سر جھکائے ہوئے اک راہ پہ چلتے رہیے – زہرا نگاہ

شیئر کریں

سر جھکائے ہوئے اک راہ پہ چلتے رہیے
اک صدا کان میں آئے گی وہ سنتے رہیے

مڑ کے دیکھیں گے تو پتھر نہیں ہو جائیں گے آپ
مڑ کے بھی دیکھیے اور آگے بھی چلتے رہیے

ایسے سناٹے میں جب بار ہو آواز نفس
صورت دل ہی کسی دل میں دھڑکتے رہیے


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے