرائیاں ہی کر سکتے ہیں کہ تہران کے قریب تحقیقاتی ری ایکٹر، بوشہر کا جوہری بجلی گھر، اور فوردو یا نتانز میں یورینیم افزودگی کی زیرِ زمین تنصیبات اس وقت کس حالت میں ہیں؟ کیا ان کی سپلائی چین میں رکاوٹیں آئی ہیں؟ یا امریکی بمباری کے نتیجے میں کتنے ایرانی سائنسدان جاں بحق ہوئے ہیں؟

بنیادی سوال جس پر عالمی برادری بے بس اور گنگ نظر آتی ہے یہ ہے کہ مشرق وسطی میں اسرائیل کو تو ہر طرح کی من مانی، ظلم و زیادتی کی کھلی چھوٹ ہے لیکن ایران اپنے دفاع کے لئے بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے کا حقدار نہیں ہے، یہ کھلا دہرا معیار نہیں تو اور کیا ہے؟ مشرق وسطی کی تو ساری قیادت لگتا ہے خوف کے سائے اور اپنے اقتدار کی بقا کی جدوجہد میں محصور و مصروف ہے۔ اسرائیل کے مسلسل ظلم و زیادتی کو وہ برداشت کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن ایران کو بے بس کرنے کے لئے سامراجی قوتوں کے آلی کار بنے ہوئے ہیں۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ یہ پالیسی اور طرز عمل ہمیشہ ذلت و خواری پر ختم ہوئی ہے۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے