ہمارے شہر کاروں کے لئے ہیں یا انسانوں کے لئے؟

شیئر کریں

پاکستان کے بڑے شہروں میں نئے فلائی اوور، انڈر پاس یا سڑک کی توسیع کا اعلانات مسلسل ہوتے رہتے ہیں۔ ہر نئی شہری اسکیم کا مرکز عموماً گاڑیاں ہوتی ہیں : ٹریفک کو تیز کرنا، سگنل کم کرنا، اور سڑکوں کو مزید چوڑا کرنا۔ مگر ایک بنیادی سوال مسلسل نظر انداز ہو رہا ہے : کیا شہر صرف گاڑیوں کے  لیے بنائے جاتے ہیں، یا انسانوں کے لیے بھی؟

یہ سوال محض شہری منصوبہ بندی کا نہیں بلکہ معیشت، ماحول، صحت اور سماجی انصاف کا بھی ہے۔ کیونکہ ایک شہر صرف اس بات سے کامیاب نہیں ہوتا کہ وہاں گاڑیاں کتنی تیزی سے چلتی ہیں، بلکہ اس سے ہوتا ہے کہ وہاں لوگ کتنی آسانی، حفاظت اور عزت کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔

پاکستان میں شہری ترقی کا ماڈل گزشتہ کئی دہائیوں سے بڑی حد تک ”کار مرکوز“ رہا ہے۔ یعنی شہر اس انداز میں بنائے گئے جہاں نجی گاڑی کو ترجیح حاصل ہو، جبکہ پیدل چلنے والوں، سائیکل استعمال کرنے والوں اور پبلک ٹرانسپورٹ پر انحصار کرنے والے شہریوں کو ثانوی حیثیت دی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان میں اکثریت کے پاس اپنی گاڑی موجود ہی نہیں، مگر شہروں کا ڈھانچہ اقلیت کی نقل و حرکت کے مطابق ترتیب دیا جا رہا ہے۔

کراچی، لاہور، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں اربوں روپے سڑکوں، فلائی اوورز اور سگنل فری کوریڈورز پر خرچ کیے گئے، مگر فٹ پاتھ، محفوظ پیدل راستے، سایہ دار گزرگاہیں، اور معیاری پبلک ٹرانسپورٹ اکثر ترجیحات میں شامل نہیں رہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ شہر بظاہر جدید تو نظر آنے لگے، مگر عام شہری کے لیے زیادہ مشکل، زیادہ مہنگے اور زیادہ غیر محفوظ ہوتے گئے۔

شہری معیشت میں ”واک ایبلٹی“ یعنی پیدل چلنے کے قابل شہر ایک اہم تصور بن چکا ہے۔ دنیا بھر میں یہ سمجھا جا رہا ہے کہ ایسے شہر جہاں لوگ آسانی سے پیدل چل سکیں، وہاں نہ صرف صحت بہتر ہوتی ہے بلکہ مقامی کاروبار، سماجی روابط اور شہری سرگرمیاں بھی زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ مگر پاکستان کے بیشتر شہروں میں پیدل چلنا خود ایک خطرہ بن چکا ہے۔ ٹوٹی ہوئی فٹ پاتھیں، تجاوزات، غیر محفوظ سڑکیں، اور تیز رفتار ٹریفک شہریوں کو گاڑی کے بغیر زندگی گزارنے سے تقریباً محروم کر دیتے ہیں۔

اس سے بھی بڑا مسئلہ ”فلائی اوور سیاست“ ہے۔ پاکستان میں اکثر شہری ترقی کو کنکریٹ کے بڑے منصوبوں سے جوڑا جاتا ہے کیونکہ وہ فوری طور پر نظر آتے ہیں اور سیاسی طور پر زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ ایک فلائی اوور یا انڈر پاس کی افتتاحی تقریب سیاسی کامیابی سمجھی جاتی ہے، جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ، فٹ پاتھ یا سائیکل ٹریک جیسے منصوبے کم توجہ حاصل کرتے ہیں۔ مگر دنیا بھر کا تجربہ بتاتا ہے کہ صرف سڑکیں بڑھانے سے ٹریفک کا مسئلہ مستقل حل نہیں ہوتا۔ اسے ماہرین ”Induced Demand“ کہتے ہیں، یعنی جتنی زیادہ سڑکیں بنائی جائیں، اتنی ہی زیادہ گاڑیاں سڑکوں پر آ جاتی ہیں۔

پاکستان کے شہروں میں بڑھتی ہوئی گاڑیاں صرف ٹریفک کا مسئلہ نہیں بلکہ ماحولیاتی بحران بھی پیدا کر رہی ہیں۔ فضائی آلودگی، کاربن اخراج، شور، اور شہری درجہ حرارت میں اضافہ اب صحتِ عامہ کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ لاہور اور کراچی جیسے شہر کئی مرتبہ فضائی آلودگی کے خطرناک درجوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس صورتحال میں مزید گاڑیوں پر مبنی شہری ماڈل نہ صرف غیر پائیدار ہے بلکہ اقتصادی طور پر بھی مہنگا پڑ رہا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ دنیا کے کئی ترقی یافتہ شہر اب ”کار سینٹرڈ“ ماڈل سے واپس ہٹ رہے ہیں۔ پیرس، کوپن ہیگن، ایمسٹرڈیم اور بارسلونا جیسے شہر پیدل چلنے، سائیکلنگ، اور پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ کئی علاقوں میں گاڑیوں کی رسائی محدود کی جا رہی ہے تاکہ شہری زندگی زیادہ انسانی، صحت مند اور ماحول دوست بن سکے۔ یہاں تک کہ خلیجی ممالک، جو کبھی مکمل طور پر گاڑیوں پر منحصر سمجھے جاتے تھے، اب واک ایبل شہروں، میٹرو سسٹمز اور مخلوط شہری ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان میں بھی مسئلے کا حل صرف مزید سڑکیں بنانا نہیں بلکہ شہری ترجیحات کو تبدیل کرنا ہے۔ سب سے پہلے، پبلک ٹرانسپورٹ کو شہری منصوبہ بندی کا مرکز بنانا ہو گا۔ بس، میٹرو، اور علاقائی ٹرانزٹ نظام صرف سفری سہولت نہیں بلکہ معاشی مساوات کا ذریعہ بھی ہوتے ہیں۔ جب ایک مزدور، طالب علم یا ملازم کم خرچ اور محفوظ طریقے سے سفر کر سکے تو شہر زیادہ پیداواری بنتا ہے۔

دوسری اہم ضرورت پیدل چلنے والوں کو شہری منصوبہ بندی کے مرکز میں لانا ہے۔ محفوظ فٹ پاتھ، سایہ دار راستے، سڑک عبور کرنے کی سہولت، اور مخلوط استعمال والے محلے شہری معیارِ زندگی کو بہتر بناتے ہیں۔ ایک اچھا شہر وہ نہیں جہاں گاڑی تیزی سے چلے، بلکہ وہ ہے جہاں ایک بچہ، بزرگ یا خاتون بھی خود کو محفوظ محسوس کرے۔

تیسری اہم تبدیلی ماحولیاتی نقطۂ نظر سے ضروری ہے۔ اگر پاکستان نے شہری پھیلاؤ، نجی گاڑیوں پر انحصار، اور غیر متوازن انفراسٹرکچر ماڈل جاری رکھا تو آنے والے برسوں میں فضائی آلودگی، توانائی کے دباؤ اور شہری گرمی کے مسائل مزید سنگین ہوں گے۔ پائیدار شہری ترقی اب صرف ماحولیاتی نعرہ نہیں بلکہ معاشی ضرورت بن چکی ہے۔

پاکستان کے شہر اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں۔ ہم یا تو ایسے شہر بنا سکتے ہیں جہاں کنکریٹ، گاڑیاں اور سگنل غالب ہوں، یا ایسے شہر جہاں انسان، معیشت اور معیارِ زندگی مرکز میں ہوں۔ کیونکہ آخرکار ایک کامیاب شہر وہ نہیں جہاں گاڑیاں آرام سے چلیں، بلکہ وہ ہے جہاں لوگ بہتر زندگی گزار سکیں۔


شیئر کریں

ایک تبصرہ چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے